عباس عراقچی کا روس جانے سے قبل دورہ پاکستان کا امکان
ایران کی سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر بیانات نے صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں سیاسی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی مجموعی صورتحال اور باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عباس عراقچی روس روانگی سے قبل دوبارہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی وفد کے بعض ارکان تہران واپس جا چکے ہیں، جبکہ دیگر نمائندے اتوار کی شب اسلام آباد میں دوبارہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔
اس سے قبل ایرانی وفد نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی سیکیورٹی اور بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں تقریباً پچاس منٹ تک دوطرفہ امور اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر ہتھیار نہ بنانے پر بات چیت جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے معاہدے کے لیے ایک ابتدائی دستاویز پیش کی، تاہم جب دورہ منسوخ کیا گیا تو صرف دس منٹ کے اندر ایک نیا اور بہتر مسودہ سامنے آ گیا۔
امریکی صدر کے مطابق یہ کوئی پیچیدہ مذاکرات نہیں بلکہ ایک سادہ معاملہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے اندر قیادت کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں، تاہم امریکا جس بھی قیادت کے ساتھ معاملات طے ہوں گے، اسی سے بات چیت کرے گا۔