عامر خان ہر فلائٹ سے پہلے اپنے کزن کے نام 'خفیہ نوٹ' کیوں لکھتے ہیں؟

دونوں ماضی میں کئی کامیاب فلموں میں ساتھ کام کر چکے ہیں۔
اپ ڈیٹ 01 مئ 2026 11:07am

بولی ووڈ کے سپر اسٹار عامر خان نے ایک دلچسپ انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ ہر بار جہاز کا سفر کرنے سے پہلے اپنے کزن اور ہدایت کار منصور خان کے لیے ایک خاص نوٹ لکھ کر چھوڑتے ہیں۔

منصورخان ہدایتکاری سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں مگر وہ آج بھی اہنے کزن عامر خان کے لیے ایک قابلِ اعتماد ساتھی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جب بھی عامر کو اپنی کسی فلم میں نئی ٹیم میں خواہ وہ نیا ہدایتکار ہو یا نیا فنکار کے لیے رہنمائی درکار ہوتی ہے، وہ منصور کو بطور کریئیٹو پروڈیوسر شامل کر لیتے ہیں۔ اس کی مثالیں ’جانے تو یا جانے نا‘ اور حال ہی میں جنید خان کی آنے والی فلم ’ایک دن‘ ہے جس میں انہوں نے پردے کے پیچھے رہ کر اہم کردار ادا کیا۔

ایک انٹرویو میں عامر خان نے ہنستے ہوئے اپنی ایک دلچسپ عادت کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ہر فلائٹ سے پہلے ایک نوٹ لکھ کر منصور خان کو دے دیتے ہیں۔

ان کے مطابق انہیں ہمیشہ یہ ڈر رہتا ہے کہ اگر کسی فضائی حادثے میں ان کی موت ہو گئی، تو ان کی فلموں کا کام ادھورا رہ جائے گا۔ اسی لیے وہ ہر فلائٹ سے پہلے منصور خان کے نام ایک نوٹ لکھتے ہیں، جس میں ہدایت دی جاتی ہے کہ اگر انہیں کچھ ہوجائے تو ان کے بعد فلم کے تمام اہم فیصلے منصور خان ہی کریں گے۔ عامر خان کے مطابق، وہ منصور خان کی سمجھ بوجھ پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔

اداکار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنی سابقہ اہلیہ کرن راؤ کو بھی کہہ رکھا ہے کہ اگر انہیں کچھ ہو جائے، تو فلموں سے جڑے تمام معاملات میں منصور خان سے ہی مشورہ کیا جائے۔

عامر خان کا ماننا ہے کہ منصور خان کا فلمی شعور بہت زبردست ہے اور وہ کسی بھی فلم کو خراب نہیں ہونے دیں گے۔

دوسری جانب منصور خان نے اس بات پر حیرت اور دباؤ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حال ہی میں اس بات کا علم ہوا اور وہ عامر کے اعتماد کو بہت بڑی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

یہ دونوں کزن ماضی میں کئی کامیاب فلموں میں ساتھ کام کر چکے ہیں، جن میں ’قیامت سے قیامت تک‘ اور’جو جیتا وہ سکندر‘ شامل ہیں۔

مضبوط تعلقات کے باوجود دونوں کزنز کے درمیان اکثر فلمی باتوں پر بحث بھی ہوتی ہے۔ منصور خان نے مذاق میں کہا کہ عامر خان فلموں سے فحش یا برے مناظر کٹوا کر انہیں ’بورنگ‘ بنا دیتے ہیں، جبکہ عامر خان کا کہنا ہے کہ فلم کی سچائی کو برقرار رکھنا سب سے اہم ہوتا ہے، چاہے اس کے لیے مختلف اسٹائل ہی کیوں نہ اپنانا پڑے۔

زبان کے استعمال پر بھی دونوں کے درمیان بحث ہوتی رہی ہے۔ عامر کا ماننا ہے کہ ہندی فلموں میں غیر ضروری انگریزی الفاظ شامل کرنے سے عام ناظرین کے لیے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ان کے مطابق اگر ایک جملے میں بھی اجنبی زبان کا لفظ آ جائے تو وہ پورے مکالمے کا مفہوم متاثر کر سکتا ہے، اسی لیے وہ فلموں میں سادہ اور عام فہم زبان کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔

اپنے بیٹے جنید خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے عامر خان نے کہا کہ ہر فنکار کا اپنا ایک سفر ہوتا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کی اداکاری سے مطمئن ہیں اور انہیں یقین ہے کہ کامیابی اپنے وقت پر ضرور ملے گی۔