'قبائلی سردار شناختی دستاویزات کی تصدیق کے مجاز نہیں': وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ

علاقائی روایات کو عدالتی توثیق نہیں دی جا سکتی، عدالتی فیصلہ
اپ ڈیٹ 02 مئ 2026 09:46am

اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ قبائلی سردار شناختی کارڈ اور ڈومیسائل کی تصدیق کے مجاز نہیں ہیں، عدالت نے واضح کیا کہ اس حوالے سے اختیارات صرف قانون کے تحت مقررہ حکام کے پاس ہیں۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ نے سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق سے متعلق کیس کا 12 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

فیصلے کے مطابق شناختی کارڈ اور ڈومیسائل کا اجراء باقاعدہ قانون کے تحت کیا جاتا ہے اور ان دستاویزات کی تصدیق کے لیے بھی قانون میں مجاز حکام کو ہی اختیار دیا گیا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ کسی قبائلی سردار کو قانون سے ہٹ کر ایسی دستاویزات کی تصدیق کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ قانون کے مطابق سرداری نظام 1976 میں ختم ہو چکا ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہی۔

تحریری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ علاقائی روایات کو عدالتی توثیق نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت کے اس فیصلے کو شناختی دستاویزات کے نظام میں شفافیت اور قانونی عملداری کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔