غزہ مشن کی ناکامی کے بعد ٹرمپ کا اہم مرکز بند، امن منصوبہ خطرے میں پڑ گیا

اس مرکز کی بندش صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دی جا رہی ہے۔
شائع 02 مئ 2026 09:56am

غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی اور فلسطینیوں تک امداد کی ترسیل کو بہتر بنانے کے لیے اسرائیل میں قائم امریکی فوج کے زیرِ انتظام ایک اہم مرکز کو بند کرنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر (سی ایم سی سی) نامی اس مرکز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ناقدین کا خیال ہے کہ یہ مرکز اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اس مرکز کی بندش صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دی جا رہی ہے جو پہلے ہی اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد اسرائیل کے مسلسل حملوں اور حماس کے ہتھیار ڈالنے سے انکار کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔

رپورٹ کے مطابق سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امداد کی فراہمی اور جنگ بندی کی نگرانی کی امریکی کوششیں کتنی مشکل ہو چکی ہیں، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب اسرائیل مزید فلسطینی علاقوں پر قبضے کر رہا ہے اور حماس اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اس مرکز کی تمام ذمہ داریاں اب ایک بین الاقوامی سیکیورٹی مشن کے حوالے کر دی جائیں گی جس کی کمان امریکا کے پاس ہوگی اور اسے غزہ میں تعینات کیا جائے گا۔ اگرچہ امریکی حکام اسے نظام کی بہتری قرار دے رہے ہیں، لیکن سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر اس مشن سے پرانے مرکز کا کردار ختم ہو جائے گا۔

اس تبدیلی کے بعد امریکی فوجیوں کی تعداد 190 سے کم ہو کر صرف 40 رہ جائے گی اور ان کی جگہ دوسرے ممالک کے سویلین عملے کو شامل کیا جائے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ’بورڈ آف پیس‘ کے ایک عہدیدار نے اس مرکز کے مستقبل پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا لیکن یہ ضرور کہا کہ یہ مرکز امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے اور ٹرمپ کے منصوبے کو آگے بڑھانے میں ’انتہائی اہم کردار‘ ادا کر رہا ہے۔

دوسری جانب ایک سفارت کار کا کہنا ہے کہ مرکز کی اہمیت اب اتنی کم ہو چکی ہے کہ کچھ ممالک کے نمائندے مہینے میں صرف ایک بار یہاں آتے ہیں۔

دوسری جانب غزہ کی صورتحال اب بھی انتہائی سنگین ہے جہاں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں 800 سے زائد فلسطینی مارے جا چکےہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے حماس کے خطرے کو روکنے کے لیے ہیں، جبکہ فلسطینی اسے اپنی سرزمین پر قبضے کا بہانہ قرار دیتے ہیں۔

امداد کی سطح بھی جوں کی توں ہے کیونکہ اسرائیل بہت سی اشیاء، جیسے خیموں کی لکڑیاں اور ملبہ ہٹانے والی مشینری کو فوجی استعمال کا ڈر بتا کر غزہ لے جانے کی اجازت نہیں دے رہا۔

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے عہدیدار کے مطابق، غزہ کو درحقیقت ایک ایسی پائیدار سویلین انتظامیہ کی ضرورت ہے جو اسے امداد پر انحصار اور تشدد کے چکر سے نجات دلا سکے۔