پچاس ہزارایکڑاراضی پرقبضہ ہوچکا ہے،محکمہ ریلوے
کراچی :کراچی ڈویڑن میں محکمہ ریلوے کی پچاس ہزار ایکٹر سے زائد اراضی پر قبضہ ہے اور ایک سال کی جدوجہد کے بعد بھی صرف پندرہ ایکڑ زمین واگذار کرائی جاسکی ہے۔
محکمہ ریلوے اراضی کے اعتبار سے ملک کا دوسرا بڑا ادارہ ہے، مگر بدقسمتی سے ارباب اختیار نے اس محکمہ کے اثاثوں کے تحفظ پرتوجہ نہیں دی اور نتیجتاًملک بھر میں لاکھوں ایکٹر اراضی پر قبضہ ہوگیا، صرف کراچی ڈویزن ریلوے کی پچاس ہزار ایکٹر زمین پر قبضہ ہوچکا ہے۔
کراچی کا شاید ہی کوئی علاقہ ہو جہاں ریلوے ٹریک نہ گذرتا ہو، اور ٹریک کے دونوں جانب شاید ہی کوئی زمین بچی ہو جہاں آبادی یا قبضہ نہ ہو۔
موجودہ حکومت نے ریلوے کی اراضی واگزار کرانے کا بیڑا اٹھایا مگر یہ کام اتنا بھی آسان نہیں کیونکہ مبینہ زیر قبضہ اراضی پر آباد مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ زمین پیسے دے کر خریدی ہیں ۔
ریلوے حکام کے مطابق اراضی قومی اثاثہ ہے، زمینوں کو واگذار کرانے کی کاروائی جاری رکھی جائے گی ۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔