غداری کیس: سابق صدر کے وکلاء کا عدالت میں جواب جمع

شائع 18 اپريل 2016 12:28pm
musharraf فائل فوٹو

اسلام آباد:سنگین غداری کیس میں سابق صدرپرویزمشرف کے وکلاءنے خصوصی عدالت میں جواب جمع کروا دیا۔ سابق صدروزارت داخلہ کی مرضی سے باہرگئے۔ اگر بیرون ملک جانے پر پابندی مقصود تھی تو ای سی ایل سے نام کیوں نکالا۔

سابق صدرپرویزمشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت خصوصی عدالت میں جسٹس مظہرعالم میاں خیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ پرویزمشرف کے وکلاءنے جواب جمع کرایا، جس میں کہا گیا کہ مشرف سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی اور وزارت داخلہ کے تعاون سے گئے۔ اگرسابق صدر کے باہر جانے پر پابندی مقصود ہوتی تووزارت داخلہ ای سی ایل سے نام نہ نکالتی۔ پرویزمشرف سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وزارت داخلہ کی مرضی سے باہرگئے ۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت یا عدالتوں نے پرویزمشرف کے نقل وحرکت پرپابندی نہیں لگائی۔

سابق صدرکے وکلاءکا کہنا تھاکہ آٹھ اوراکتیس مارچ کے خصوصی عدالت کے فیصلوں میں تضاد ہے۔ پرویزمشرف کے ساتھ اکتیس مارچ دوہزارچودہ کوراشد قریشی ضمانتی کے طورپرپیش ہوئے۔ پرویز مشرف کے وکلاءنے خصوصی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائرکردی جس کے ساتھ خصوصی عدالت میں سابق صدرکے طبی معائنے کی تفصیلی رپورٹ بھی جمع کروائی۔