ڈاکٹر عاصم کیس کی سماعت ،تفتیشی افسر اور رینجرز وکلاء میں تلخ کلامی
فائل فوٹوکراچی :ڈاکٹر عاصم حسین کیخلاف دہشتگردوں کے علاج کے مقدمے کی سماعت کے دوران رینجرز کے وکیل اور تفتیشی افسر کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی، رینجرز حکام کے مطابق تفتیشی افسر نے کاغذات میں ردوبدل کیا ہے، جبکہ تفتیشی افسر نے رینجرز کے الزامات مسترد کردیے۔
کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں ڈاکٹر عاصم حسین کیخلاف دہشتگردوں کے علاج کے مقدمہ کی سماعت ہوئی،انیس قائم خانی،روف صدیقی ،سلیم شہزاد،وسیم اختر اور عبدالقادر پٹیل بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔سماعت کے دوران رینجرز کے وکیل نے دہشتگردوں سے متعلق دستاویزات عدالت میں پیش کیں اور کہا کہ کیس سے متعلق دستاویزات میں تفتیشی افسر نے ردوبدل کیا۔
غلط کام خود تفتیشی افسر نے کیا اور الزام رینجرز پر لگادیا،تفتیشی افسر الطاف حسین نے رینجرز کے الزامات مسترد کردیے اور کہا کہ دستاویزات میں سے کوئی ریکارڈ غائب نہیں ہوا،رینجرز کے وکیل نے کہا کہ یہ غلط بات کہہ رہے ہیں،تفتیشی افسر بولے کہ سابق تفتیشی افسر نے تفتیش کا بیڑا غرق کردیا،رینجرزوکلاء خودکیس خراب کررہے ہیں،تفتیشی افسر کہنے لگے کہ مجھ سے براہ راست بات نہ کریں۔
جواب میں رینجرز وکیل نے کہا کہ مجھ سے غلط بات کرو گے توعدالت سے باہرنکال دوں گا،اس دوران ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ نو ماہ سے میرا ٹرائل ہورہا ہے،آخر کب تک میں جھوٹے مقدمات میں پڑا رہوں گا، جس پر عدالت نے انہیں خاموش کرادیا اور کہا کہ آپ کی بات بعد میں سنی جائے گی اور سماعت بارہ مئی تک ملتوی کردی گئی۔
عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت میں عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ قانون پسند شہری کی حیثیت سے مقدمات کا سامنا کررہا ہوں،پیر کے روز وکیل صفائی عدالت میں مزید دلائل دیں گے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔