پنجاب :سولہ سو اکیاسی ارب روپے کا بجٹ پیش
فائل فوٹو
لاہور :مالی سال دو ہزار سولہ سترہ کیلئے پنجاب کا سولہ سو اکیاسی ارب روپے کا بجٹ اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کا تخمینہ پانچ سو پچاس ارب روپے لگایا گیا ہے۔ صحت، تعلیم ، زراعت، امن وامان اور پینے کے صافی پانی کی فراہمی کیلئے مجموعی طور پر آٹھ سو چار ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
ایوان میں ایک ہزار چھ سو اکیاسی ارب اکتالیس کروڑ روپے کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ ایک ہزار انتالیس ارب وفاقی حکومت سے این ایف سی ایوارڈ کے مد میں جبکہ صوبائی ریونیو سے دو سو اسی ارب روپے کی آمدن متوقع ہے جس میں محصولات کی مد میں ایک سو چوراسی ارب چالیس کروڑ اور غیر محصولات کی مد میں پچانوے ارب اکسٹھ کروڑ روپے شامل ہیں۔
وزیر خزانہ پنجاب کے مطابق بجٹ میں تعلیم صحت، صاف پانی کی فراہمی اور امن و امان کے شعبے حکومت کی اولین ترجیح ہیں۔ تعلیم کیلئے باسٹھ ارب روپے، صحت کیلئے ایک سو تین ارب، زراعت کیلئے اڑتالیس ارب جبکہ امن و امان کیلئے مجموعی طور پر ایک سو پینتالیس ارب چھیالیس کروڑ مختص کرنے کی تجاویز ہیں۔ جنوبی پنجاب میں ملتان میٹروبس اور نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مجموعی طور ایک سو تہتر ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ مواصلات اور تعمیرات کیلئے ایک سو ستائیس ارب جبکہ خوارک کیلئے دو سو پینتالیس ارب رکھے گئے ہیں۔پنجاب صاف پانی پروگرام کے تحت ایک سو اکیس ارب کی لاگت سے دس اضلاع میں پینے کا صاف پانی مہیا کیا جائے گا۔ خادم پنجاب رورل روڈز پروگرام کیلئے ستائیس ارب کی رقم مختص کی گئی ہے۔ صوبے کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشنز میں بھی دس فیصد اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔