سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی میت کا جلوس آج قُم روانہ ہوگا
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی تہران میں ادا کی گئی نمازِ جنازہ کے بعد، اب ان کی میت کا جلوس اگلے سفر کے لیے قُم روانہ کیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ سابق رہبرِ اعلیٰ کے جسدِ خاکی کو ایران کے شہر قم کے بعد پڑوسی ملک عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا بھی لے جایا جائے گا، جہاں لاکھوں لوگ ان کا آخری دیدار کر سکیں گے۔
ایران کے سرکاری میڈیا چینل ’پریس ٹی وی‘ نے بتایا ہے کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا جلوس تہران کے بڑے مرکز امام خمینی گرینڈ مصلیٰ سے شروع ہو رہا ہے، جہاں ان کا جسدِ خاکی گزشتہ دو دن سے آخری دیدار کے لیے رکھا گیا تھا۔
انتظامیہ کے لوگوں اور تقریب کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ جنازہ تہران کی سڑکوں پر تقریباً دس سے بارہ گھنٹے تک جاری رہے گا، جو دس کلومیٹر طویل راستے سے گزرتا ہوا آگے بڑھے گا۔
یہ جلوس دماوند اسٹریٹ، امام حسین اسکوائر، انقلاب اسٹریٹ، انقلاب اسکوائر، آزادی اسٹریٹ، آزادی اسکوائر اور مہر آباد ہوائی اڈے کے قریب واقع شاہد لشگری ہائی وے سے گزرے گا۔
تہران کی ان تمام مشہور سڑکوں اور چوراہوں سے گزارنے کے بعد، آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو اگلی مذہبی رسومات کے لیے ایران کے مقدس شہر قم لے جایا جائے گا۔
اس موقع پر گرمی کے باوجود لاکھوں سوگوار اپنے رہنما کے آخری سفر میں شریک ہیں۔
یاد رہے کہ رواں سال اٹھائیس فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایک مشترکہ حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای، اُن کی صاحبزادی، بہو، داماد اور کمسن نواسی شہید ہو گئے تھے۔
اتوار کو تہران کے بڑے مذہبی مرکز امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں سابق سپریم لیڈر، ان کی صاحبزادی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری، بہو زہرا حداد عادل اور ان کی معصوم و کم سن نواسی زہرا محمدی کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی تھی۔
یہ جنازہ مشہور عالمِ دین آیت اللہ جعفر سبحانی نے تین مرحلوں میں پڑھایا۔
اس بڑے اور تاریخی جنازے میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں سمیت ملک کی پوری سیاسی اور عسکری قیادت شریک ہوئی۔
شہید رہنما کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای پہلی صف میں موجود تھے، تاہم ان کے چوتھے بھائی اور ایران کے موجودہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی کے سخت خدشات کی وجہ سے اپنے والد کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے۔
جنازے کے موقع پر تہران میں لاکھوں سوگواروں کا ایک سمندر دیکھا گیا، جہاں فضا غم اور غصے سے بھری ہوئی تھی۔
بی بی سی فارسی کے مطابق، جیسے ہی نمازِ جنازہ ختم ہوئی تو وہاں موجود انتظامیہ کے لوگوں اور منتظمین نے مائیک پر مجمعے کو پکارتے ہوئے کہا کہ وہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے تیار ہو جائیں، جس پر لاکھوں لوگوں نے ایک زبان ہو کر انتقام، انتقام اور امریکا مردہ باد کے شدید نعرے لگائے۔
عراق میں موجود ایران کے ثقافتی سفیر غلام رضا اباذری نے آخری رسومات کے اگلے سفر کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی سات جولائی کی شام کو عراق کے مقدس شہر نجف پہنچایا جائے گا، جہاں آٹھ جولائی کو نجف اور کربلا میں بڑے جلوس نکالے جائیں گے۔
اس کے بعد نو جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے مزار کے احاطے میں ان کی تدفین کی جائے گی۔
ایران میں اس وقت سات دن کے سرکاری سوگ کا اعلان ہے اور دور دراز سے آنے والے کروڑوں مسافروں کے رکنے کے لیے پانچ ہزار اسکول کھول دیے گئے ہیں۔ نو جولائی کو مشہد میں ہونے والی تدفین میں تقریباً دو کروڑ لوگوں کی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
















