دلجیت دوسانجھ کی فلم 'ستلج' پر بھارت میں پابندی کیوں لگی؟

فلم 'ستلج' ریلیز کے دو دن بعد ہی پلیٹ فارم سے غائب، نیا تنازع کھڑا ہو گیا۔
شائع 06 جولائ 2026 02:17pm

بھارت میں مشہور اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ کی نئی فلم ’ستلج‘ پر بھارت میں اچانک پابندی عائد کردی گئی ہے، اور اسے اسٹریمنگ پلیٹ فارم ’زی فائیو‘ سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ فلم طویل انتظار کے بعد بغیر کسی کانٹ چھانٹ کے یعنی اَن کٹ ورژن میں انٹرنیٹ پر ریلیز کی گئی تھی، لیکن صرف دو دن بعد ہی اسے بھارت میں دیکھنے والوں کے لیے بند کر دیا گیا۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق فلم ’ستلج‘ کو تین جولائی کو ریلیز کیا گیا تھا اور پانچ جولائی کو اسے ہٹا دیا گیا، جس پر اب بحث شروع ہو گئی ہے۔ زی فائیو نے اس حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے فلم کو ہٹانے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی، بلکہ صرف اتنا کہا ہے کہ موجودہ حالات اور پیش رفت کو دیکھتے ہوئے فلم کو فی الحال بھارت میں روک دیا گیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ فلم بنانے والوں اور ان کی کہانی کے ساتھ کھڑے ہیں اور قانونی طریقے سے اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ فلم کو جلد سے جلد دوبارہ ناظرین کے لیے پیش کیا جا سکے۔ زی فائیو نے فلم کو پسند کرنے پر عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔

یہ فلم سینما گھروں میں کیوں ریلیز نہیں ہو سکی، اس کی وجہ بھی کافی دلچسپ ہے۔ اس فلم کا پرانا نام ’پنجاب 95‘ تھا اور اسے بنانے میں تین سال سے زیادہ کا وقت لگا۔ جب اسے سینما میں چلانے کے لیے بھارت کے سینسر بورڈ کے پاس بھیجا گیا تو بورڈ نے فلم میں 125 سے زیادہ کٹس یعنی تبدیلیاں اور منظر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

اہم بات یہ ہے کہ فلم کی ٹیم نے ان تبدیلیوں کو ماننے سے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے یہ فلم تین سال تک سینما گھروں کی زینت نہ بن سکی۔ بعد میں اسے انٹرنیٹ پر ریلیز کیا گیا لیکن وہاں بھی یہ زیادہ دن نہ ٹک سکی۔

فلم کے گرد گھومنے والے تنازع کی وجہ اس کی کہانی ہے۔ یہ فلم پنجاب کے ایک انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالرا کی زندگی پر مبنی ہے، جن کا کردار دلوجیت دوسانجھ نے نبھایا ہے۔ جسونت سنگھ کھالرا نے 1980 اور 90 کی دہائی میں پنجاب میں شورش کے دوران مبینہ طور پر ہزاروں لاپتہ افراد کی لاشوں کو پولیس کی جانب سے خفیہ طور پر جلائے جانے کے معاملے کو بے نقاب کیا تھا۔

انہوں نے اس حوالے سے ثبوت جمع کیے تھے کہ جن لوگوں کو لاپتہ ظاہر کیا گیا، انہیں خاندان والوں کو بتائے بغیر ہی جلا دیا گیا۔ اس تحقیقات کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ اس معاملے پر گئی، لیکن 1995 میں جسونت سنگھ کو خود اغوا کر کے قتل کر دیا گیا، جس کے الزام میں بعد میں کئی پولیس افسران کو سزا بھی ہوئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کے ڈائریکٹر ہنی تریہان نے سینسر بورڈ پر سخت تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ نے فلم میں پہلے 21 کٹس مانگے تھے جو بعد میں بڑھا کر 127 کر دیے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بورڈ فلم سے جسونت سنگھ کھالرا کا اصل نام تک ہٹانا چاہتا تھا۔

ڈائریکٹر کے مطابق، تاریخ کے ایک اہم شخص کا نام ہٹانا فلم کا مقصد ہی ختم کر دیتا۔ انہوں نے اسے آزادیِ اظہارِ رائے پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ عدالت جائے، لیکن بورڈ نے جو کٹس مانگے وہ ملک کی جمہوریت پر کٹس تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے فلم میں تبدیلیاں نہیں کیں اور فلم سینما میں نہیں آ سکی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کے ہیرو دلجیت دوسانجھ کو پہلے ہی اس بات کا اندازہ تھا کہ فلم کو ہٹایا جا سکتا ہے۔ فلم کی ریلیز کے بعد ایک لائیو سیشن میں جب ایک مداح نے ان سے پوچھا کہ کیا انہیں فلم کے ہٹائے جانے کا ڈر ہے، تو انہوں نے کہا کہ بالکل ڈر ہے اور وہ خود حیران ہیں کہ یہ فلم ریلیز کیسے ہو گئی۔

انہوں نے مداحوں سے کہا تھا کہ وہ فلم کو ڈاؤن لوڈ کر لیں۔ دلجیت نے سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ وہ اکثر اپنی ٹیم سے پوچھتے تھے کہ کیا یہ فلم کبھی سامنے آئے گی یا کیا ہم اپنی کہانی بھی نہیں سنا سکتے؟ انہوں نے لکھا کہ جسونت سنگھ کھالرا کی آواز کو 1995 میں بھی دبایا گیا تھا اور آج بھی دبایا جا رہا ہے، لیکن انہیں امید تھی کہ وقت بدلے گا اور فلم ضرور سامنے آئے گی۔

اگرچہ زی فائیو نے فلم کو ہٹانے کی وجہ سینسر بورڈ کے پرانے تنازع یا کسی قانونی حکم کو قرار نہیں دیا، لیکن اس اچانک فیصلے نے ایک بار پھر فلمی آزادی، سنسرشپ اور پنجاب کی تاریخ کے ایک حساس باب پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔