آئندہ ڈرون حملہ دوطرفہ تعلقات کیلئے تباہ کن ہوگا،سرتاج عزیز
فائل فوٹواسلام آباد:مشیرخارجہ سرتاج عزیزکا کہنا ہے کہ آئندہ ڈرون حملہ دوطرفہ تعلقات کیلئےتباہ کن ہوگا، پاکستان نے مطالبہ کیا کہ افغان فورسزتحریک طالبان کیخلاف اپنےعلاقوں میں ایکشن لیں ۔
نوشکی ڈرون حملے بعد پاکستان اورامریکا کے درمیان پہلے باضابطہ مذاکرات کا دوراسلام آباد میں ہوا ۔
پاکستانی وفد کی قیادت سرتاج عزیزجبکہ امریکی وفد کی سربراہی رچرڈ اولسن نے کی ، دونوں جانب سے فریقین نے اپنا موقف کھلے ذہن سے پیش کیا۔ پاک امریکا مذاکرات کا اعلامیہ جاری کیا گیا ۔
سرتاج عزیزنے کہا کہ ڈرون حملے اور افغان امن عمل پربات چیت ہوئی ڈرون حملوں کے باعث پاک امریکا تعلقات کونقصان پہنچایا اورآئندہ حملہ دوطرفہ تعلقات کیلئےتباہ کن ہوگا ۔
ان کا کہنا تھاکہ ڈرون حملے نےافغان مفاہمتی عمل کونقصان پہنچایا ۔ افغان امن 4ملکی رابطہ گروپ کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔
امریکی وفد نے کہا کہ پاکستان میں طالبان کےمحفوظ پناہ گاہیں ہیں، جس پرپاکستان وفد نے جواب دیا کہ نیشنل ایکشن پلان کےتحت تمام دہشت گردوں کاخاتمہ کررہےہیں۔
ڈاکٹرپیٹرلوائے نے کہا کہ صدراوباما پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید بہترکرنا چاہتےہیں ۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔