دوبارہ شناختی کارڈ کی تصدیق سے متعلق تحریک التوا بحث کیلئے منظور
نیپرا سے متعلق درخواست مسترد کردی گئی - فائل فوٹوچیئرمین سینٹ رضا ربانی نے دوبارہ شناختی کارڈ کی تصدیق سے متعلق تحریک التوا بحث کیلئے منظورکرلی،نیپرا سے متعلق درخواست مسترد کردی گئی۔
چیئرمین رضا ربانی کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا توسینیٹر میاں محمد عتیق شیخ نے نیپرا کی رپورٹ جس میں انکشاف کیا گیا کہ حکومت نے 2015 میں مختلف سرچارجوں کے ضمن میں بجلی کے صارفین سے 65 ارب اکٹھے کئے کی تحریک التوا پیش کی۔
چیئرمین نے تحریک التوا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتنا اہم معاملہ نہیں کہ بحث کروائی جائے،اس حوالے سے جب رپورٹ پیش کی جائے گی تب دیکھیں گے۔
قیمتوں میں 8 فیصد اضافے کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس پرسائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ خام مال کی رسیدیں دیکھ کر قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا،جس کے بعد چیرمین سینٹ نے توجہ دلائو نوٹس نمٹا دیا۔
سینٹر عثمان کاکڑ قومی شناختی کارڈ دوبارہ تصدیق سے متعلق تحریک التوا پیش کرتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈز کی دوبارہ تصدیق سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،جس پرچیرمین نے اتحریک التوا بحث کیلئے مظور کرلی۔
بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے عثمان کاکڑ کا کہنا تھا کہ حکومت نے بجٹ میں چھوٹے صوبوں کو نظرانداز کیا ہے،حکومت نے بجٹ میں چھوٹے صوبوں کو نظرانداز کیا ہے،حکومت کا طرز عمل وفاق کے لیے خطرے کا باعث ہے،یہ کیسا ملک ہے جس کی خارجہ اور داخلہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ طے کرتی ہے۔
عدلیہ اور دیگر ادارے بھی قانون پر عملدرآمد کے پابند ہیں،ملک کی تباہی کا سبب افغانستان میں مداخلت ہے جب تک غریب عوام کے نمائندے ایوانوں میں نہیں آئیں گے بجٹ ٹھیک نہیں بن سکتا۔
سینٹرسعید غنی کا کہنا تھا کہ حکومت آئی تو اس نے پیپلزپارٹی کو بدترین قرار دیا،لیکن 3 سال کے عرصے کے بعد حکومت کی کارکردگی کو دیکھیں تو بدترین سے بھی کوئی آگے لفظ ھو تو وہ استعمال کیا جانا چاہیے۔
ماہرین معشیات کے مطابق، حکومت نے غلط اعداد شمار پیش کیا،650 ارب کا سرکلرڈیٹ موجود ہے۔
سینیٹرشاہی سید کا کہنا تھا کہ بجٹ میں چھوٹے صوبوں کا خیال نہیں رکھا گیا،بجٹ میں چھوٹے صوبوں کا خیال نہیں رکھا گیا۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔