پانامہ لیکس:سینیٹ میں آج بھی بحث کا سلسلہ جاری

شائع 21 اپريل 2016 04:56pm
sanate فائل فوٹو

اسلام آباد:سینیٹ میں پاناما لیکس پر آج بھی بحث کا سلسلہ جاری رہا۔سینیٹر اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ سب سے پہلے وزیراعظم اور ان کے خاندان اور اتفاق گروپ کی تفتیش ہونی چاہیے،وزیراعظم کے تمام معاملات صاف شفاف ہیں تو پارلیمنٹ میں کیوں نہیں آتے۔

سینٹ اجلاس میں پانامہ لیکس پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر اعتزازاحسن نے کہا کہ پاناما لیکس کا معاملہ نیب یا ایف آئی اے کے دسترس سے باہر ہے۔ کمیشن کے قیام کے لیے اگر بین الاقوامی قوانین کا سہارا لینا پڑے تو یہ کام بھی حکومت کرے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے بیٹے حسن اور حسین نواز کے بیانات کو نکتہ آغاز سمجھتے ہوئے تسلیم کیا جائے کہ اپارٹمنٹ نوازشریف کی ملکیت ہیں۔ وزیراعظم کے تمام معاملات صاف شفاف ہیں تو پارلیمنٹ میں کیوں نہیں آتے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جو لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں ڈاکووں کا وکیل ہوں تو وہ یاد رکھیں کہ میں نواز شریف کا بھی وکیل رہا ہو۔

سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہ پانامہ لیکس میں وزیراعظم کا کہیں ذکر نہیں۔ وزیراعظم نے قوم کے سامنے کھل کر بات کی۔ عمران خان پارلیمنٹیرین ہوتے ہوئے پارلیمنٹ کی بات نہیں مانتے۔ اپوزیشن لیڈر وزیراعظم کو ڈاکو کہتے ہیں۔