پی آئی اے نجکاری معاملہ سنگین صورتحال اختیار کرگیا

شائع 21 دسمبر 2015 12:29pm

12

اسلام آباد: قومی فضائی کمپنی کی نجکاری کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کرگیا، ادارے کی نجکاری عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط کا حصہ ہے یا ملک میں جاری نجکاری اصلاحات کا سلسلہ، بہرحال معاملہ کچھ بھی ہو نجکاری کے خلاف ملک بھر میں ملازمین سراپا احتجاج ہیں، لیکن حکومت ادارے سے جان چھڑانے کے درپے ہے۔

قومی فضائی کمپنی کی فروخت کا معاملہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، ایک جانب وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کو مزید رقم دے کر نہیں چلاسکتے، جبکہ وزیراعظم نواز شریف بضد ہیں کہ ادارے کی نجکاری کے بجائے کوئی ااور آپشن استعمال کر کے ادارے کو فروخت سے بچایا جائے، تاہم وزیر خزانہ وزیراعظم سے اختلاف رکھتے ہیں، دوسری جانب ادرے سے جڑے سترہ ہزار ملازمین نجکاری کے خلاف سڑکوں پر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف ادارہ اونے پونے داموں بیچ دیا جائے گا، بلکہ ان کی روزی روٹی بھی داوٴ پر لگ جائے گی، تاہم ساری صورتحال کے بعد وزیر خزانہ نے ایک اور بیان داغہ ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں کی جارہی، صرف چھبیس فیصد حصص فروخت کئے جائیں گے۔

ادھر سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بھی پی آئی اے کی نجاری کو حکومت کی سنگین غلطی سے تعبیر کرتے ہوئے فروخت کی مخالفت کی ہے، حفیظ پاشا کا موقف ہے کہ پی آئی اے خسارے میں نہیں بلکہ آپریٹنگ پرافٹ دے رہا ہے، ادھر نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر بھی جان چھڑانے پر بضد نظر آتے ہیں، اکثر ملکی اور غیرملکی میڈیا کو یہی بتاتے ہیں کہ جلد پی آئی اے فروخت کر دیا جائے گا، قومی فضائی کمپنی میں ملازمین کی تعداد سترہ ہزار ہے، جبکہ ادارے کے پاس موجودہ جہاز کی تعداد اڑتیس ہے، عالمی سطح پر فی جہاز ملازمین کی تعداد اٹہتر ہے، پی آئی اے میں فی جہاز ڈھائی سو ملازمین بھرتی ہیں، واضح رہے پی آئی اے کی خریداری میں ایمریٹس، اتحاد اور قطرایئرلائن کی دلچسپی ظاہر کی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ پی آئی اے کا حقیقی مالک کون ٹہرتا ہے۔