گرمی میں فریج کے بغیر گوشت محفوظ رکھنے کے حیرت انگیز اور قدیم طریقے

ان روایتی طریقوں کی مدد سے گوشت کو کئی ہفتوں بلکہ مہینوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
شائع 27 مئ 2026 03:00am
تصویر/ اےآئی
تصویر/ اےآئی

ملک بھر میں بڑھتی ہوئی گرمی اور طویل لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کو ایک نئی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، خاص طور پر عیدالاضحیٰ کے دنوں میں گوشت کو محفوظ رکھنا ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔

بجلی بار بار غائب ہونے سے فریزر بند ہو جاتے ہیں اور گوشت خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بجلی اور فریزر کے بغیر بھی گوشت کو لمبے عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟

ماہرین صحت اس کا جواب ہاں میں دیتے ہیں، کیونکہ صدیوں پہلے لوگ جدید مشینوں کے بغیر بھی گوشت محفوظ رکھنے کے کئی مؤثر طریقے استعمال کرتے تھے۔

ہم اکثر سوچتے ہیں کہ جب بجلی اور فریزر ایجاد نہیں ہوئے تھے تو لوگ اپنا کھانا کیسے خراب ہونے سے بچاتے تھے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ انیسویں صدی کے اوائل میں جدید فریزر کے متعارف ہونے سے پہلے بھی انسانوں کے پاس گوشت کو مہینوں تک قابل استعمال رکھنے کے بہترین اور قدرتی طریقے موجود تھے۔

آج بھی ہم انھی روایتی طریقوں کے ذریعے بغیر بجلی اور فریج کے گوشت کو خراب ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

قدیم زمانے میں گوشت محفوظ کرنے کا سب سے عام طریقہ نمک لگا کر خشک کرنا تھا۔ اس طریقے میں گوشت پر اچھی مقدار میں نمک لگایا جاتا ہے اور پھر اسے دھوپ میں لٹکا دیا جاتا ہے تاکہ گوشت کی نمی مکمل طور پر ختم ہو جائے۔

ماہرین کے مطابق جراثیم نمی میں تیزی سے پیدا ہوتے ہیں، اس لیے گوشت کو خشک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ نمک نہ صرف گوشت کا پانی کھینچ لیتا ہے بلکہ بیکٹیریا کی افزائش کو بھی روکتا ہے۔

ہمارے دیہاتوں میں نمک کے ساتھ ہلدی کا لیپ لگا کر گوشت کو تاروں پر لٹکانا ایک عام رواج ہے جو جراثیم کو دور بھگاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ موسم میں ہوا میں نمی زیادہ ہوتی ہے، پھر بھی مسلسل دھوپ میں رکھنے سے گوشت کو کافی حد تک خشک کیا جا سکتا ہے۔

ماضی میں یونانی، رومی اور سومیری تہذیبیں بھی اسی طریقے سے گوشت محفوظ کرتی تھیں، جبکہ بعد میں نمک کے ساتھ دیگر اجزا بھی استعمال ہونے لگے تاکہ ذائقہ برقرار رہے۔

گوشت محفوظ رکھنے کا ایک اور قدیم طریقہ “سموکنگ” ہے۔ دھوئیں کے ذریعے گوشت کو خشک کرنے کا یہ ایک انتہائی موثر طریقہ ہے جو سولہویں صدی میں رومی افواج کے ہاں جنگی حالات میں خوراک کی ترسیل کے لیے بہت مقبول ہوا۔

اس عمل میں گوشت کو پہلے نمک لگا کر دھوئیں کے ذریعے خشک کیا جاتا ہے۔ لکڑی یا کوئلے کے دھوئیں سے گوشت کی نمی کم ہو جاتی ہے اور وہ زیادہ عرصے تک خراب نہیں ہوتا۔

آج کل گھروں میں تندور، انگیٹھی یا چمنی کے پاس سیخوں پر گوشت پرو کر بھی یہ کام لیا جا سکتا ہے۔ دھواں نہ صرف گوشت کی نمی چوستا ہے بلکہ اس پر ایک ایسا غلاف چڑھا دیتا ہے جو کیڑوں کو دور رکھتا ہے۔

تاہم ماہرین غذائیت متنبہ کرتے ہیں کہ دھوپ یا سموک کے ذریعے گوشت محفوظ رکھنے میں احتیاط لازمی ہے، کیونکہ درجہ حرارت میں اونچ نیچ کی وجہ سے گوشت خشک تو ہوسکتا ہے، لیکن اس میں فوڈ پوائزننگ بھی ہوسکتی ہے اگر گوشت میں موجود نمی باقاعدہ ختم نہیں ہوتی۔

ماہرین کے مطابق اگر درجہ حرارت مناسب رکھا جائے تو اس طریقے سے گوشت کئی ماہ تک قابل استعمال رہ سکتا ہے۔ دیہی علاقوں میں آج بھی بعض لوگ انگیٹھی، تندور یا لکڑی کے دھوئیں سے گوشت خشک کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ گوشت کو اچار یا سرکے میں محفوظ کرنے کا طریقہ بھی صدیوں پرانا ہے۔ اس عمل میں گوشت کو پہلے پکایا جاتا ہے اور پھر سرکے، نمکین پانی یا میٹھے محلول میں رکھ دیا جاتا ہے۔

تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض علاقوں میں شہد کے محلول میں بھی گوشت محفوظ کیا جاتا تھا، جس سے وہ لمبے عرصے تک خراب نہیں ہوتا تھا۔

جن علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ہے، ان کے لیے سب سے آسان حل بازار سے برف کے بلاک لا کر گوشت کو اس میں رکھنا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور انتہائی آزمودہ اور روایتی طریقہ مٹی کے برتنوں کا استعمال ہے۔ مٹی کے بڑے برتنوں میں گوشت رکھ کر اس کے گرد گیلی ریت یا کپڑا لپیٹ کر ہوا دار سائے میں رکھنے سے ایک قدرتی فریج کا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔

یہ متبادل طریقہ ہنگامی صورتحال میں گوشت کو کڑکتی گرمی میں بھی کئی گھنٹوں تک تروتازہ رکھنے میں بہترین مددگار ثابت ہوتا ہے۔

مناسب احتیاط اور ان روایتی طریقوں کی مدد سے آج بھی بغیر بجلی اور فریج گوشت کو کئی ہفتوں بلکہ مہینوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔