بھارت کی بڑی کمپنی 'ٹاٹا' پر سائبر حملہ، آئی فون اور ٹیسلا گاڑیوں کے راز چوری

ہیکرز نے ڈیٹا واپس کرنے کے بدلے ٹاٹا کمپنی سے بھاری تاوان بھی مانگا ہے: رائٹرز
شائع 23 جون 2026 09:14am

بھارت کی ایک بہت بڑی کمپنی ’ٹاٹا الیکٹرانکس‘ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے کمپیوٹر سسٹم پر سائبر اٹیک ہوا ہے۔

ٹاٹا نے یہ انکشاف اس وقت کیا جب انٹرنیٹ کی دنیا پر نظر رکھنے والے ماہرین نے بتایا کہ ’ورلڈ لیکس‘ نامی ایک بدنام زمانہ ہیکر گروپ نے آئی فون بنانے والی مشہور کمپنی ’ایپل‘ اور بجلی سے چلنے والی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ’ٹیسلا‘ کے انتہائی خفیہ نقشے اور ڈیزائن انٹرنیٹ کی ایک چھپی ہوئی دنیا یعنی ڈارک ویب پر آن لائن لیک کر دیے ہیں۔

یہ دونوں دنیا کی بڑی کمپنیاں بھارتی کمپنی ’ٹاٹا‘ سے اپنے پرزے بنواتی ہیں۔

ہیکرز پر نظر رکھنے والے ماہرین نے بتایا ہے کہ اس گروپ نے ٹاٹا کے کمپیوٹروں سے چوری کی گئی دو لاکھ سے زیادہ خفیہ فائلیں انٹرنیٹ پر ڈال دی ہیں۔

اس بڑے حملے کے بعد ٹاٹا الیکٹرانکس نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ “کچھ ہفتے پہلے ٹاٹا الیکٹرانکس نے اپنے کچھ کمپیوٹر سسٹمز پر سائبر حملے کی نشاندہی کی تھی۔“

ٹاٹا گروپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ”ہماری سیکیورٹی ٹیموں نے فوری طور پر اس سائبر حملے کا تدارک کیا اور اس واقعے سے ہمارے کاروبار اور فیکٹریوں کے کام کاج پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے، تمام کام معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔“

دوسری طرف اس معاملے سے جڑے ایک باخبر شخص نے نام نہ بتانے کی شرط پر برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ایپل کمپنی اس چوری کی خود تفتیش کر رہی ہے اور اس کا پورا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

اس شخص نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ہیکرز نے یہ ڈیٹا واپس کرنے کے بدلے ٹاٹا کمپنی سے بھاری تاوان بھی مانگا ہے، تاہم ٹاٹا کمپنی نے تاوان کے اس مطالبے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ایپل نے بھی اس پر فی الحال کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ واقعہ ایپل کمپنی کے لیے ایک نیا جھٹکا ہے کیونکہ ٹاٹا کمپنی چین سے باہر ایپل کے لیے آئی فون بنانے والی سب سے اہم پارٹنر بن کر ابھر رہی ہے۔

ڈیٹا چوری کرنے والے گروپ ’ورلڈ لیکس‘ نے اپنی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ یہ سارا ڈیٹا ٹاٹا الیکٹرانکس کا ہی ہے۔

سائبر سیکیورٹی کے ماہر راج شیکھر راجاہریہ، جنہوں نے پولیس کو بھی ایسے معاملات میں مشورے دیے ہیں، انہوں نے ان فائلوں کو دیکھنے کے بعد بتایا کہ ان میں نہ صرف کمپنیوں کے راز ہیں بلکہ ملازمین کی ای میلز، پرانے ریکارڈ اور کئی غیر ملکی ملازمین کے پاسپورٹ کی کاپیاں بھی شامل ہیں۔

ایک اور سیکیورٹی ماہر راکیش کرشنن نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ چوری شدہ ڈیٹا پچھلے کئی دنوں سے انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ ان فائلوں میں ٹیسلا کمپنی کی نئی ’ماڈل وائی‘ گاڑی کے چارجنگ سسٹم کے ڈیزائن اور ’ماڈل تھری‘ گاڑی کے وہ بلیو پرنٹ شامل ہیں جن پر ’تجارت کا خفیہ راز‘ لکھا ہوا ہے۔

اس کے علاوہ ان فائلوں میں آئی فون کے سرکٹ بورڈ کی کوالٹی چیک کرنے کے طریقے اور ٹاٹا کی تامل ناڈو میں واقع آئی فون فیکٹری ’ہوسور‘ کی بھی 32 فائلیں شامل ہیں۔

ٹاٹا کمپنی نے پچھلے ہفتے ہی اپنے کچھ ملازمین کو اس ڈیٹا چوری کے بارے میں بتا دیا تھا کیونکہ ٹاٹا کمپنی اس وقت بھارت میں بننے والے کل آئی فونز کا تقریباً ایک تہائی حصہ خود بناتی ہے۔