فٹنس سے متعلق 7 مفروضے
صحت اور فٹنس لمبی زندگی کے ضامن ہیں۔ اگر آپ فٹنس چاہتے ہیں تو اس کے لئے قابل عمل سوچ کو اپنانا ہوگا اور سچ یہی ہے کہ ورزش کے ذریعے ہی آپ فتنس حاصل کرسکتے ہیں۔
فٹنس کے حوالے سے کئی مفروضے بھی پائے جاتے ہیں۔ درج ذیل ایسے سات مفروضوں اور حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ یہ سات طریقے آپ کو فٹنس حاصل کرنے میں نہ صرف مدد فراہم کریں گے بلکہ آپ بہت جلد اپنے طے کئے ہوئے مقاصد کو بھی حاصل کر لیں گے۔
صرف چہل قدمی کرنے سے موٹاپا کم نہیں ہوگا
اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں لیکن انتہائی سست رفتاری سے چلتے ہیں تو آپ کا ہدف محض چہل قدمی سے پورا نہیں ہو سکتا۔ وزن کم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ 40 منٹ تک اتنی رفتار سے چلیں کہ آپ کا دل مسلسل تیزی سے دھڑکے اور پسینہ بھی آئے۔ ہفتے میں تین سے پانچ بار ایسی مشق فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
خواتین وزن اٹھانے والی ایکسرسائز کریں تو موٹی ہو جاتی ہیں
یہ ایک انتہائی غلط مفروضہ ہے کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں جسمانی طور پر کمزور ہوتی ہیں۔ حقیقت میں وزن اٹھانا عورتوں کو ہڈیوں کے بھربھرے پن یعنی اوسٹییوپروسیس سے بچانے، کمزور ہڈیوں کو مضبوط بنانے، میٹابولک ریٹ بڑھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
اس طرح کی ایکسرسائز ناصرف آپ کے وزن کو جلد کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے بلکہ اسے بڑھنے سے بھی روکتی ہے۔ ہلکی سی ٹرینیگ سے آپ حیرت انگیز نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔
مفروضہ مردوں میں پنتالیس منٹ تک پسینہ بہ جانا کافی ہے
پسینہ آنا ایک بایولوجیکل عمل کا نتیجہ ہے جو آپ کی جلد کو ٹھنڈا کرکے جسم کے درجہ حرارت کو توازن میں رکھتا ہے۔اس کئی محرکات ہوسکتے ہیں مثلاً موسم، پر ہجوم مقام،جم میں ورزش یا انسان کی اپنی فزیولوجی وغیرہ۔
اس سے فٹنس کا کوئی تعلق نہیں۔ اگر آپ صرف دس منٹ دن میں ورزش کیلئے نکالیں تو اپنے دل کی صحت کو بہتر کرسکتے ہیں۔میک ماسٹر یونیورسٹی کینیڈا کی تحقیق کے مطابق کم وقت میں کی جانے والی ورزش کے بہتر نتائج نکلتے ہیں اور آپ بہتر صحت حاصل کر سکتے ہیں اس سے آپ نہ صرف چاک و چوبند رہتے ہیں بلکہ کچھ پاؤنڈز وزن بھی کم کرسکتے ہیں۔
ہفتے میں ایک سو پچاس منٹ کی بھر پور ورزش صحت مند رہنے کے لئے کافی ہے۔
مفروضہ۔چالیس سال عمر کے بعد آپ طاقت حاصل نہیں کرسکتے
عمر بڑھنے کے ساتھ پریشانی بھی بڑھتی ہے اگر آپ پہلے سے ورزش کے عادی نہیں تو چالیس سال کی عمر کے بعد فٹنس حاصل کرنے کے لئے ہلکی پھلکی ورزش سے آغاز کریں۔اس عمر میں بھی آپ اپنے جسم کو طاقتور اور چاک وچوبند بنا سکتے ہیں۔
مفروضہ:ہفتے میں ایک دن کی ورزش نہ کرنے سے بہتر ہے
اگر آپ نے اس بات کو اپنی زندگی کا اصول بنالیا ہے تو آپ اپنی فٹنس حاصل کرنے میں ناکام بھی ہوسکتے ہیں۔وزن کم کر کے نارمل رکھنے کیلئے تسلسل کے ساتھ سخت محنت کرنا ہو گی۔ اس کے علاوہ متوازن غذا اور پانی کی بھی صحیح مقدارکو شامل رکھنا ضروری ہے۔ اس سے بہت جلد اچھے نتائج حاصل کرسکتے ہیں
:مفروضہ۔ یوگا سے زیادہ کیلوریز برن ہوتی ہیں
یوگا سے جسم میں لچک اور طاقت میں تواضافہ ہوتا ہے مگراس سے کیلوریز جلنےکاعمل اتنا موثر نہیں ہوتا۔ ایک مطالعے سے ثابت ہوا کہ 50 منٹ کی پاور یوگا صرف 237 کیلوریز برن کرتی ہے۔
مفروضہ۔ زیادہ پانی پینے سے وزن کم ہوتا ہے
اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ زیادہ پانی پینا ہر مرض کی دوا ہے۔ زیادہ پانی پینے سے وزن کم ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔ دراصل زیادہ پانی پینے والے کم کھانے لگتے ہیں لہذا ان کا وزن کم ہونے لگتا ہے۔
ایک اضافی مفروضہ:جم میں ورزش کرنا گھر میں ورزش کرنے سے کہیں زیادہ موثر ہے
حقیقت: جم میں آپ کی صحت کو دیکھ کر بہت ساری ٹپس دی جاسکتی ہیں جو آپ کی روزمرہ کے معمول میں شامل ہوکرآپ کی فٹنس کو بہتر کرسکتی ہے لیکن اگر آپ پوری توجہ اور عزم کے ساتھ گھر پر ایکسر سائز کریں تو مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔