چین کی بڑھتی فوجی طاقت پر جاپان کا اظہارِ تشویش، الزامات بھی مسترد

جوہری ہتھیار چین کے پاس ہیں، ہمارے نہیں‘، جاپان کا عسکریت پسندی کے الزام پر دوٹوک جواب
شائع 31 مئ 2026 06:22pm

جاپان کے وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے اپنے ملک پر ’’نئی عسکریت پسندی‘‘ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین تیزی سے اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے اور اس حوالے سے مطلوبہ شفافیت بھی موجود نہیں۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مکالمے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق سنگاپور میں منعقدہ شنگری لا ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے جاپانی وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے کہا کہ چین مسلسل اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کر رہا ہے، جس پر جاپان اور عالمی برادری کو تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کی خارجہ پالیسی اور فوجی سرگرمیاں نہ صرف جاپان بلکہ پوری بین الاقوامی برادری کے لیے سنجیدہ تشویش کا باعث ہیں۔

کوئزومی نے کہا، ’’ذرا غور کریں، ایک ایسا ملک جس کے پاس بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار اور اسٹریٹجک بمبار طیارے موجود ہیں، جبکہ جاپان کے پاس ایسا کوئی ہتھیار نہیں، اس کے باوجود جاپان کو ’نئی عسکریت پسندی‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کا ریکارڈ سب کے سامنے ہے۔ جاپان نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور آزاد و کھلے عالمی نظام کے اصولوں کی پاسداری کی ہے۔

یاد رہے کہ مئی میں چین کی وزارت خارجہ نے ایشیا پیسیفک ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ جاپان کی مبینہ ’’نئی عسکریت پسندی‘‘ کے اقدامات کے خلاف ہوشیار رہیں اور مشترکہ طور پر ان کا مقابلہ کریں۔

شنگری لا ڈائیلاگ میں شریک چینی وفد کے رکن میجر جنرل مینگ شیانگ چھنگ نے بھی جاپان پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک نے عسکریت پسندی کی ماضی کی وراثت کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا، کیا وہ دفاعی تعاون پر دنیا کو لیکچر دینے کا حق رکھتا ہے؟ اور کیا وہ خاص طور پر ان ایشیائی ممالک کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے جن پر اس نے ماضی میں حملے کیے تھے؟

جاپان اور چین کے تعلقات گزشتہ چند برسوں میں اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے تھے جب جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے گزشتہ نومبر میں خبردار کیا تھا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو جاپان فوجی ردعمل دے سکتا ہے۔

وزیر دفاع کوئزومی نے کہا کہ شفافیت کا راستہ بات چیت اور مکالمے سے ہو کر گزرتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ چین نے اس کانفرنس میں اپنے وزیر دفاع کو نہیں بھیجا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ جاپان اب بھی رابطے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہمارے دروازے کھلے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ جاپان چین اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل مکالمے کے ذریعے استحکام کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

چین کی جانب سے فوجی توسیع اور جدیدکاری کے عمل کے جواب میں جاپان بھی اپنی دفاعی پالیسی میں تبدیلیاں لا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ جاپانی حکومت نے مہلک ہتھیاروں کی برآمد پر عائد پابندی ختم کر دی، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد اختیار کی گئی امن پسند پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب کوئزومی نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی ایشیا پیسیفک خطے سے وابستگی کو سراہا، تاہم عالمی سطح پر مضبوط اتحادوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا، ’’تقسیم دفاعی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے جبکہ اتحاد اسے مضبوط بناتا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا، یورپ اور ان کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے تو بعض طاقتیں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گی۔

انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں ایسی صورتحال سے بچنا ہوگا۔ تعاون کا سلسلہ جاری رکھنا ضروری ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں۔‘‘

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو اتحادیوں پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ شنگری لا ڈائیلاگ میں بھی امریکی وزیر دفاع نے یورپی اتحادیوں کو دفاع پر کم وسائل خرچ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔