سندھ :شوگر مل بندش،پچاس محنت کش گرفتار
سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ٹنڈو محمد خان میں عدالتی حکم پر کھلنے والی سیری شوگرمل کوپولیس نے بند کرادی۔ پچاس محنت کشوں کو بھی گرفتار کرلیا۔
سندھ ترقی پسند پارٹی کا آج ضلع بھر میں ہڑتال کا اعلان،کوریج کرنے پر آج نیوز کے نمائندے کو بھی تشدد کا نشانہ بناڈالا۔
دو سال بعد گنے کی کرشنگ کا جیسے ہی آغاز ہوا۔پولیس کی بھاری نفری بکتر بند گاڑیاں لے کر شوگر مل بند کرانے پہنچ گئی۔مل بند کرانے کی کوشش پر مزدور سراپا احتجاج بن گئے۔
آج نیوز کی ٹیم جب کوریج کیلئے پہنچی تو نمائندہ آج نیوز محمد انصار کو کوریج سے نہ صرف روکا گیا،بلکہ پولیس نے ان کو حراست میں لیکر موبائل فون اور کیمرہ بھی چھین لیاتاہم عوامی اور صحافتی حلقوں کی مداخلت کے بعد انہیں رہاکردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق دو سال قبل سندھ کی بااثر سیاسی شخصیت نے یہ مل خریدنے کی کوشش کی تھی ،جس میں ناکامی پر مختلف سرکاری اداروں کے دباوٴ کے بعد مل کو بند کرادیا گیا۔
چند ہفتے قبل سندھ ہائی کورٹ نے شوگر مل کو دوبارہ چلانے کے احکامات جاری کئے تھے،جس پر مالکان نے مل چلانے کی کوشش کی،لیکن پولیس اور پرائیوٹ گارڈز نے مزدوروں کو مل میں داخل نہیں ہونے دیا۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔