عدالت نے ڈاکٹر عاصم سے متعلق پولیس رپورٹ مسترد کردی

شائع 21 دسمبر 2015 04:24pm

123
کراچی:پولیس نے سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف دہشتگردی اور کرپشن کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔ لیکن انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت نے پولیس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مقدمہ کی ازسرنو تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔

ڈاکٹر عاصم کے خلاف درج دہشتگردی اور کرپشن کے الزامات کے تحت نارتھ ناظم آباد تھانے میں درج مقدمہ کی سماعت انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت میں ہوئی۔نیب اہلکار ڈاکٹر عاصم کو عدالت لے کر آئے۔مقدمہ کے تفیشی افسر، ڈی ایس پی الطاف حسین نے دفعہ 173 کے تحت مقدمہ سے متعلق حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر عاصم کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ سابق تفتیشی افسر نے جانبداری کا مظاہرہ کیا۔ بلز اور دیگر دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔ اسپتال کے کمپیوٹرز ریکارڈ میں ردوبدل کیا اور زمینی حقائق کو مسخ کیا گیا۔

رینجرز افسران کے بیانات قلم بند کئے گئے۔ ایک انسپکٹر کے بیان میں غلطی پائی گئی۔ لہٰذا ڈاکٹر عاصم کے خلاف مقدمہ کو اے کلاس کرکے، دفعہ 497 کے تحت انہیں رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

عدالت کے جج نعمت اللہ پھلپھوٹو نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ ضیاالدین اسپتال کے اقبال بیان کے بارے میں کیا کہیں گے؟عدالت نے تفیشی افسر سے تمام گواہوں کے نام پوچھے اورجے آئی ٹی رپورٹ پڑھ کر سنانے کا حکم دیا۔تفتیشی افسر نے رپورٹ پڑھ کرسنائی جس میں ڈاکٹر عاصم نے دہشتگردوں کے علاج کرنے اور زمینوں کی الاٹمنٹ میں کمیشن لینے کااعتراف کیا ہے۔

عدالت نے پولیس رپورٹ پر پہلے فیصلہ محفوظ کیااور ایک گھنٹے بعد دوبارہ سماعت کے دوران پولیس رپورٹ کو مسترد کردیا۔ عدالت نے ڈاکٹر عاصم کو حراست میں لے کر کل انسداد دہشتگردی کی عدالت نمبر 2 میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔