کراچی میں ایک اور منشیات سپلائی نیٹ ورک بے نقاب، خاتون سمیت 3 افراد گرفتار
کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آئس اور ہیروئن کی سپلائی میں ملوث ایک مبینہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے فوزیہ بلوچ، اس کی بہن اور ایک اور ساتھی کو گرفتار کرلیا۔ تفتیش کے دوران پشاور سے کراچی تک منشیات سپلائی کرنے والے گروہ اور کئی اہم کرداروں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔
پیر کے روز قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں ایک اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے آئس اور ہیروئن کی سپلائی میں ملوث فوزیہ بلوچ کو اس کے 2 ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار ملزمان میں مولابخش اور سکینہ بھی شامل ہیں جب کہ گرفتار ملزمہ سکینہ فوزیہ بلوچ کی حقیقی بہن نکلی۔
تفتیشن کے دوران انکشاف ہوا کہ آئس اور ہیروئن پشاور سے اسلام آباد منتقل کی جاتی تھی، جہاں سے مختلف ذرائع کے ذریعے کراچی سپلائی کی جاتی تھی۔
فوزیہ بلوچ نے دورانِ تفتیش شعیب بلوچ، انیس اور جاوید نامی افراد کو نیٹ ورک کے مرکزی کردار قرار دیا جب کہ پشاور سے تعلق رکھنے والے 5 افراد کے کراچی میں منشیات سپلائی میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق ایک سرکاری ادارے میں تعینات شکور نامی شخص کا کردار بھی سامنے آیا ہے۔ فوزیہ بلوچ نے بیان میں دعویٰ کیا کہ عبدالشکور نامی شخص پشاور سے آئس اور ہیروئن فراہم کرتا تھا۔ حکام کے مطابق اعلیٰ کوالٹی کی آئس دو لاکھ روپے فی کلو تک فروخت کی جاتی تھی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کے دیگر افراد اور سہولت کاروں کی تلاش جاری ہے جب کہ گرفتار ملزمہ فوزیہ بلوچ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔















