اے پی این ایس کے وفد کی وفاقی وزیر اطلاعات سے ملاقات، پرنٹ میڈیا کو درپیش مسائل پر گفتگو

وفاقی وزیر اطلاعات سے ملاقات میں سرکاری اشتہارات، اے بی سی رجسٹریشن اور این سی سی آئی اے آرڈیننس پر تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔
شائع 14 جولائ 2026 07:25pm

آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک وفد نے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات جناب عطا اللہ تارڑ سے ملاقات کی، جس میں اخباری صنعت، حکومتی اشتہاری پالیسی اور ریگولیٹری اصلاحات سے متعلق مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے اے پی این ایس کے مؤقف سے اصولی طور پر اتفاق کرتے ہوئے وزارتِ اطلاعات و نشریات کے حکام کو ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کی پرنٹ اشتہاری مہمات میں اخبارات کی ڈیجیٹل ویب سائٹس کو بھی شامل کیا جائے۔

اے پی این ایس کے وفد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے پرنٹ میڈیا کے لیے حکومتی اشتہارات کی شرح میں اضافے کا اعلان تا حال نافذ نہیں کیا گیا، حالانکہ اخباری صنعت اس وقت شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ اے پی این ایس نے تجویز پیش کی کہ پرنٹ میڈیا کے لیے حکومتی اشتہارات کی شرح کو آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (ABC) سے منسلک نہ رکھا جائے، اور جب تک اخبارات کے اشتہارات کے نرخ مقرر کرنے کے لیے کوئی نیا طریقہ کار وضع نہیں کیا جاتا، اس وقت تک موجودہ اشتہارات کے نرخ کو برقرار رکھا جائے۔

اے پی این ایس نے مزید کہا کہ حکومتی اشتہارات کے نرخ مقرر کرنے کا اختیار، دیگر ذرائع ابلاغ کے لیے رائج پالیسی کے مطابق، کابینہ ڈویژن سے وزارتِ اطلاعات و نشریات کو منتقل کیا جانا چاہیے۔ اجلاس میں آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (ABC) اور رجسٹرار کے دفتر میں اصلاحات اور ان کی تنظیمِ نو کی ضرورت پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اے پی این ایس نے اس بات پر زور دیا کہ رجسٹریشن سے متعلق قواعد و ضوابط کو تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد سادہ اور سہل بنایا جائے۔

وفاقی وزیر نے سیکریٹری اطلاعات کو ہدایت کی کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات اور اے پی این ایس کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے، جو ان امور پر سفارشات مرتب کرے اور ایک جامع پالیسی فریم ورک تجویز کرے۔

اے پی این ایس نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ موجودہ حکومتی اشتہاری پالیسی بنیادی طور پر 1964ء کے فریم ورک پر مبنی ہے، جس کا موجودہ دور کے میڈیا کی ضروریات کے مطابق جامع جائزہ لینا ناگزیر ہے۔ سوسائٹی نے تجویز دی کہ متعلقہ سرکاری اداروں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ اپنے ابلاغی مقاصد اور ٹارگٹ آڈینس کو مدنظر رکھتے ہوئے خود اپنا میڈیا پلان تیار کریں۔

اے پی این ایس کے وفد نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے اخبارات میں شائع ہونے والے مواد کے خلاف کارروائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ وفد کا مؤقف تھا کہ اخبارات اور ان کی ویب سائٹس پر شائع ہونے والا مواد این سی سی آئی اے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، کیونکہ اخبارات اور ان کی ویب سائٹس سے متعلق شکایات سننے کا اسے قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ اے پی این ایس نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے معاملات کی سماعت اور فیصلہ کرنے کا واحد مجاز قانونی ادارہ ”پریس کونسل آف پاکستان“ ہے۔

اجلاس میں نیوز پرنٹ پر عائد ٹیکسوں سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔ وفاقی وزیر نے اے پی این ایس کے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ان مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

وفاقی وزیر کے ہمراہ، وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات جناب اشفاق خلیل اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر محترمہ رئیسہ عادل بھی موجود تھیں۔

اے پی این ایس کے وفد کی قیادت صدر اے پی این ایس سینیٹر سرمد علی نے کی۔ وفد میں مجیب الرحمن شامی (روزنامہ پاکستان، لاہور)، نائب صدر شہاب زبیری، جوائنٹ سیکریٹری محسن بلال، محسن سیال (روزنامہ آفتاب)، بلال فاروقی (روزنامہ آغاز)، انصار محمود بھٹی (ماہنامہ سینٹرلائن)، قاضی اسد عابد (روزنامہ عبرت)، سید اکبر طاہر (روزنامہ جسارت)، شکور شاہ (روزنامہ مشرق، کوئٹہ)، سردار خان نیازی (ماہنامہ نیا رخ)، محمد فاروق (روزنامہ پاکستان)، فیصل زاہد ملک (روزنامہ پاکستان آبزروور)، محمد عرفان (روزنامہ امت)، ہمایوں گلزار (روزنامہ سیادت) اور راؤ امجد علی (روزنامہ ہر لمحہ) شامل تھے۔