سندھ میں افسران کی ڈیپوٹیشن کامعاملہ، سپریم کورٹ کااظہاربرہمی

اپ ڈیٹ 01 جون 2016 10:48am
فائل فوٹو فائل فوٹو

سندھ میں افسران کی ڈیپوٹیشن کے معاملے پرسپریم کورٹ نے برہمی کا اظہارکیا ہے،چیف جسٹس کہتے ہیں آج بیان دے دیں سندھ میں جمہوریت نہیں سندھ میں بادشاہت ہے۔

چیف جسٹس انورظہیرجمالی کی سربراہی میں سپریم  کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سندھ میں افسران کی ڈیپوٹیشن پرتعیناتی کے کیس کی سماعت کی۔

عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے سپریم کورٹ سندھ حکومت پر برس پڑیاور ایک ہفتے میں ذمہ داروں کی لسٹ فراہم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

 چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج بیان دے دیں سندھ میں جمہوریت نہیں سندھ میں بادشاہت ہے اور ہر سماعت پر عدالت کو ٹالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کاجج بنے 7سال ہوگئے سندھ حکومت کو یہی رویہ ہے۔

 جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ گریڈ ایک کے بندے کو گریڈ16 پر تعینات کر دیا ، پسند نا پسند پر تقرری ہو گی تو گڈ گورننس کیسے ہو گی، کیس کی سماعت رمضان کے بعد تک ملتوی کر دی گئی۔