سامعہ قتل کیس،والد سے تفتیش

شائع 30 جولائ 2016 05:33pm
فائل فوٹو فائل فوٹو

لاہور:پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سامعہ کے قتل کا معاملہ تاحال حل نہ ہوسکا۔ پولیس کی تحقیقات جاری ہے۔ مقتولہ کے والد سمیت دو افراد سے تفتیش کے علاوہ سامعہ کی دوست امبرین کا بیان بھی قلمبند کرلیا گیا ہے۔

وزیراعلی پنجاب کی جانب سے سامعہ قتل کیس کا نوٹس لینے کے بعد انکوائری ٹیم نے اپنا کام شروع کر دیا۔، ٹیم میں ایس پی انوسٹی گیشن جہلم اور ایس پی انوسٹی گیشن گوجرانوالہ شامل ہیں۔ ٹیم کی سربراہی ڈی آئی جی لاہورابوبکرخدا بخش کررہےہیں۔

 ڈی آئی جی ابوبکر خدا بخش اپنی ٹیم کے ہمراہ جائے وقوع پر پہنچے اور جگہ کا معائنہ کیا اور ٹیم کے ہمراہ پولیس لائن جہلم میں گرفتار ملزمان جن میں سامعیہ کے والد چوہدری شاہد ، اور چوہدری مبین سے تفتیش کے علاوہ مقتولہ کی سہیلی عمبرین کے بھی بیانات پولیس لائن میں قلمند کیے۔ پولیس کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹے میں کیس کی تفتیش مکمل کر لی جائے گی جبکہ کیس کے مرکزی ملزم چوہدری شکیل ضمانت قبل از گرفتاری کروانے کے بعد تاحال شامل تفتیش نہیں ہوئے۔

 ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جس گھر میں سامعہ کا قتل کیا گیا ہے اس گھر کے علاوہ کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں کی مالکن بھی سامعہ تھی۔