دو ہزار پندرہ کے اہم ملکی واقعات۔۔
دو ہزار پندرہ ختم ہونے کو ہے ۔یہ سال ہمارے ملک کے لئے زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا ،اس سال ہمارے وطن میں بہت بڑے بڑے واقعے رونما ہوئے جنہیں بھلانا آسان نہیں ہوگا ،اس سال رمضان کراچی میں قیا مت لے کر آیا ،ہمارے ملک کے نامور ادیب،شاعر جو ہمارا اثا ثہ ہیں ہم سے بچھڑ گئے۔
ملک میں اور کون سے واقعات رونما ہوئے ڈالتے ہیں ایک نظر:
عمران اور ریحام کی شادی
دوہزار پندرہ میں ہمیں ایک حیرت انگیز اور چو نکا دینے واکی خبر ملی عمران اور ریحام کی شادی کی صورت میں ،دو ہزار چودہ میں سانحہ آرمی پبلک اسکول کی وجہ سے عمران خان نے جرنلسٹ ریحام خان سے بنی گالہ میں نہایت سادگی سے شادی کرلی۔
عمران کی شادی پاکستانی سیا ست اور پاکستان کے مستقبل میں ایک خوشگوار تبدیلی محسوس کی جا رہی تھی۔
پشاور اسکول دوبارہ کھل گیا
بارہ جنوری دوہزار پندرہ کی تاریخ پاکستان میں رونما ہو نے والے اہم واقعات میں شمار کی جائے گی کیونکہ اس دن پشاور آرمی پبلک اسکول دوبارہ کھل گیا اور جنرل راحیل شریف نے بچوں کو خود آکر خوش آمدید کہا ۔
اسکول کا دوبارہ کھلنا ان دہشت گردوں کو کرارا جوب تھا جو پاکستان کو ترقی کرتا دیکھنا نہیں چاہتے۔
نائن زیرو چھاپہ
گیارہ مارچ دوہزار پندرہ کراچی نائن زیرو پر رینجرز نے چھاپہ مار کر ثابت کردیا کہ کراچی آپریشن نہایت شفاف ہیں اور رینجرز کراچی کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لئے ثابت قدمی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔
ایان علی کی گرفتاری
چودہ مارچ کا دن پاکستان کے میڈیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کیونکہ اس دن فیشن انڈسٹری کی ٹاپ ماڈل ایان علی کو اسلام آباد ائر پورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ پانچ لاکھ امریکی ڈالر دبئی اسمگل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں ۔
عدالت نے انہیں اس کیس میں سزا بھی سنائی اور وہ تقریباً چار ماہ تک جیل میں رہیں ،جیل میں کاٹے گئے ہر دن کو میڈیا نے خصوصی کوریج دی۔
صولت مرزا کی پھانسی
کراچی کی معروف سیا سی جماعت سے تعلق رکھنے والے صولت مرزا کو بارہ مئی دوہزار پندرہ کو تقریباً سولہ سال بعد مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی ۔
پاکستان میں انٹر نیشنل کر کٹ بحال
بائیس مئی کا دن پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے خوشی کی خبر لے کر آیا کیونکہ اس دن چھ سال بعد زمبابوے کی ٹیم یہاں آئی اور پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ بحال ہوئی ۔
زمبابوے کی ٹیم نے لاہور میں قیام کیا اور پی سی بی نے ان کی حفاظت کے سخت انتظامات کئے تھے ۔یہ ہمارے ملک کے لئے بڑا واقعہ اس لئے ہے کیونکہ انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی سے پاکستان کا امیج پوری دنیا میں بہتر ہوا ،یہ واقعہ ان لوگوں کے لئے سخت مایوسی کا سبب بنا جو نہیں چاہتے کہ پاکستان میں انٹر نیشنل کر کٹ بحال ہو۔
بد ترین لوڈ شیڈنگ
انیس جون دو ہزار پندرہ پاکستان خاص کر کراچی کے لئے قیامت خیز ثابت ہوا ،اس دن پہلا روزہ تھا اور اتنی شدید گرمی پڑی کہ لوگ سخت پریشانی کا شکار ہوگئے ،انیس سے اکتیس جون تک گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے باعث کراچی میں ہلاکتوں کی تعداد دیڑھ ہزار سے تجاوز کر گئی تھی ۔
اس افسوس ناک واقعے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ زیادہ ہلاکتیں ہونے کی وجہ سے شہر میں سرد خانوں کی کمی پڑگئی اور لوگوں کی مصیبتوں میں مزید اضافہ ہو گیا۔
ڈاکٹر عاصم حسین گرفتار
چھبیس اگست کی تاریخ پاکستان میں انصاف کی فراہمی کے حوالے سے مدتوں یاد رکھی جائے گی ،کیونکہ اس دن سندھ کابینہ کے رکن اور سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست ڈاکٹر عاصم حسین کو بد عنوانی اور کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ۔
سندھ میں رینجرز کی اس کاروائی کو ایک دلیرانہ قدم گردانہ گیا ،کسی بھی با اثر شخصیت کی گرفتاری کا یہ عمل پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔
اردو کو سرکاری طور پر نفاذ کرنے کا حکم
آٹھ ستمبر کا دن بھی دو ہزار پندرہ کے اہم واقعات میں سے ایک ہے کیونکہ اس دن سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ اردو کو فوری طور پر سرکاری زبان کے طور پر رائج کیا جائے۔
عمران ریحام کی طلاق
عمران نے شادی کے دس ماہ بعد تیس اکتو بر دو ہزار پندرہ کو ریحام کو طلاق دے دی یہ خبر پورے ملک پر بجلی بن کر گری ،جس طرح ان دونوں کی شادی ملک میں ایک بڑی تبدیلی خیال کی جارہی تھی ان کی طلاق کی خبر نے پاکستانی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ۔
ایاز صادق دوبارہ اسپیکر قومی اسمبلی منتخب
نو نومبر دو ہزار پندرہ سردار ایاز صادق لاہور سے ضمنی انتخاب لڑ کر ایک بار پھر اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔انہوں نے ایک اسمبلی سے دو بار منتخب ہو کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
شہید مریم مختار
چوبیس نومبر کا دن پاکستان کے لئے نہایت افسوس ناک رہا کیونکہ اس دن پاکستان کی بہادر بیٹی مریم مختار پاکستان کے تربیتی طیارے کے گرنے کے باعث شہید ہو گئیں۔
کمال احمد رضوی اس دنیا سے چلے گئے
پاکستانی ٹی وی کے عظیم فنکار کمال احمد رضوی المعروف الن ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ تھے ،طو یل علالت کے بعد سترہ دسمبر کو وہ اپنے مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر اس دنیا سے چلے گئے۔




























اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔