Live
Health

مارچ اور اپریل میں تربوز کا استعمال کتنا نقصان دہ؟ ماہرین کی وارننگ

تربوز سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے تین سنہری اصولوں پر عمل کریں۔
شائع 28 مارچ 2026 09:56am

مارچ اور اپریل کے مہینوں میں جہاں موسم انگڑائی لے رہا ہے، وہیں بازاروں میں وقت سے پہلے نظر آنے والے تربوز صحت کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں میں تربوزوں کی بھرمار ہو جاتی ہے اور لوگ صحت بخش سمجھ کراسے خریدنے کے لیے فورا لپکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مارچ اور اپریل میں تربوز کھانے سے پہلے احتیاط ضروری ہے۔

تربوز کو ”ٹھنڈی تاثیر“ اور ”بھاری غذا“ سمجھا جاتا ہے، جسے ہضم کرنے کے لیے جسم کا تیار ہونا ضروری ہوتا ہے۔

ماہرین غذائیت کے مطابق موسم کے آغاز میں، خاص طور پر مارچ اور اپریل میں، جسم ابھی گرمیوں کے پھلوں کو مکمل طور پر ہضم کرنے کے قابل نہیں ہوتا، جس کے باعث سوجن، تھکن اور بدہضمی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

تربوز دراصل مکمل گرمیوں کا پھل ہے اور اسے اس وقت کھانا زیادہ مفید ہوتا ہے جب گرمی کا موسم اچھی طرح شروع ہو جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ تربوز کھانے کا اصل اور بہترین وقت مئی کے وسط سے شروع ہوتا ہے، جب گرمی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کو بھی اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ تربوز کا ’گلیسیمک انڈیکس‘ 72 سے 80 کے درمیان ہوتا ہے، جو خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔

تربوز سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے تین سنہری اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔

تربوزہمیشہ صبح 11 بجے سے شام 5 بجے کے درمیان کھائیں، جب نظامِ ہاضمہ سب سے زیادہ فعال ہوتا ہے۔

تربوز کو ہمیشہ اکیلا کھائیں؛ اسے دودھ، دہی یا کسی دوسرے پھل کے ساتھ ملا کر کھانا ہاضمے کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

اسے صرف شدید گرمی کے موسم میں ہی اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔

ان اصولوں پرعمل کرنے سے نہ صرف معدہ پرسکون رہتا ہے بلکہ جسم میں ہلکا پن اور تازگی بھی برقرار رہتی ہے۔

کتنا لمبا جئیں گے؟ جسم کی ایک سادہ پیمائش سے عمر کا اندازہ ممکن

پنڈلی کا سائز زندگی کی مدت کا اشارہ دے سکتا ہے: نیورولوجسٹ کا دعویٰ
شائع 25 مارچ 2026 02:59pm

عام طور پر صحت اور لمبی زندگی کا اندازہ وزن یا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) سے لگایا جاتا ہے، لیکن طبی ماہرین اب ایک نئے اور سادہ پیمانے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، اور وہ یہ کہ انسان کی پنڈلیوں کا گھیراؤ یہ بتا سکتا ہے کہ زندگی کتنی طویل ہو سکتی ہے اور بڑھاپے میں صحت کی حالت کیسی رہے گی۔

نیورولوجسٹ ڈاکٹر سدھیر کمار حیدرآباد بھارت کے اپولو ہسپتال سے وابستہ ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک تفصیلی پوسٹ میں وضاحت کی ہے کہ عام طور پر لوگ صحت کو جانچنے کے لیے وزن یا باڈی ماس انڈیکس پر توجہ دیتے ہیں، لیکن اصل اشارہ جسم کے نچلے حصے یعنی پنڈلیوں میں موجود پٹھوں کی مقدار میں چھپا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنڈلی کے گھیراؤ میں کمی دراصل جسم میں پٹھوں کی کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے جسے طبی زبان میں سارکوپینیا کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت جسمانی کمزوری، بیماری کے دوران پیچیدگیوں اور بڑھاپے میں زیادہ کمزوری کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ بات اہم ہے کہ صرف وزن ٹھیک ہونا ہمیشہ اچھی صحت کی ضمانت نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر سدھیر کمار نے مختلف طبی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنڈلی کے کم سائز اور زیادہ شرح اموات کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق بعض بڑے سائنسی تجزیوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن افراد کی پنڈلی چھوٹی ہوتی ہے ان میں خطرہ دو گنا سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔

اسی طرح یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پنڈلی کے گھیراؤ میں ہر ایک سینٹی میٹر اضافے کے ساتھ موت کے خطرے میں تقریباً پانچ فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔

انہوں نے مردوں اور عورتوں کے لیے ایک عمومی معیار بھی بتایا جس کے مطابق اگر مردوں میں پنڈلی کا گھیراؤ 34 سینٹی میٹر سے کم ہو اور خواتین میں 33 سینٹی میٹر سے کم ہو تو یہ کمزوری اور زیادہ صحت کے خطرات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد میں گرنے، فریکچر اور دیگر پیچیدگیوں کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ماہرِ اعصاب کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے پٹھے قدرتی طور پر کم ہونے لگتے ہیں، لیکن اس عمل کو سست یا روکا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے طاقت بڑھانے والی ورزشیں، خاص طور پر ویٹ ٹریننگ، بہت ضروری ہیں۔

نیورولوجسٹ ڈاکٹر کمار کا کہنا ہے کہ پٹھوں کی مضبوطی صرف خوبصورتی یا فٹنس کا معاملہ نہیں بلکہ یہ صحت مند اور طویل زندگی کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔

اس رپورٹ میں سامنے آنے والی معلومات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ صحت کا اندازہ صرف وزن یا ترازو پر موجود عدد سے نہیں لگایا جانا چاہیے، بلکہ جسم میں پٹھوں کی حالت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ مضبوط پنڈلیاں نہ صرف جسمانی طاقت کو بہتر بناتی ہیں بلکہ یہ طویل اور صحت مند زندگی کی ایک اہم علامت بھی ہو سکتی ہیں۔

ان معلومات پر جہاں کچھ لوگوں نے مثبت ردِ عمل دیا ہے وہیں صارفین مکمل طور پر مطمئن نظر نہیں آئے، کیونکہ ان دعووں کی کوئی توثیق یا تحقیق موجود نہیں۔

صارفین کا کہنا ہے کہ صرف پنڈلی کا سائز دیکھ کر یہ کہنا کہ کوئی شخص زیادہ یا کم عمر جئے گا، یہ بات سائنسی طور پر یا حتمی طور پر ثابت نہیں۔ صحت اور عمر پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں جیسے دل کی صحت، خوراک، جینیات، ورزش، بیماریوں کی تاریخ وغیرہ۔ اس لیے پنڈلی کا سائز ایک مددگار اشارہ ہو سکتا ہے، مگر اس وقت تک فیصلہ کن یا واحد معیار نہیں مانا جاسکتا جب تک اس پر تحقیق نہ کی جائے۔

باہر کی گرمی اور آفس کا اے سی؛ کیا آپ کا جسم یہ دہرا جھٹکا برداشت کر پائے گا؟

چند احتیاطی تدابیر سے اس مسئلے کو کم کیا جا سکتا ہے.
شائع 25 مارچ 2026 02:29pm

موسمِ گرما کی تپتی دھوپ سے جیسے ہی ہم آفس کے ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں قدم رکھتے ہیں، ہمیں فوری سکون تو ملتا ہے، لیکن یہ اچانک تبدیلی ہمارے جسم کے لیے ایک خاموش خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق، باہر کی شدید تپش اور اندر کی ٹھنڈک کے درمیان بار بار کا سفر انسانی جسم کو ’ڈبل تھرمل شاک‘ میں مبتلا کر رہا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ماہرِ طب ڈاکٹر نمریتا سنگھ کا کہنا ہے کہ انسانی جسم اچانک تبدیلیوں کو پسند نہیں کرتا۔ جب ہم گرمی میں ہوتے ہیں، تو ہمارا جسم حرارت نکالنے کے لیے رگوں کو پھیلاتا ہے، لیکن اے سی کی ٹھنڈک میں جاتے ہی یہ رگیں اچانک سکڑ جاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ، ’خون کی گردش میں یہ اچانک اتار چڑھاؤ سر درد، تھکاوٹ اور پٹھوں میں کھچاؤ کا باعث بنتا ہے۔ طویل مدت میں یہ عمل بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بھی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔‘

اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ اے سی کی وجہ سے انہیں زکام ہو گیا ہے، لیکن ڈاکٹر نمریتا کے مطابق یہ ہمیشہ انفیکشن نہیں ہوتا۔

اے سی کی خشک ہوا سانس کی نالیوں میں چبھن پیدا کرتی ہے جس سے کھانسی، گلے میں خشکی اور چھینکیں آنے لگتی ہیں۔ اسے عام طور پر ’کامن کولڈ‘ سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ یہ دراصل درجہ حرارت کی تبدیلی پر جسم کا ردِعمل ہوتا ہے۔

گرمی میں پسینہ آنے سے جسم سے پانی کم ہوتا ہے، جبکہ اے سی والے ماحول میں جلد مزید خشک ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خارش، خشکی اور آنکھوں میں جلن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹھنڈے ماحول میں پیاس کم لگتی ہے، جس سے لوگ کم پانی پیتے ہیں جو گردوں اور جلد کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

اصل مسئلہ صرف گرمی یا ٹھنڈ نہیں بلکہ ان کے درمیان اچانک تبدیلی ہے۔ جسم کو آہستہ آہستہ بدلتے ماحول کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے کا وقت نہیں ملتا، جس سے توانائی میں کمی اور ہلکی طبیعت کی خرابی محسوس ہو سکتی ہے۔

بچاؤ کے آسان طریقے

ماہرین کے مطابق چند سادہ احتیاطی تدابیر سے اس مسئلے کو کم کیا جا سکتا ہے:

اے سی کو ہمیشہ 24 سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھیں تاکہ جسم پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔

پیاس نہ بھی لگے تب بھی وقفے وقفے سے پانی پییں تاکہ ہائیڈریشن برقرار رہے۔

اے سی کی ٹھنڈی ہوا کے بالکل سامنے بیٹھنے سے گریز کریں۔

شدید دھوپ سے آ کر فوراً اے سی میں نہ جائیں۔ چند منٹ کسی سائے والی جگہ یا نارمل درجہ حرارت میں رکیں تاکہ جسم خود کو ماحول کے مطابق ڈھال سکے۔

باہر سے آ کر فوراً ٹھنڈے ماحول میں جانے کے بجائے کچھ وقت نارمل درجہ حرارت میں گزاریں۔

آپ کی روزمرہ کی تھکاوٹ اور سر درد کی وجہ شاید کام کا بوجھ نہیں، بلکہ درجہ حرارت کا یہ اتار چڑھاؤ ہے۔ تھوڑی سی احتیاط اور آگاہی سے نہ صرف ان تکالیف سے بچا جا سکتا ہے بلکہ گرمیوں میں مجموعی صحت کو بھی بہتر رکھا جا سکتا ہے۔

ٹانگوں کے 7 مسائل جو ذیابیطس کی ابتدائی علامات ہو سکتے ہیں

انہیں عام کمزوری سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔
شائع 15 مارچ 2026 10:06am

ذیابیطس (شوگر) محض خون میں شکر کی زیادتی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ خاموش قاتل جسم کے مختلف حصوں، بالخصوص پیروں کے ذریعے خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے۔

اکثر لوگ پیروں میں ہونے والی تبدیلیوں کو تھکن یا بڑھتی عمر کا اثر سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جو کہ مستقبل میں سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے ان پر دھیان دینا ضروری ہے۔

ذیل میں پیروں میں ظاہر ہونے والی وہ 7 علامات درج ہیں جو ذیابیطس کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔

پیر میں جھنجھناہٹ یا سوئیاں چبھنا

اگر آپ کو اپنے پیروں میں مستقل جھنجھناہٹ یا سوئیاں چبھنے جیسا احساس ہوتا ہے، تو اسے معمولی نہ سمجھیں۔ طبی زبان میں اسے ’پیریفرل نیوروپیتھی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہائی بلڈ شوگر آپ کے پیروں کی نسوں کو نقصان پہنچا رہی ہے

پنڈلوں میں جلن کا احساس

گھٹنے کے نچلے حصے یعنی پنڈلیوں میں جلن محسوس ہونا، خاص طور پر رات کے وقت، ذیابیطس کی ایک اہم علامت ہے۔ اکثر لوگ اسے زیادہ چلنے یا تھکن سے جوڑ دیتے ہیں، لیکن ذیابیطس کی وجہ سے اعصاب صحیح کام نہ کرنے کی وجہ سے بھی یہ مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

پیر کے بالوں کا کم ہونا

شاید یہ سن کر آپ کو حیرت ہو، لیکن پیروں کے بالوں کا تیزی سے گرنا یا غائب ہونا خراب دورانِ خون کی علامت ہے۔ جب ذیابیطس کی وجہ سے خون کی گردش متاثر ہوتی ہے تو بالوں کی جڑوں تک آکسیجن اور غذائیت نہیں پہنچ پاتی، جس سے بال گرنے لگتے ہیں۔

پیر میں اچانک اور شدید درد

رات کو سوتے وقت اچانک پیر میں درد ہونا ذیابیطس کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ اکثر خراب خون کے بہاؤ اور اعصاب میں مسئلے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب پٹھوں کو ضرورت کے مطابق خون نہیں ملتا، تو وہ درد کی صورت میں ردِعمل ظاہر کرتے ہیں۔ جبکہ لوگ اسے پانی یا منرلز کی کمی سمجھ لیتے ہیں۔

جلد کے رنگ میں تبدیلی

کچھ لوگوں کے ٹخنوں اور پینڈلوں کی جلد کا رنگ بدل جاتا ہے، زیادہ گہرا یا دھبوں والا ہو جاتا ہے۔ اکثر لوگ اسے گندگی یا سورج کی روشنی کی وجہ سے سمجھتے ہیں، لیکن یہ ذیابیطس کی علامت ہوسکتی ہے کیونکہ زیادہ شوگر خون کی چھوٹی شریانوں کو متاثر کرتا ہے، جس کا اثر جلد کی رنگت پر واضح نظر آتا ہے۔

جلد میں کھنچاؤ اور غیر معمولی چمک

اگر آپ کے پیروں کی جلد ضرورت سے زیادہ ٹائٹ، کھنچی ہوئی اور چمک دار نظر آنے لگے تو یہ جسم میں رطوبت کے رکنے کی علامت ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پیروں میں خون کا بہاؤ درست نہیں ہے اور وہاں سوزش ہو رہی ہے۔

ٹانگوں کے درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ

کبھی کبھی پیر بہت زیادہ ٹھنڈے یا گرم ہو جاتے ہیں۔ یہ خون کی نالیوں کے متاثر ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے جو ذیابیطس کے مریضوں میں ایک عام شکایت ہے۔

اگر آپ میں یہ علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور ذیابیطس کے لیولز کا ٹیسٹ کروائیں۔ پیر کے مسائل کو نظرانداز کرنا مستقبل میں بڑی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

پاکستان میں موٹاپے اور ذیابیطس کی جدید ادویات کی مقامی سطح پر پیداوار شروع

پاکستان میں حالیہ رپورٹس اور سروے کے مطابق تقریباً 30 فیصد بالغ آبادی ذیابیطس میں مبتلا ہے
شائع 10 مارچ 2026 01:27pm

پاکستان میں دوا ساز کمپنیوں نے حال ہی میں جدید GLP-1 اور GIP پر مبنی ادویات متعارف کروائی ہیں تاکہ ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

پاکستان میں ذیابیطس اور موٹاپے کا مسئلہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ہر تین میں سے ایک بالغ شخص کو خون میں شکر کے زائد تناسب کا سامنا ہے، جس کے باعث پاکستان دنیا کے تیسرے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔

درآمدات کے علاوہ کچھ مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیاں اب GLP-1 (Glucagon-Like Peptide-1) اور GIP (Glucose-Dependent Insulinotropic Polypeptide) بیسڈ ادویات کی مقامی سطح پر پیداوار اور فراہمی بھی شروع کر رہی ہیں تاکہ ملک میں ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے کو قابو میں لایا جا سکے۔

وفاقی حکومت، عالمی ادارہ صحت اور انٹرنیشنل ڈائیابیٹیز فیڈریشن کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 34.5 ملین ہے۔

اس کے علاوہ نو ملین سے زائد پاکستانی افراد ابھی تک اس بیماری کی تشخیص سے محروم ہیں، جبکہ 57 فیصد خواتین اور 41 فیصد مرد وزن میں اضافے یا موٹاپے کا شکار ہیں۔ جس سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ سات گنا بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر قیصر وحید کے مطابق حالیہ رپورٹس اور سروے کے مطابق تقریباً 30 فیصد بالغ آبادی ذیابیطس میں مبتلا ہے، جس میں نوعمری میں ذیابیطس (ٹائپ 1) بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے اب یہ جدید ادویات مقامی سطح پر سستے داموں فراہم کرنا شروع کر دی ہیں، کیوں کہ امپورٹ شدہ ادویات مہنگی تھیں۔ GLP-1 ادویات انسولین کو بہتر بناتی ہیں، ہاضمے کی رفتار کم کرتی ہیں اور بھوک کم کرتی ہیں، جبکہ ڈوئل GIP/GLP-1 ادویات اثر کو مزید بڑھاتی ہیں۔

پاکستان میں Ozempic، Zeptide اور Mounjaro جیسی ادویات انجیکشن کی شکل میں دستیاب ہیں، جو ہفتہ میں ایک بار صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر دی جاتی ہیں۔ ٹیبلٹ کی شکل میں ادویات روزانہ استعمال کے لیے تجویز کی جا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر قیصر وحید نے کہا کہ پاکستان میں صرف وہ ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں پہلے سے متعارف ہو چکی ہوں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی ہدایات کے مطابق، فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو صرف SRA (Stringent Regulatory Authority) منظور شدہ ادویات ہی متعارف کرانے کی اجازت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ عوام کو اپنی طرزِ زندگی بہتر بنانی ہوگی، متوازن غذا لینی ہوگی اور واک جیسے ورزشیں کرنی ہوں گی تاکہ خون میں شکر کا تناسب قابو میں رہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عالمی معیار کے کرکٹر وسیم اکرم نے ذیابیطس کو صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا اور ورزش کے ذریعے کنٹرول کیا ہے۔

ڈاکٹر قیصر وحید نے بتایا کہ مقامی فارما کمپنیوں نے یہ نئی ادویات چار خوراکوں پر مشتمل پیکٹ میں 5,000 سے 15,000 روپے میں متعارف کرائی ہیں، جب کہ امپورٹ شدہ ادویات کی قیمت 150,000 سے 300,000 روپے کے درمیان تھی۔

نوو نوردیسک فارما، جو پاکستان میں Ozempic فراہم کرتی ہے، نے کہا کہ ’ہماری GLP-1 تھراپیز دنیا بھر میں ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج کے طریقے بدل رہی ہیں، اور پاکستان میں ہم صحت کے پیشہ وران اور حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ صرف پیچیدگیوں کے علاج کے بجائے ان کی روک تھام کی جا سکے‘۔

ڈاکٹر محمد علی عارف، جو ذیابیطس اور موٹاپے کے ماہر اور پروفیسر آف میڈیسنز ہیں، نے وضاحت کی کہ ٹائپ 2 ذیابیطس کی بنیادی وجہ انسولین ریزسٹنس ہے، یعنی جسم انسولین پیدا کر سکتا ہے مگر یہ مطلوبہ طریقے سے کام نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ ’انسولین ریزسٹنس کی سب سے بڑی وجہ موٹاپا یا زیادہ وزن ہے۔ اسی لیے ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپا ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور صورتحال کو مزید خراب کرتے ہیں۔‘

ڈاکٹر عارف نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں غذا کا معیار خراب ہے، لوگ زیادہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، فرائیڈ فوڈ، فاسٹ فوڈ اور پراسیسڈ فوڈ استعمال کرتے ہیں، اور ورزش یا جسمانی سرگرمیاں بہت کم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اس بیماری کی جڑوں سے نمٹنا ضروری ہے، تعلیم اور گھر سے شروع ہو کر۔ والدین اور اساتذہ بچوں کو بتائیں کہ زیادہ وزن ہونا بیماری ہے، اسکول اور کالج کی کینٹینز میں صحت مند کھانے دستیاب ہوں، اور میٹھے مشروبات، فاسٹ فوڈ اور پراسیسڈ فوڈ مہنگے ہوں تاکہ لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوں۔‘

ڈاکٹر عارف نے زور دیا کہ ’اب ادویات بھی وزن کو کنٹرول کرنے اور ذیابیطس کو ممکنہ طور پر تاخیر سے شروع کرنے کے لیے دستیاب ہیں۔ ہمیں مجموعی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ وزن کو قابو میں رکھنا، صحت مند غذا لینا، جسمانی سرگرمیاں کرنا اور ڈاکٹروں سے مشورہ کر کے وزن کم کرنے کی ادویات لینا ضروری ہے۔

پاکستان کی سعودی عرب اور انڈونیشیا کے تعاون سے ویکسین پلانٹ کے قیام میں پیش رفت

پاکستان اس وقت ڈبلیو ایچ او، یونیسف اور بل گیٹس فاؤنڈیشن جیسے اداروں کے ذریعے رعایتی ویکسین حاصل کر رہا ہے۔
شائع 10 مارچ 2026 01:10pm

پاکستان نے مقامی سطح پر ویکسین سازی کے پلانٹ کے قیام کے لیے سعودی عرب اور انڈونیشیا کے ساتھ تعاون کو مزید تقویت دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد 2031 تک بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے سبسڈائزڈ بوسٹر ویکسین کی فراہمی کے خاتمے سے پیدا ہونے والے ممکنہ طبی اور مالی بحران سے بچاؤ اور ویکسین کی پیداوار میں خودکفیل بننا ہے۔

پاکستان اس وقت گاوی، عالمی ادارہ صحت، یونیسف اور بِل و میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن جیسے عالمی اداروں کے ذریعے ویکسین رعایتی نرخوں پر حاصل کر رہا ہے۔

وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کے عہدیدار کے مطابق سعودی عرب اور انڈونیشیا سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ فالو اپ میٹنگ کی گئیں تاکہ پاکستان میں ویکسین پروڈکشن پلانٹ قائم کیا جا سکے۔ اس منصوبے میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور پاکستان اور اس کے شراکت دار بروقت ویکسین کی دستیابی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز مصطفیٰ کمال نے حال ہی میں سعودی وزارتِ صحت کے مشیر نِزار بن حریری کی قیادت میں 11 رکنی اعلیٰ سطح سعودی وفد سے ملاقات کی جو مقامی استعداد کا جائزہ لینے کے لیے دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچا تھا۔

وفد نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اور نجی شعبوں کے مخصوص مراکز کا بھی دورہ کیا۔

سعودی وفد سے ملاقات کے بعد وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی وفد نے پاکستان کی تکنیکی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے بھرپور دلچسپی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کی سرکاری بائیو فارماسیوٹیکل کمپنی نے بھی مکمل تعاون اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی یقین دہانی کرائی ہے اور ہم معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔ انہوں نے روک تھام کو صحت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویکسین بیماری کے خلاف پہلی دفاعی لائن ہیں۔

پاکستان میں قومی حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے تحت بچوں کو 13 بیماریوں کے خلاف مفت ویکسین فراہم کی جاتی ہے۔ جس میں ہر سال پیدا ہونے والے تقریباً 6.2 ملین بچے بھی شامل ہیں۔

ملک اس وقت ویکسین کی خریداری کے تقریباً 51 فیصد اخراجات خود برداشت کرتا ہے، جو سالانہ 4 سے 5 سو ملین امریکی ڈالر کے لگ بھگ ہیں، جبکہ 49 فیصد بین الاقوامی شراکت داروں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ امداد آہستہ آہستہ کم ہو جائے گی اور 31-2030 تک پاکستان کو ویکسین کی خریداری کے تمام اخراجات خود برداشت کرنے ہوں گے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 2031 تک پاکستان کو مکمل طور پر اپنے وسائل سے ویکسین خریدنی ہوگی، جس کی متوقع لاگت سالانہ 1.2 بلین امریکی ڈالر ہوگی۔

اس نئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے وزارتِ قومی صحت نے پچھلے 7 ماہ مقامی ویکسین سازی کی حکمت عملی تیار کرنے میں صرف کیے۔ مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر چین، انڈونیشیا اور سعودی عرب میں وزرائے صحت اور اس صنعت سے وابستہ افراد سے ملاقات کر کے تعاون، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف خود کفالت حاصل کرنے کا خواہاں ہے بلکہ ویکسین سازی اور برآمدات کے لیے علاقائی مرکز بھی بننا چاہتا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق ملک کو اس وقت سالانہ تقریباً 1.4 ارب ویکسین کی ضرورت ہے۔ اقتصادی طور پر پیداوار کم از کم 3 ارب خوراک تک پہنچانی ہوگی اور اضافی خوراک بین الاقوامی منڈیوں کو برآمد کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ملک کی پہلی قومی ویکسین پالیسی بھی تیار کر لی گئی ہے اور وزیر اعظم کو پیش کر دی گئی ہے۔ اس پالیسی میں ویکسین الائنس کی تشکیل، منتخب مینوفیکچررز کو مخصوص ویکسین کی تقسیم اور تجارتی استحکام کے لیے حکومت کی بائے بیک گارنٹی شامل ہے۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سینئر وائس چیئرمین کامران ناصر نے کہا کہ مقامی ویکسین پیداوار کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کا مقصد ایک کنسورشیم قائم کرنا ہے تاکہ پاکستان میں بڑا ویکسین پلانٹ قائم کیا جا سکے۔ ملک میں وقت کے ساتھ ایک سے زائد پلانٹس کے قیام کا بھی امکان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقامی سطح پر دلچسپی رکھنے والے گروپس بھی اس کنسورشیم میں شامل ہو سکتے ہیں تاکہ مقامی ویکسین پلانٹ ایک کامیاب منصوبہ بن سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ایک مقامی ویکسین پلانٹ قائم کرے تاکہ 31-2030 کے قریب ممکنہ طبی اور مالی بحران سے محفوظ رہا جا سکے۔

رمضان میں روزہ دار ڈی ہائیڈریشن سے کیسے محفوظ رہیں؟

رمضان نہ صرف روح کی پاکیزگی کا موقع ہے بلکہ جسمانی صحت کا بھی امتحان ہے۔
شائع 04 مارچ 2026 11:39am

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنی روحانیت کے ساتھ ساتھ جسمانی محنت اور صبر کا امتحان بھی ہے۔ روزہ دار اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں، مگر گرمی کے موسم میں طویل دورانیے کے روزے جسم میں پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔

نیوز18 کے مطابق علی گڑھ میڈیکل کالج کے شعبہ فارماکولوجی کے پروفیسر اور ہیڈ ڈاکٹر سید ضیاء الرحمٰن کا کہنا ہے کہ روزہ ہر مسلمان پر فرض ہے اور ہر طبقے کے لوگ اسے عقیدت کے ساتھ رکھتے ہیں، لیکن گرمی میں دھوپ کے اندر کام کرنے والے افراد کو جسمانی صحت کا نظر انداز کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن نے مشورہ دیا کہ سحری کو کسی صورت چھوڑا نہ جائے، کیونکہ یہ سنت بھی ہے اور دن بھر توانائی برقرار رکھنے کا ذریعہ بھی ہے۔

سحری کے وقت ہلکی مگر غذائیت سے بھرپور غذا لینا اور مناسب مقدار میں پانی پینا لازمی ہے۔ کھجور، تازہ پھل یا جوس توانائی بڑھانے اور جسم کو دن بھر کام کرنے کے قابل بنانے میں مددگار ہوتے ہیں۔

پورے دن کی گرمی اور تھکن کے بعد افطار کے وقت جسم کو دوبارہ ہائیڈریٹ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے شربت، تازہ جوس یا موسمی پھل بہترین ثابت ہوتے ہیں۔

اگر مہنگے مشروبات دستیاب نہ ہوں تو تربوز، خربوزہ، پپیتا جیسے رسیلے پھلوں کی چاٹ بنا کر کھانا بھی مؤثر اور سستا متبادل ہے۔

ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن نے زور دیا کہ گرمی میں زیادہ محنت کرنے والے افراد خاص احتیاط کریں، زیادہ پانی پئیں اور زیادہ دیر دھوپ میں نہ رہیں، تاکہ روزے کی روحانیت کے ساتھ ساتھ صحت بھی محفوظ رہ سکے۔

رمضان نہ صرف روح کی پاکیزگی کا موقع ہے بلکہ جسمانی صحت کا بھی امتحان ہے، اس لیے مناسب غذائیت اور پانی کی مقدار کا خیال رکھنا ہر روزہ دار کے لیے لازم ہے۔

کھجور یا کھجی : صحت کے لیے کیا زیادہ فائدہ مند ہے؟

ان کے اثرات اور خصوصیات میں کچھ فرق ہے۔
اپ ڈیٹ 16 دسمبر 2025 09:49am

کھجور ایک توانائی سے بھرپور اور غذائیت سے لبریز پھل ہے، جو دنیا بھر میں مختلف اقسام میں دستیاب ہے۔ اس کا ذائقہ، رنگ، شکل اور غذائی فوائد مختلف اقسام میں بدلتے ہیں، جیسے کہ سیاہ کھجور ، عجوہ، چھوہارے اور کھجی وغیرہ ۔

کھجور کی افادیت کی وجہ سے یہ سردیوں میں خاص طور پر استعمال کی جاتی ہے، کیونکہ یہ توانائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جسم کو مختلف وٹامنز اور معدنیات بھی مہیا کرتی ہے۔

اگرچہ کھجور کی تمام اقسام غذائیت سے بھرپور ہیں، لیکن سیاہ کھجور اور کھجی میں کچھ نمایاں فرق پایا جاتا ہے جو ان کے فوائد اور اثرات کو الگ کرتا ہے۔

عام کھجور سیار رنگ کی اور نرم اور میٹھی ہوتی ہیں اور ان میں شکر کی مقدار کم جبکہ فائبر زیادہ ہوتا ہے۔ یہ خاص طور پر نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے، قبض سے نجات دلانے اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے مفید ہیں۔

ایسی کھجور میں آئرن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو خون کی کمی (انیمیا) کے شکار افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ ان کا استعمال تھکاوٹ اور جسمانی کمزوری کو دور کرنے میں بھی مددگار ہے، کیونکہ یہ جسم کو دیرپا توانائی فراہم کرتی ہیں۔

اگر آپ کو قبض، جسمانی کمزوری یا خون کی کمی کی شکایت ہے یا ذیابیطس کے مریض ہیں تو یہ کھجور آپ کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔

کھجی کارنگ پیلا ہوتا ہے اور یہ قدرتی طور پر خشک ہوتی ہیں اور ان میں قدرتی شکر اور کاربوہائیڈریٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ یہ فوری توانائی فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

کھجی کا استعمال کمزور افراد، بچوں اور وزن بڑھانے کے خواہش مند افراد کے لیے مفید ہے۔ ان میں کیلشیم اور فاسفورس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہیں۔

سردیوں میں کھجی کا استعمال سوزش کو کم کرتا ہے اور جوڑوں کے درد میں راحت پہنچاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جلد کی چمک بڑھانے اور بالوں کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔

یہ ان افراد کے لیے زیادہ مناسب ہے جو فوری توانائی چاہتے ہیں، وزن بڑھانا چاہتے ہیں، یا ہڈیوں کی مضبوطی اور جوڑوں کے درد سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

سردیوں میں چائے میں لونگ ڈالنے کی 4 وجوہات

غرض، دونوں قسم کی کھجوریں مخصوص فوائد رکھتی ہیں۔ آپ اپنی صحت کی ضروریات کے مطابق کھجور یا کھجی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ کھجوروں کا صحیح استعمال بھی بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کھجور کھانا چاہتے ہیں تو انہیں رات بھر دودھ یا پانی میں بھگونا بہترین طریقہ ہے۔ اس سے کھجور نرم ہو جاتی ہے اور جسم میں غذائی اجزاء جلدی جذب ہو پاتے ہیں۔ یہ آسانی سے ہضم بھی ہوجاتی ہے۔ اس طریقے سے کھانے سے جسم کی گرمی بڑھنے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

کینسر جین والے ڈونر کے سپرم سے یورپ میں تقریباً 200 بچوں کی پیدائش

اگرچہ یہ سپرم برطانوی فرٹیلٹی کلینکس کو فراہم نہیں کیا گیا، تاہم برطانیہ کی کچھ خواتین نے ڈنمارک میں علاج کے دوران اسی ڈونر کا استعمال کیا تھا
شائع 11 دسمبر 2025 11:22am

یورپ بھر میں تقریباً 200 بچوں کی پیدائش ایسے سپرم ڈونر کے ذریعے ہوئی ہے جس میں کینسر سے منسلک خطرناک جینیاتی مادہ (Gene Mutation) موجود تھا، جس کا اسے خود بھی علم نہیں تھا۔

جین میوٹیشن کا مطلب جسم کے اندر موجود ذرات میں اچانک آنے والی تبدیلی، جو کبھی فائدہ مند اور کبھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ سپرم برطانوی فرٹیلٹی کلینکس کو فراہم نہیں کیا گیا، تاہم برطانیہ کی کچھ خواتین نے ڈنمارک میں علاج کے دوران اسی ڈونر کا استعمال کیا تھا۔

ڈونر کے جسم میں ٹی پی 53 نامی جین میں تبدیلی موجود تھی، جو عام طور پر جسم میں کینسر بننے سے روکنے کا کام کرتا ہے۔ اس جین کے ایک حصے کے خراب ہونے کے باعث اس کے تقریباً 20 فیصد سپرم میں یہ نقص پایا گیا تھا۔

جن بچوں کی پیدائش ان متاثرہ سپرم سیلز کے ذریعے ہوئی، ان کے جسم کے ہر خلیے میں یہی نقص موجود ہے۔ اس کے نتیجے میں انہیں لی-فراومینی سنڈروم لاحق ہو جاتا ہے جو کہ ایک نایاب مگر انتہائی سنگین جینیاتی بیماری ہے، جس سے 60 سال کی عمر تک کینسر ہونے کا خطرہ 90 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

یہ سنڈروم چھاتی کے کینسر، دماغی رسولیوں، ہڈیوں کے کینسر (اوسٹیوسارکوما)، اور کئی بچوں میں پائے جانے والے مہلک امراض سے وابستہ ہے۔

بی بی سی اور 13 دیگر عوامی نشریاتی اداروں کی مشترکہ تحقیق سے انکشاف ہوا کہ کچھ بچے پہلے ہی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ توقع ہے کہ مزید بچے اپنی زندگی کے دوران مختلف اقسام کے کینسر کا شکار ہو سکتے ہیں۔

سردیوں میں چائے میں لونگ ڈالنے کی 4 وجوہات

ڈونر 2005 میں بطور طالب علم سپرم عطیہ کر رہا تھا اور اسے اس کے بدلے ادائیگی ہوتی تھی۔ اس کے سپرم کے نمونے 17 سال تک استعمال کیے گئے اور تمام معمول کے اسکریننگ ٹیسٹوں میں کلیئر ہوتے رہے۔

اس وقت تک موجودہ معیار کی اسکریننگ کے ذریعے ٹی پی 53 کے اس مخصوص تبدیلی کا پتہ چلانا ممکن ہی نہیں تھا۔

ڈنمارک کا یورپین سپرم بینک، جس نے ڈونر کا سپرم فراہم کیا، اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اس ڈونر کے سپرم کا استعمال غیر معمولی طور پر زیادہ حملوں کے لیے کیا گیا۔ ادارے نے متاثرہ خاندانوں سے افسوس کا اظہار کیا ہے اور تمام شناخت شدہ خاندانوں سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔

تھائیرائیڈ کے شکار افراد کا ڈائٹنگ کرنا کیوں خطرناک ہے؟

سپرم بینک کا کہنا ہے کہ موجودہ معمول کے ٹیسٹ اس طرح کی جینیاتی تبدیلی نہیں پکڑ سکتے، تاہم جیسے ہی مسئلہ سامنے آیا، ڈونر کو فوراً روک دیا گیا۔

یورپین سوسائٹی آف ہیومن جینیٹکس کی ایک حالیہ میٹنگ میں ڈاکٹروں نے اس معاملے پر تشویش ظاہر کی۔

اس وقت تک شناخت شدہ 67 بچوں میں سے 23 میں یہ تبدیلی موجود تھی، اور 10 پہلے ہی کینسر میں مبتلا ہو چکے تھے۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ دنیا بھر میں کم از کم 197 بچوں کی پیدائش اسی ڈونر کے سپرم سے ہوئی ہو سکتی ہے، اور اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ تمام ممالک نے ڈیٹا شیئر نہیں کیا۔

برطانیہ میں ایک ہی ڈونر کے سپرم سے زیادہ سے زیادہ 10 خاندانوں کو اولاد پیدا کرنے کی اجازت ہے، جبکہ کئی ممالک میں کہیں زیادہ تعداد کی اجازت موجود ہے۔

برطانوی فرٹیلٹی ریگولیٹر ایچ ایف ای اے نے تصدیق کی ہے کہ یہ سپرم برطانیہ کے لائسنس یافتہ کلینکس کو فراہم نہیں کیا گیا، تاہم برطانیہ کی چند خواتین نے ڈنمارک کے کلینکس میں علاج کے دوران اسی سپرم کا استعمال کیا۔

ایچ ایف ای اے کے مطابق چونکہ علاج برطانیہ میں نہیں ہوا، اس لیے اس کیس کی ذمہ داری ڈنمارک کے حکام پر عائد ہوتی ہے۔

گھٹنے میں مسلسل درد کو ’ایروبک‘ سے کیسے ختم کریں؟

یہ مطالعہ دنیا بھر کے 15,000 سے زائد شرکاء پر مبنی 217 رینڈمائزڈ کنٹرول ٹرائلز کا تجزیہ کر لے کیا گیا۔
اپ ڈیٹ 28 اکتوبر 2025 02:54pm

اگر آپ گھٹنوں کے جوڑ میں درد محسوس کر رہے ہیں، تو اس کا حل چلنا یا ہلکی ایروبک ورزش ہو سکتی ہے۔

امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک بالغ، یعنی تقریباً 54 ملین لوگ کسی نہ کسی قسم کی جوڑوں کی سوزش کا شکار ہیں، جس میں سب سے عام قسم گٹھیا یا اوسٹیوارتھرائٹس ہے۔ یہ بیماری خاص طور پر 55 سال سے زائد عمر کے افراد میں عام ہے اور گھٹنے کے جوڑ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

صرف کیلشیم نہیں، ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لیے یہ غذائیں بھی ضروری ہیں

15 اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، ایروبک ورزش گھٹنے کے گٹھیا کے مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اس سے درد کم ہوتا ہے، جوڑ کی حرکت بہتر ہوتی ہے اور روزمرہ زندگی کے معیار میں بہتری آتی ہے۔

ڈاکٹر انتونیا ایف چن کے مطابق، اوسٹیوارتھرائٹس ہڈیوں کے سرے پر موجود کارٹلیج (حفاظتی تہہ) کے گھسنے یا خراب ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، جس سے درد، سختی اور حرکت میں کمی آتی ہے۔ اس کے عام اسباب میں چوٹ، پہلے سے موجود جوڑوں کی بیماریاں، موٹاپا، ذیابیطس، اور جینیاتی عوامل شامل ہیں۔

ہر مریض کے لیے موزوں یونیورسل گردہ تیار، خون میچ نہ ہونے کا خدشہ ختم

اگرچہ گھٹنے کے گٹھیا کا مکمل علاج ممکن نہیں، لیکن درد کم کرنے اور حرکت بہتر بنانے کے کئی طریقے موجود ہیں۔ ڈاکٹر لی یان کے مطابق، ایروبک ورزش سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ یہ ورزش درد کم کرتی ہے، حرکت بہتر بناتی ہے اور زندگی کے معیار میں نمایاں بہتری لاتی ہے۔

ایروبک ورزش کیا ہے؟

یہ دہرائے جانے والی حرکات ہیں، جیسے کہ ، چلنا، جاگنگ، سائیکلنگ، تیراکی۔

سی این این کی فٹنس ماہر دانا سانتاس کے مطابق، ایروبک ورزش جوڑوں کو مضبوط کرتی ہے، پٹھوں کو سہارا دیتی ہے اور درد کم کرتی ہے۔

مریضوں کے لیے مشورے

گھٹنے کے گٹھیا والے افراد کم یا درمیانے اثر کی ورزش کریں اور دوڑنے یا جمپ ٹریننگ سے پرہیز کریں۔

ورزش شروع کرنے کے لیے روزانہ 10,000 قدم یا ہفتے میں 150 منٹ کی ضرورت نہیں۔ ابتدا میں 5–10 منٹ چہل قدمی یا سائیکلنگ کافی ہے۔

ورزش سے پہلے وارم اپ ضروری ہے۔ ٹخنوں اور کولہوں کی ہلکی حرکات جیسے ٹخنوں کے گول گھماؤ یا ہپ اسٹریچز کریں۔

گہرے اسکواٹس اور کولہوں کو مروڑنے والی حرکات سے گریز کریں کیونکہ یہ گھٹنے پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔

AAJ News Whatsapp

طاقت بڑھانے والی ورزشیں شامل کریں

ابتدائی ورزش کے طور پر سنگل لیگ رومانیئن ڈیڈ لفٹ (آر ڈی ایل) کریں۔ وزن ایک ٹانگ پر منتقل کریں اور دوسری ٹانگ کی انگلیوں پر کھڑے رہیں تاکہ غیر استعمال شدہ ٹانگ پر دباؤ نہ پڑے۔

توازن کے لیے دیوار کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔

چاہے آپ ایروبک کریں یا طاقت بڑھانے والی ورزش، مستقل مزاجی ضروری ہے۔ شدید ورزش کی ضرورت نہیں، بس باقاعدگی سے حرکت کرتے رہنا ضروری ہے۔

لیکن یاد رکھیں، کسی بھی ورزش یا علاج کو شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا صحت کے ماہر سے مشورہ ضروری ہے۔

یہ مطالعہ دنیا بھر کے 15,000 سے زائد شرکاء پر مبنی 217 رینڈمائزڈ کنٹرول ٹرائلز کا تجزیہ کر کے کیا گیا اور مختلف ورزشوں کے اثرات کو 4، 12 اور 24 ہفتوں کے بعد دیکھا گیا۔

فضائی آلودگی کی وجہ سے ہونے والی کھانسی سے کیسے نمٹا جائے؟

آلودہ ہوا میں موجود چھوٹے ذرات اور کیمیائی مادے گلے کی نازک جھلیوں کو چبھ کر کھانسی پیدا کر سکتے ہیں۔
شائع 28 اکتوبر 2025 11:34am

ملک میں سردیوں کے موسم کی آمد سے ماحول میں دھند اور دھواں بڑھ جاتا ہے، جس کی وجہ سے کھانسی ایک عام مسئلہ بن گیا ہے۔

عام طور پر ہم کھانسی کو نزلہ یا الرجی سے جوڑتے ہیں، لیکن آلودہ ہوا میں شامل چھوٹے ذرات اور کیمیائی مادے گلے کی نازک جھلیوں کو چبھاتے ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ اس میں گلے میں جلن یا خراش، خشک یا مسلسل کھانسی، سانس لینے میں ہلکی یا کبھی کبھار شدید دشواری، پہلے سے موجود الرجی یا سانس کی بیماریوں میں اضافہ شامل ہیں۔ جبکہ بعض افراد میں گلے کی خراش کی وجہ سے نیند یا روزمرہ کے کام متاثر ہو سکتے ہیں۔

صبح کے وقت ناک کیوں زیادہ بند محسوس ہوتی ہے؟

کھانسی سے بچنے کے آسان طریقے

اے کیو آئی چیک کریں

ایپ یا ویب سائٹ سے ہوا کا معیار ( اے کیو آئی) دیکھیں۔ جب ہوا کا معیار خراب ہو تو باہر زیادہ وقت گزارنے سے بچیں، خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں جب دھواں اور دھند زیادہ ہوتی ہے۔

ماسک پہنیں

اگر باہر جانا ضروری ہو تو N95 یا FFP2 ماسک استعمال کریں۔ یہ چھوٹے ذرات کو کپڑے کے ماسک سے بہتر روکتا ہے۔

گھرکی ہوا صاف رکھیں

کھڑکیاں بند رکھیں اور ایئر پیوریفائر چلائیں۔ اگر نہیں ہے تو گھر کے پودے رکھیں اور دھواں پیدا کرنے والی چیزوں سے بچیں۔

زہریلی اور آلودہ فضا، پھیپھڑوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

ہوا میں نمی رکھیں

خشک ہوا گلے کو زیادہ چبھاتی ہے۔ ہیومیڈیفائر یا پانی کا پیالہ رکھیں تاکہ ہوا ہلکی نمی والی ہو۔

گرم پانی سے غرارے اور بھاپ لیں

گرم نمکین پانی سے غرارے کریں اور 5–10 منٹ بھاپ لیں۔ یہ گلے کو سکون دیتا ہے اور بلغم نرم کرتا ہے۔

گرم مشروبات پئیں

گرم پانی، جڑی بوٹیوں کی چائے، سوپ، ادرک اور تلسی کھانسی کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

AAJ News Whatsapp

ناک صاف رکھیں

نمکین پانی یا نیٹی پاٹ سے ناک دھوئیں، تاکہ ذرات نکل جائیں اور کھانسی کم ہو۔

باہر جانے کا وقت درست رکھیں

آلودگی زیادہ ہونے پر غیر ضروری باہر نہ جائیں۔ دن کے درمیانی وقت تھوڑا باہر نکلنا بہتر ہوتا ہے۔

سانس اور صحت پر دھیان دیں

سگریٹ چھوڑیں، گھر میں دھواں کم کریں، صحت مند رہیں اور آسان سانس کی مشقیں کریں۔ یہ آلودگی کی وجہ سے کھانسی کو کم اور صحت بہتر بناتے ہیں۔

اگر کھانسی، گلے کی خراش یا سانس لینے میں دشواری زیادہ ہو یا طویل وقت تک برقرار رہے تو فوراً ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ خود سے ادویات نہ لیں۔ دمہ یا دیگر سانس کی بیماری والے افراد کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔

صبح کے وقت ناک کیوں زیادہ بند محسوس ہوتی ہے؟

تھوڑی سی توجہ اور احتیاط آپ کی صبح تازہ سانسوں کے ساتھ شروع کرسکتی ہے۔
شائع 26 اکتوبر 2025 03:46pm

صبح بیدار ہوتے ہی ناک بند ہونا ایک عام مسئلہ ہے جو ہر عمر کے افراد کو متاثر کرتا ہے۔ بظاہر یہ معمولی زکام لگتا ہے، مگر حقیقت میں اس کے پیچھے کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جیسے الرجی، ناک کی اندرونی سوزش، نیند کے دوران جسم کی پوزیشن، بلغم کا جمع ہونا یا ناک کی ہڈی کا ٹیڑھا ہونا۔

صبح کی بند ناک سے نہ صرف نیند میں سانس لینا مشکل ہوتا ہے بلکہ دن بھر کی توانائی، توجہ اور موڈ پر بھی اثر پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ صرف بلغم کا نہیں بلکہ کئی عوامل اس میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ رات کے وقت خون کے بہاؤ اور ناک کی جھلی کی سوجن میں تبدیلی آتی ہے، جس سے ناک زیادہ بند محسوس ہوتی ہے۔

زیادہ یورک ایسڈ آپ کی بینائی کو متاثر کر سکتا ہے

اہم وجوہات

اندرونی الرجی

گھر کے اندر موجود گردوغبار، بستر میں موجود ڈسٹ مائٹس، پالتو جانوروں کے بال یا نمی سے پیدا ہونے والی پھپھوندی الرجی کو بڑھا دیتی ہے۔ چونکہ ہم کئی گھنٹے تکیے اور گدے کے قریب رہتے ہیں، اس لیے صبح اُٹھتے ہی ناک بند محسوس ہوتی ہے۔

غیر الرجک نزلہ

کچھ لوگوں کی ناک درجہ حرارت، خوشبو، دھوئیں یا نمی میں تبدیلی پر حساس ہوجاتی ہے۔ یہ کیفیت عموماً رات یا صبح کے وقت زیادہ ہوتی ہے۔

پوسٹ نیزل ڈرِپ یا معدے کا تیزاب

رات کے وقت ناک اور گلے میں جمع ہونے والے ہلکے بلغم سے بھی صبح ناک بند ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اگر معدے کا تیزاب گلے تک آجائے تو سوزش اور بلغم دونوں بڑھ جاتے ہیں۔

صرف کیلشیم نہیں، ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لیے یہ غذائیں بھی ضروری ہیں

سائنوس انفیکشن یا زکام

اگر ناک سے گاڑھا مادہ نکل رہا ہو، چہرے میں دباؤ یا درد ہو، تو یہ سائنوس کی سوزش یا بیکٹیریل انفیکشن کی علامت ہوسکتی ہے۔ طویل عرصے تک ناک بند ہونا چہرے کے درد اور دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

ناک کی خراب ساخت

ناک کی ہڈی ٹیڑھی ہو، پولپس ہوں یا اندرونی بافتیں سوجی ہوں تو سانس لینے کی راہ تنگ ہوجاتی ہے، خاص طور پر لیٹنے پر ناک زیادہ بند محسوس ہوتی ہے۔

رات کے وقت جسم میں فزیالوجیکل تبدیلیاں

نیند کے دوران کورٹی سول کی سطح کم ہو جاتی ہے اور خون کی روانی میں فرق آتا ہے، جس سے ناک کی رگیں پھیل جاتی ہیں۔ نتیجتاً صبح اُٹھتے وقت بندش زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

آسان اور مؤثر گھریلو حل

بند ناک کے مسئلے سے اکثر آسان علاج سے گھر پر ہی قابو کیا جا سکتا ہے۔ کچھ موثر طریقے یہ ہیں۔

بیڈروم کو الرجی فری بنائیں

تکیے اور گدے پر ڈسٹ مائٹ کور لگائیں، بستر کو ہفتہ وار گرم پانی سے دھوئیں، پالتو جانوروں کو کمرے سے دور رکھیں ۔

نمکین پانی سے ناک کی صفائی کریں

نیٹی پوٹ یا اسپرے سے روزانہ صبح یا رات سونے سے پہلے ناک دھوئیں۔ اس سے بلغم، گردوغبار اور الرجی کے ذرات صاف ہوتے ہیں۔

ناک کے اسپرے یا دوا کا استعمال

اگر مسئلہ دائمی ہے تو ڈاکٹر کے مشورے سے کورٹی کو اسٹیرائڈ اسپرے استعمال کریں۔ یہ ناک کی سوجن کم کرتے ہیں۔

کمرے کی فضا میں نمی برقرار رکھیں

خشک ہوا ناک کی جھلی کو متاثر کرتی ہے۔ کول مِسٹ ہیومیڈیفائر استعمال کریں لیکن زیادہ نمی سے پرہیز کریں تاکہ پھپھوندی نہ لگے۔

سر اونچا رکھ کر سوئیں

تکیہ تھوڑا اونچا رکھیں تاکہ بلغم گلے میں جمع نہ ہو اور سانس لینے میں آسانی ہو۔

AAJ News Whatsapp

اگر ناک بند رہنا 12 ہفتے سے زیادہ جاری رہے، چہرے میں درد ہو، ناک سے خون آئے، بار بار انفیکشن ہو یا سونگھنے کی حس متاثر ہو، تو فوراً اسپیشلسٹ سے رجوع کریں۔

نیند سے اُٹھتے ہی ناک بند ہونا عام بات ہے، مگر اس کے پیچھے الرجی، سائنوس، سوزش یا ساختی خرابی ہوسکتی ہے۔ بروقت علاج، صفائی، نمکین پانی سے صفائی، مناسب نمی اور سونے کا درست انداز اس مسئلے کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔

تین غلطیاں جو خواتین جِم میں کرتی ہیں، تمنا بھاٹیا کے فٹنس کوچ کا انکشاف

فٹنس کوچ سِدھارتھ سنگھ نے انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کی ہے۔
شائع 25 اکتوبر 2025 12:26pm

جِم میں باقاعدہ ورزش نہ صرف جسمانی طاقت، برداشت اور مجموعی فٹنس بڑھاتی ہے بلکہ یہ موڈ کو بہتر بنانے اور ذہنی دباؤ و پریشانی کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ تاہم، ورزش کے صحیح طریقے اور درست تکنیک کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہے۔

حال ہی میں، تمنا بھٹیا کے فٹنس کوچ سِدھارتھ سنگھ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے خواتین کے جِم میں سب سے عام تین غلطیوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

کیا دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ہیرا تمنا بھاٹیہ کے پاس ہے؟ حقیقت سامنے آگئی

ورزش کے طریقے ہر ہفتے بدلنا

سِدھارتھ سنگھ نے کہا، ایک ہفتے کچھ کریں، پھر آئینے میں دیکھ کر فیصلہ کر لیں کہ یہ کام نہیں کر رہا یہ سب سے بڑی غلطی ہے۔ نتائج حاصل کرنے کے لیے مستقل مزاجی اور وقت کا انتظار کرنا ضروری ہے۔ ورزش کے طریقے ہر دوسرے روز نہ بدلیں۔ روزانہ ایک ہی ورزش کو صحیح طریقے سے دہرانا سب سے اہم ہے۔

AAJ News Whatsapp

دوسروں کی نقل کرنا

کچھ خواتین جِم میں دوسروں کے فٹنس روٹین کو دیکھ کر اسے اپنی روزمرہ ورزش سمجھ لیتی ہیں اور اپنانے کی کوشش کرتی ہیں، مگر یہ درست نہیں۔ سنگھ نے وضاحت کی، ’ ہر شخص کی ورزش اس کے جسم کے مطابق ہوتی ہے۔ آپ کو ایسی ورزش کرنی چاہیے جو آپ کے جسم کے مطابق ڈیزائن کی گئی ہو۔’

وجے اور تمنا بھاٹیہ کی علیحدگی کیوں ہوئی؟ حیران کن وجہ سامنے آگئی

بہت ہلکے وزن اٹھانا

تیسری عام غلطی خواتین میں یہ دیکھی گئی کہ وہ جِم میں بہت ہلکے وزن اٹھاتی ہیں۔ سنگھ نے کہا، ہلکا وزن صرف حرکت کے لیے کافی نہیں ہوتا، بلکہ یہ مسلز میں مناسب دباؤ ڈالنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر آخری 2-3 بار ورزش کرنا آسان لگے تو وزن بہت ہلکا ہے۔ مسلز کو مضبوط اور ٹون کرنے کے لیے صحیح دباؤ ضروری ہے، صرف حرکت کرنا کافی نہیں۔

جِم میں ورزش کے دوران مستقل مزاجی، صحیح وزن کا انتخاب اور اپنے جسم کے مطابق ورزش کرنا ضروری ہے۔ غیر مناسب تکنیک یا دوسروں کی نقل کرنے سے نہ صرف نتائج متاثر ہوتے ہیں بلکہ چوٹ لگنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

اسٹروک کی 5 ہلکی مگر خطرناک نشانیاں، جو چہرے پر ظاہر ہوتی ہیں

اسٹروک کا حملہ اچانک ہوتا ہے۔
شائع 25 اکتوبر 2025 10:29am

فالج (اسٹروک) ایک اچانک آنے والی طبی ایمرجنسی ہے، جو بظاہر بغیر کسی انتباہ کے حملہ کرتی ہے۔ مگر اکثر اوقات جسم، خاص طور پر چہرہ، ہمیں پہلے ہی کچھ باریک مگر اہم اشارے دیتا ہے کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ اگر ان ابتدائی علامات کو پہچان لیا جائے تو نہ صرف جان بچائی جا سکتی ہے بلکہ مستقل معذوری سے بھی محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

یہ نشانیاں عام طور پر ہلکی محسوس ہوتی ہیں، مگر دراصل جسم کا خبردار کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ آئیے جانتے ہیں فالج کی وہ پانچ ابتدائی نشانیاں کون سی ہیں؟ جو چہرے پر ظاہر ہو سکتی ہیں اور اگر یہ ظاہر ہوں تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

زہریلی اور آلودہ فضا، پھیپھڑوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

چہرے کا ایک طرف سے ڈھلک جانا

فالج کی سب سے نمایاں اور عام علامت یہ ہے کہ چہرے کا ایک حصہ اچانک ڈھلک جاتا ہے۔ جب کسی متاثرہ شخص سے مسکرانے کو کہا جائے تو واضح فرق محسوس ہوتا ہے ۔ چہرے کا ایک رخ معمول کے مطابق اوپر اٹھتا ہے، جبکہ دوسرا حصہ ساکت رہتا ہے یا نیچے کو لٹک جاتا ہے۔

یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب فالج دماغ کے اس حصے کو متاثر کرتا ہے جو چہرے کے عضلات کو کنٹرول کرتا ہے۔ متاثرہ جانب کے پٹھے اپنی حرکت کھو دیتے ہیں، جس کی وجہ سے چہرہ غیر متوازن نظر آتا ہے۔

ہارٹ اٹیک سے قبل دکھنے والی 4 بڑی علامات، جنہیں کبھی نظر انداز نہ کریں

بعض اوقات مریض کو بات کرنے یا آنکھ بند کرنے میں بھی دشواری محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ایک طرف کے عضلات کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ علامت درد سے خالی ہوتی ہے، لیکن بصری طور پر فوراً پہچانی جا سکتی ہے اور یہ اس بات کا مضبوط اشارہ ہے کہ دماغ کے کسی حصے میں خون کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔ ایسی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ بروقت علاج فالج کے سنگین اثرات کو کم کر سکتا ہے۔

چہرے کے ایک حصے میں سنسناہٹ یا بے حسی

اکثر لوگ ہاتھ یا پاؤں میں سن ہونے کو فالج کی علامت سمجھتے ہیں، مگر یہ احساس چہرے پر بھی ہو سکتا ہے۔ اگر چہرے کے کسی حصے میں اچانک جھنجھناہٹ، سنسناہٹ یا سوئی چبھنے جیسا احساس ہو، تو اسے معمولی نہ سمجھیں۔ یہ احساس اس بات کا اشارہ ہے کہ دماغ کے مخصوص حصے میں خون کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔ اگر یہ کیفیت چند لمحوں میں ختم نہ ہو تو فوراً طبی مدد حاصل کریں۔

بولنے میں لڑکھڑاہٹ یا الفاظ ٹھیک سے ادا نہ ہونا

چونکہ چہرے کے پٹھے بولنے میں مدد دیتے ہیں، اس لیے ان پر اثر پڑنے سے بات چیت مشکل ہو جاتی ہے۔ اگر کسی شخص کی بولتے وقت زبان لڑکھڑانے لگے، الفاظ ادھورے یا بگڑے ہوئے لگیں، یا وہ اپنی بات سمجھا نہ سکے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ بعض اوقات متاثرہ شخص ذہنی طور پر بات سمجھتا ہے مگر زبان ساتھ نہیں دیتی۔ یہ علامت فوری طبی توجہ کی متقاضی ہے۔

ہونٹوں یا چہرے کی ساخت ایک جیسی نہ رہے

چاہے کوئی شخص مکمل طور پر مسکرا نہ بھی رہا ہو، پھر بھی اس کے چہرے پر فالج کی ابتدائی علامت دیکھی جا سکتی ہے۔ اگر منہ کا ایک حصہ دوسرے کے مقابلے میں نیچے کو جھکا ہوا دکھائی دے، یا ہونٹوں کے کنارے غیر متوازن لگیں، تو یہ خطرے کا اشارہ ہو سکتا ہے۔

یہ فرق بعض اوقات عام حالت، بات چیت کے دوران یا کسی جذباتی اظہار کے وقت زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ تبدیلی بہت معمولی محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ چہرے کے سن ہونے یا بولنے میں دشواری جیسی علامات بھی ظاہر ہوں تو یہ فالج کا واضح اشارہ بن جاتی ہے۔ ایسے مریض کو اکثر پانی پینے یا نگلنے میں بھی مشکل پیش آ سکتی ہے، کیونکہ چہرے کے متاثرہ عضلات اپنی حرکت کھو بیٹھتے ہیں۔

فوری طور پر کیا کرنا چاہیے؟

اگر ان میں سے ایک یا زیادہ علامات کسی شخص میں نظر آئیں تو انتظار مت کریں۔ فوراً ہنگامی طبی امداد (ایمرجنسی سروسز) سے رابطہ کریں۔ چاہے یہ علامات چند منٹ بعد ختم ہو جائیں، تب بھی یہ منی اسٹروک یا آنے والے بڑے فالج کی وارننگ ہو سکتی ہے۔

AAJ News Whatsapp

فالج کی علامات کو یاد رکھنے کے لیے فاسٹ فارمولا مددگار ہے، اگر چہرے کا ایک حصہ ڈھلک جائے یا بازو میں کمزوری محسوس ہوجائے یا سن ہو یا بولنے میں دقت پیش آئے تو یہ وقت فوراً مدد حاصل کرنے کا ہوتا ہے۔

یاد رکھیں، فالج کی یہ علامات بعض اوقات دیگر بیماریوں سے بھی جڑی ہو سکتی ہیں، اس لیے خود تشخیص سے گریز کریں اور کسی مستند ڈاکٹر سے فوری معائنہ کروائیں۔ بروقت کارروائی نہ صرف نقصان کو کم کر سکتی ہے بلکہ زندگی بچا سکتی ہے۔

نوزائیدہ بچے رات کے وقت زیادہ کیوں روتے ہیں؟

نومولود کے ہر بار رونے کو بیماری نہ سمجھیں.
شائع 24 اکتوبر 2025 10:55am

نوزائیدہ بچے عموماً دن کے مقابلے میں رات کے وقت زیادہ روتے ہیں۔ اکثر والدین اس بات سے پریشان رہتے ہیں کہ بچہ اچانک گھنٹوں کیوں چیختا اور روتا ہے اور اسے چپ کرانا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟

ماہرین کے مطابق، اگر بچہ تین سے چار ماہ کی عمر تک بار بار اور لمبے وقت کے لیے روتا ہے، تو اسے کولک کرائی (Colic Cry) کہا جاتا ہے، جو نومولود بچوں میں عام ہے۔

والدین کی یہ عادتیں بچوں کے دماغ کو کمزور کردیتی ہیں

کولک کیا ہے؟

کولک دراصل پیٹ میں گیس یا ہاضمے کی تکلیف کے باعث ہونے والی عارضی بے چینی ہے۔ جب بچے کا پیٹ پھول جاتا ہے یا گیس جمع ہو جاتی ہے تو وہ مسلسل روتا ہے، اپنی ٹانگیں موڑ لیتا ہے، پیٹ پر ہاتھ مارتا ہے اور چہرہ سرخ ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت عموماً شام یا رات کے وقت زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ دن بھر دودھ پینے کے بعد گیس کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

والدین نادانستہ طور پر اپنے بچوں کو کیسے بگاڑ سکتے ہیں

رات کے وقت بچے کے رونے کی ممکنہ وجوہات

پیٹ میں گیس یا بدہضمی: دودھ پینے کے دوران ہوا نگلنے سے گیس بن جاتی ہے۔

بھوک یا زیادہ دودھ : کچھ بچے زیادہ دودھ پینے کے بعد بھی رونے لگتے ہیں کیونکہ ان کا معدہ چھوٹا ہوتا ہے اور وہ زیادہ دودھ ہضم نہیں کر پاتا۔

روشنی یا شور سے الجھن: نوزائیدہ بچوں کا اعصابی نظام نازک ہوتا ہے، تھوڑا شور یا روشنی بھی انہیں بے چین کر سکتی ہے۔

تھکن یا نیند کی کمی: کبھی کبھار بچہ زیادہ تھک جاتا ہے لیکن سو نہیں پاتا، جس سے وہ چڑچڑا ہو جاتا ہے۔

ماں سے قربت کی کمی: بچوں کو ماں کی قربت اور لمس کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ضرورت پوری نہ ہونے پربھی بچہ روتا ہے۔

سادہ طریقے جو بچے کو جلد چپ کرا سکتے ہیں

زیادہ تر صورتوں میں بچے کا رات کو رونا خطرناک نہیں ہوتا، بلکہ یہ پیٹ کی نارمل تکلیف یا کولک کی وجہ سے ہوتا ہے۔ صبر، محبت اور چند آسان تدابیر سے بچے کی تسلی اور سکون ممکن ہے۔

بچے کو اپنی بانہوں میں لے کر ہلکے سے جھولائیں۔

پیٹ کے بل لٹا کر تھوڑی دیر پیٹھ پر مالش کریں۔

دودھ پلانے کے بعد ڈکار دلوانا ضروری ہے، تاکہ گیس نہ بنے۔

کمرے کی روشنی ہلکی کر کے پرسکون ماحول بنائیں۔

اگر بچہ مسلسل 3 گھنٹے سے زیادہ روتا رہے تو بچوں کے ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔

AAJ News Whatsapp

اگر بچے کے ساتھ درج ذیل علامات ظاہر ہوں،

بخار یا الٹی

دودھ پینے سے انکار

پیٹ سخت ہو جانا

سانس لینے میں دقت

تو یہ عام کولک نہیں بلکہ کسی طبی مسئلے کی نشاندہی ہو سکتی ہے۔

ماہرین اطفال کے مطابق نوزائیدہ بچے کا رونا اس کا بولنے کا طریقہ ہے۔ ہر بار رونے کو بیماری نہ سمجھیں۔ لیکن اگر بچہ بار بار اور طویل وقت تک روئے تو کولک یا گیس کا علاج کروانا بہتر ہے۔

زیادہ یورک ایسڈ آپ کی بینائی کو متاثر کر سکتا ہے

یورک ایسڈ کو کنٹرول کرنے کے آسان طریقے کیا ہو سکتے ہیں؟
شائع 23 اکتوبر 2025 02:43pm

زیادہ یورک ایسڈ، جسے ہائپر یوریسیمیا کہتے ہیں، عام طور پر گاؤٹ اور گردے کی پتھری سے جڑا ہوتا ہے۔ لیکن حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ آنکھوں کی صحت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

یورک ایسڈ کی زیادتی جسم میں سوزش اور کرسٹل کے جمع ہونے کا سبب بن کر آنکھوں میں مختلف مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

صرف کیلشیم نہیں، ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لیے یہ غذائیں بھی ضروری ہیں

آنکھوں پر یورک ایسڈ کے اثرات

خشک آنکھیں: آنکھوں میں نمی کم ہو جاتی ہے، سرخی، جلن اور دھندلا دکھائی دینا شروع ہو سکتا ہے۔ طویل عرصے تک خشک آنکھیں قرنیہ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

آنکھوں میں کرسٹل : یورک ایسڈ کے کرسٹل لڈز، کونجکٹوا، قرنیہ یا اسکلرا میں جمع ہو کر سرخی، سوجن اور کبھی درد کا سبب بن سکتے ہیں۔

یوویائٹس : آنکھ کے اندر سوزش، روشنی سے حساسیت، دھندلا دیکھنا اور درد ہو سکتا ہے۔

مٹھائیوں پر لگایا جانے والا چاندی کا ورق ’نان ویجیٹیرین‘ ہے؟

گلوکومہ: اکثر بڑھتے ہوئے اندرونی آنکھ کے دباؤ کی وجہ سے آنکھ کے نرو کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

ریٹینا کے مسائل: مسلسل زیادہ یورک ایسڈ سے ریٹینا کی خون کی نالیوں میں تبدیلی آسکتی ہے، جس سے بصارت متاثر ہو سکتی ہے۔

AAJ News Whatsapp

یورک ایسڈ کو کنٹرول کرنے کے آسان طریقے

ادویات: کچھ ادویات یورک ایسڈ کو کم کرنے اور کرسٹل بننے سے بچانے میں مدد کرتی ہیں۔

خوراک میں تبدیلی: سرخ گوشت، سمندری غذا، آرگن گوشت اور الکحل کم کریں۔ سبزیاں، گیہوں اور کم چکنائی والی ڈیری استعمال کریں۔

پانی زیادہ پئیں: پانی یورک ایسڈ کو جسم سے خارج کرنے میں مدد کرتا ہے۔

صحت مند طرز زندگی: ورزش کریں، وزن کنٹرول کریں اور زیادہ شکر والے مشروبات سے پرہیز کریں۔

وقت پر یورک ایسڈ کی نگرانی کرنے اور مناسب اقدامات کرنے سے گلوکومہ، ریٹینا ڈیمیج اور دیگر آنکھوں کے مسائل سے بچا جا سکتا ہے، اور دل و گردے کی صحت بھی بہتر رہ سکتی ہے۔

وہ خاموش تھکن کیا ہے جو بے شمار خواتین جھیل رہی ہیں؟

اس تھکن کو کیا کہتے ہیں؟ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اسے سنڈروم کیوں قرار دیتا ہے اور یہ خواتین میں زیادہ کیوں ہے؟
اپ ڈیٹ 23 اکتوبر 2025 12:13pm

خواتین میں برن آؤٹ کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ دیکھی گئی ہے، اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عورت اکثر دوہری ذمہ داریاں اٹھاتی ہے، گھر کی دیکھ بھال اور روزگار کی ذمہ داریاں۔ ایک طرف دفتر کا دباؤ، اور دوسری طرف گھر کے کام، بچوں اور بڑوں کی دیکھ بھال، اسے مسلسل مصروف اور تھکا دیتی ہے۔

سماجی توقعات بھی اس مسئلے کو بڑھاتی ہیں۔ معاشرہ اکثر عورت سے یہ امید رکھتا ہے کہ وہ ہر کام میں بہترین ہو، اچھی ماں، اچھی بیوی، اچھی ملازمہ۔ یہ سوچ عورت پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔ اس کے علاوہ، بہت سی خواتین خود کے لیے وقت نکالنے پر احساسِ جرم محسوس کرتی ہیں، جیسے کہ وہ خودغرضی کر رہی ہوں۔ یہ رویہ ان کے ذہنی دباؤ کو مزید بڑھاتا ہے۔

برن آؤٹ کیا ہے؟

برن آؤٹ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر بہت زیادہ تھکن محسوس کرتا ہے۔ یہ عموماً اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص لمبے عرصے تک دباؤ، ذمہ داریوں یا کام کے بوجھ تلے رہتا ہے۔ اس کیفیت میں انسان کو ہر چیز بوجھ لگنے لگتی ہے، دلچسپی ختم ہو جاتی ہے، اور توانائی جیسے ختم سی ہو جاتی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق، برن آؤٹ ایک ”پیشہ ورانہ دباؤ“ سے پیدا ہونے والا سنڈروم ہے جس میں تھکن، منفی رویہ اور کارکردگی میں کمی شامل ہوتی ہے۔

یہ صرف جسمانی تھکن نہیں ہوتی بلکہ ذہن اور جذبات بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ انسان کو اپنے کام، گھر یا تعلقات میں دلچسپی کم محسوس ہونے لگتی ہے۔ معمولی کام بھی بھاری لگنے لگتے ہیں اور توانائی ختم سی محسوس ہوتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق برن آؤٹ میں تین بڑی نشانیاں دیکھی جاتی ہیں:

  1. توانائی کی کمی اور مسلسل تھکن
  2. دلچسپی یا جوش میں کمی
  3. کام یا روزمرہ کارکردگی میں کمی

خواتین میں برن آؤٹ زیادہ کیوں ہوتا ہے؟

خواتین اکثر ایک وقت میں کئی کردار ادا کرتی ہیں۔ ماں، بیوی، بیٹی، ملازمہ، دیکھ بھال کرنے والی۔ یہی ”ڈبل رولز“ ان پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔ دن بھر کے کام کے بعد بھی انہیں گھر کے کام اور خاندان کی ذمہ داریاں سنبھالنی ہوتی ہیں۔ اس تھکن کا اثر آہستہ آہستہ ذہنی صحت پر پڑتا ہے اور برن آؤٹ کا سبب بنتا ہے۔

اس کے علاوہ، خواتین عموماً دوسروں کے جذبات کا زیادہ خیال رکھتی ہیں، چاہے وہ گھر کے افراد ہوں یا کام کی جگہ کے ساتھی۔ اس جذباتی محنت سے ذہن مزید تھک جاتا ہے۔ حیاتیاتی اعتبار سے بھی، ہارمونل تبدیلیاں جیسے ماہواری، حمل یا مینوپاز جذباتی اتار چڑھاؤ پیدا کرتی ہیں، جو برن آؤٹ کے امکانات کو بڑھا دیتی ہیں۔

برن آؤٹ سے بچنے کے آسان طریقے

خود پر توجہ دینا اور اپنی حدود طے کرنا سب سے ضروری ہے۔ ہر وقت دوسروں کے لیے سب کچھ کرنا ممکن نہیں، اس لیے ”نہ“ کہنا سیکھنا ضروری ہے۔ روزانہ کچھ وقت اپنے لیے رکھیں چاہے چند منٹ خاموش بیٹھنے کے ہوں، کوئی پسندیدہ کام کرنے کے، کتاب پڑھنے یا میوزک سننے یا چہل قدمی کے۔

AAJ News Whatsapp

اچھی نیند، متوازن خوراک، اور ہلکی پھلکی ورزش ذہنی دباؤ کم کرتی ہے۔ اگر دباؤ یا اداسی بڑھ جائے تو کسی قریبی دوست، خاندان کے فرد یا ماہرِ نفسیات سے بات کرنا مفید رہتا ہے۔ سوشل میڈیا یا موبائل سے کچھ وقت کے لیے دوری بھی ذہنی سکون دیتی ہے۔ یاد رکھیں، خود کی دیکھ بھال خودغرضی نہیں بلکہ ضرورت ہے۔

خواتین کے لیے برن آؤٹ سیلف چیک

کچھ سوالات آپ کو اس مسئلے کے قریب ہونے کا پتہ دیتے ہیں۔ مثلاً:

  • کیا آپ اکثر صبح اٹھ کر تھکن محسوس کرتی ہیں؟
  • کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے دن میں اپنے لیے وقت نہیں بچتا؟
  • کیا آپ کا موڈ اکثر چڑچڑا یا اداس رہتا ہے؟
  • کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے کام کی قدر نہیں کی جاتی؟
  • کیا آپ اکثر دوسروں کے احساسات کو اپنے سے زیادہ اہم سمجھتی ہیں؟
  • کیا آپ نیند پوری ہونے کے باوجود تھکی ہوئی محسوس کرتی ہیں؟
  • کیا آپ کو روزمرہ کے کاموں میں دلچسپی محسوس نہیں ہوتی؟
  • کیا آپ اکثر سوچتی ہیں کہ آپ کچھ بھی ٹھیک نہیں کر رہیں؟

ان سوالوں میں سے اگر آپ کے چار یا زیادہ جوابات ’ہاں‘ میں ہیں، تو ممکن ہے آپ ذہنی دباؤ یا برن آؤٹ کی ابتدائی کیفیت میں ہوں۔ اس صورت میں آرام، سپورٹ، اور خود کی دیکھ بھال پر فوری توجہ دینا بہت ضروری ہے۔

زہریلی اور آلودہ فضا، پھیپھڑوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

ماہرین فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے صرف وقتی اقدامات کو کافی نہیں کہتے۔
شائع 23 اکتوبر 2025 10:05am

دہلی اور لاہور اس وقت دنیا کے سب سے آلودہ شہر بن چکے ہیں۔ یہ صورتحال صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ عوامی صحت کا بحران بن چکی ہے۔ ماہرین متنبہہ کرتے ہیں کہ احتیاط، آگاہی، اور پائیدار پالیسیوں کے بغیر سانس لینا مزید مشکل ہوتا جائے گا۔

بھارت کے دارالحکومت دہلی اور پاکستان کے لاہور میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ دیوالی کے موقع پر آتش بازی کے باعث دہلی دنیا کا سب سے آلودہ شہر بن گیا ہے جبکہ لاہور دوسرے نمبر پر ہے۔

دیوالی کی آتش بازی نے دہلی اور لاہور کو دنیا کے آلودہ ترین شہر بنا دیا

ماہرین کے مطابق دہلی کی فضا میں آلودگی کی مقدار عالمی ادارہ صحت کی حد سے 59 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی، جو سانس اور دل کی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔ آلودہ ہوا سرحد پار لاہور تک پہنچ گئی ہے، جہاں سموگ اور دھند میں اضافہ ہو گیا ہے۔

نیوز18 کی ایک رپورٹ کے مطابق میکس اسپتال شالیمار باغ (دہلی) کے سینئر ڈائریکٹر ڈاکٹر اندر موہن کا کہنا ہے کہ آلودہ فضا میں موجود PM2.5 اور PM10 ذرات سانس کی نالیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، پھیپھڑوں کی کارکردگی کم کرتے ہیں اور دمہ، برونکائٹس، الرجی، نزلہ و زکام اور گلے کی خراش جیسی شکایات بڑھا دیتے ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی انسانی زندگیوں کے لئے خطرناک

وہ خبردار کرتے ہیں کہ جن افراد کو پہلے سے دمہ یا پھیپھڑوں کی بیماریاں ہیں، ان کے لیے یہ فضا نہایت خطرناک ہے، ایسے مریضوں کو چاہیے کہ علامات بڑھنے یا انہیلر کے زیادہ استعمال کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

کن علامات پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے

اگر مسلسل کھانسی یا سانس لینے میں دشواری ہو، سینے میں جکڑن یا بھاری پن محسوس ہورہا ہو، گلے میں جلن، نزلہ یا آنکھوں میں پانی آئے یا انہیلر کے استعمال میں اضافہ یا دمے کی شدت بڑھ جائے تو آپ کو چاہیے کہ فورا احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ لیاجا ئے۔

خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ رکھنے کے طریقے

صبح اور شام کے اوقات میں باہر نکلنے سے گریز کریں

N95 یا KN95 ماسک استعمال کریں

گھر میں ایئر پیوریفائر چلائیں اور کھڑکیاں بند رکھیں

باہر ورزش کرنے کے بجائے انڈور ایکسرسائز کرنے کو ترجیح دیں

زیادہ پانی پئیں تاکہ جسم سے زہریلے ذرات خارج ہوں

ہلدی، شہد، ادرک اور وٹامن سی سے بھرپور غذا استعمال کریں

بھاپ لینا، نمک والے نیم گرم پانی سے غرارے اور شہد-ادرک کی چائے جیسے گھریلو ٹوٹکے اپنائیں

AAJ News Whatsapp

ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے صرف وقتی اقدامات کافی نہیں۔

ضرورت ہے کہ زرعی باقیات جلانے پر پابندی، صاف توانائی کے ذرائع کا فروغ، صنعتی فضلہ کی سخت نگرانی اور عوامی شعور میں اضافہ جیسے پائیدار اقدامات کیے جائیں۔

ان کے مطابق دیوالی کی آتش بازی نے واضح کر دیا ہے کہ ماحولیاتی مسائل کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ، جیسا کہ دہلی کی آلودگی لاہور کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔

بچوں کو الرجی سے بچانے کے لیے مونگ پھلی کب کھلائی جائے؟

بچوں کو مونگ پھلی دینے سے مستقبل میں الرجی کا خطرہ 80 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
شائع 21 اکتوبر 2025 02:26pm

ایک دہائی قبل شائع ہونے والے ایک تحقیقاتی مطالعے نے ثابت کیا تھا کہ نومولود بچوں کو مونگ پھلی یا مونگ پھلی سے بنی مصنوعات کھلانے سے مستقبل میں جان لیوا الرجی ہونے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اب نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس سفارش پر عمل کرنے سے حقیقت میں بھی کئی بچوں کو فائدہ پہنچا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2015 امریکہ میں بچوں کو صرف 4 ماہ کی عمر سے مونگ پھلی دینے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس کے بعد پیدائش سے 3 سال کے بچوں میں مونگ پھلی الرجی کی شرح 27 فیصد سے زیادہ کم ہوئی اور 2017 میں سفارشات کو بڑھانے کے بعد یہ کمی 40 فیصد سے زائد ہو گئی۔

باتھ روم کے شاور میں موجود ہزاروں جراثیم، جو پانی کھولتے ہی آپ پر برس پڑتے ہیں

تقریباً 40,000 بچے مونگ پھلی الرجی سے بچ گئے، جبکہ آج بھی تقریباً 8 فیصد بچوں کو کسی نہ کسی خوراک سے الرجی ہے۔ جن میں سے 2 فیصد سے زائد کو مونگ پھلی الرجی ہے۔

ڈاکٹر ڈیوڈ ہل، الرجی ماہر اور فلڈیلفیا کے چائلڈرن ہسپتال کے محقق کا کہنا ہے کہ، ’ہم آج کہہ سکتے ہیں کہ اس پبلک ہیلتھ اقدام کی وجہ سے اب زیادہ بچے خوراک کی الرجی کا شکار نہیں ہو رہے۔‘

ہر مریض کے لیے موزوں یونیورسل گردہ تیار، خون میچ نہ ہونے کا خدشہ ختم

پرانے وقتوں میں ڈاکٹر بچوں کو مونگ پھلی اور دیگر الرجی پیدا کرنے والی غذائیں 3 سال کی عمر تک دینے سے منع کرتے تھے۔ مگر 2015 میں کنگز کالج لندن کے محقق گیڈین لیک نے ”Learning Early About Peanut Allergy (LEAP)“ مطالعے کے ذریعے ثابت کیا کہ نومولود بچوں کو مونگ پھلی مصنوعات دینے سے مستقبل میں الرجی کا خطرہ 80 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔

ابتداء میں والدین اور ڈاکٹر دونوں اس نئے طریقے پر عمل کرنے میں محتاط تھے کیونکہ وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ یہ محفوظ ہے یا نہیں۔ اس وجہ سے 2017 میں توسیع شدہ سفارشات کے باوجود، صرف تقریباً 29 فیصد پیڈیاٹریشنز اور 65 فیصد الرجی ماہرین نے اس پر عمل کیا۔

AAJ News Whatsapp

2021 میں سفارشات میں مزید وضاحت کی گئی کہ بچوں کو 4 سے 6 ماہ کی عمر کے دوران مونگ پھلی اور دیگر اہم الرجی پیدا کرنے والی غذائیں بغیر کسی ابتدائی ٹیسٹ کے متعارف کرائی جائیں۔

ڈاکٹر ہل نے کہا، ’بچوں کو تھوڑی مقدار میں مونگ پھلی کا مکھن، دودھ یا سویا بیسڈ دہی دینا محفوظ طریقہ ہے جس سے مدافعتی نظام کو غذائی الرجین سے واقفیت حاصل ہو جاتی ہے۔‘

میری لینڈ کی ڈائٹیشن ٹیفنی لیون نے بھی اپنے دو بچوں کو وقت سے پہلے مونگ پھلی دی اور کہا کہ یہ مکمل طور پر محفوظ اور فائدہ مند ہے۔

یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ وقت پر مونگ پھلی متعارف کرانے سے بچوں میں الرجی کے خطرات میں نمایاں کمی ممکن ہے لیکن والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی خوراک کے حوالے سے پیڈیاٹریشن سے مشورہ کریں۔

صرف کیلشیم نہیں، ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لیے یہ غذائیں بھی ضروری ہیں

ان غذائی اجزاء ٓکے بغیر سب سے بہترین کیلشیم بھی ہڈیوں کی مکمل حفاظت نہیں کر پائے گا۔
اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2025 12:59pm

صدیوں سے ہم سنتے آرہے ہیں کہ دودھ پینا ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے، لیکن حالیہ تحقیق اور ماہرین کے مطابق کیلشیم اکیلا کافی نہیں۔ ہڈیوں کی مضبوطی اور صحت کے لیے متعدد غذائی اجزاء اور صحت مند عادات ضروری ہیں۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کیلشیم ہڈیوں کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن یہ انسانی ڈھانچے کے پیچیدہ نظام کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

ہارٹ اٹیک سے قبل دکھنے والی 4 بڑی علامات، جنہیں کبھی نظر انداز نہ کریں

ہماری ہڈیاں وہ متحرک ڈھانچے ہیں جو اپنی طاقت اور لچک برقرار رکھنے کے لیے کئی غذائی اجزاء پر منحصر ہوتی ہیں، جن میں وٹامن ڈی، میگنیشیم، پروٹین اور وٹامن کے 2 شامل ہیں۔ اگر یہ غذائی اجزاء موجود نہ ہوں تو سب سے بہترین کیلشیم بھی ہڈیوں کی مکمل حفاظت نہیں کر پائے گا۔

ہڈیوں کے ڈھانچے میں تقریباً 50 فیصد پروٹین اور باقی کیلشیم اور پانی شامل ہوتا ہے۔ اس لیے کیلشیم کے ساتھ پروٹین، وٹامن ڈی3، وٹامن کے2، میگنیشیم اور فاسفورس جیسے اجزاء بھی ضروری ہیں تاکہ ہڈیاں مضبوط اور لچکدار رہیں۔

نیوز18 کی رپورٹ کے مطابق مانیپال اسپتال، گووا آرٹھوپیڈک اور ٹراما سرجن، ڈاکٹر سوشانت کہتے ہیں، ’وٹامن ڈی3 کیلشیم کو آنتوں سے ہڈیوں تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے اور پروٹین خاص طور پر کولیجن ہڈیوں کی مرمت اور ساخت کے لیے نہایت اہم ہے۔‘

ہر مریض کے لیے موزوں یونیورسل گردہ تیار، خون میچ نہ ہونے کا خدشہ ختم

وٹامن کے 2 وٹامن ڈی3 کے ساتھ مل کر نرم ٹشو یا خون میں جمع ہونے کی بجائے کیلشیم کو ہڈیوں میں جمع ہونے میں مدد دیتا ہے۔ یہ اجزاء فرمنٹڈ غذائیں اور خاص قسم کے پنیر میں پائے جاتے ہیں۔

میگنیشیم، جو سبز پتوں والی سبزیوں، گری دار میوے اور مکمل اناج میں موجود ہوتا ہے، وٹامن ڈی کو فعال کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح کیلشیم اور دیگر معدنیات کے توازن کے لیے کیلا اور آلو جیسے غذائی اجزاء بھی مفید ہیں۔

ڈاکٹر سمارتھ آریا، آرٹھوپیڈکس کنسلٹنٹ، مانیپال اسپتال، اولڈ ایئرپورٹ روڈ کہتے ہیں، ’چھوٹی عمر سے متوازن غذائیت ہڈیوں کی صحت کو برقرار رکھنے اور اوسٹیوپوروسس کے خطرے کو کم کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔‘

AAJ News Whatsapp

صحت مند ہڈیوں کے لیے صرف غذا کافی نہیں۔ وزن اٹھانے والی ورزشیں جیسے چلنا، دوڑنا اور ریزسٹنس ٹریننگ ہڈیوں کی ساخت کو مضبوط کرتی ہیں۔ اس کے برعکس نمک کا زیادہ استعمال، سگریٹ نوشی اور شراب نوشی کیلشیم کے جذب کو متاثر کر کے ہڈیوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔

مضبوط ہڈیوں کے لیے روزانہ ایک گلاس دودھ پینا کافی نہیں۔ ہڈیوں کی مضبوطی ایک مکمل توازن ہے جو کیلشیم، دیگر ضروری غذائی اجزاء اور صحت مند طرز زندگی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

سبز پتوں والی سبزیاں، گری دار میوے، مچھلی، فرمنٹڈ غذائیں، مناسب ورزش اور ذہنی و جسمانی توازن ہڈیوں کو طویل عرصے تک مضبوط اور لچکدار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

ہارٹ اٹیک سے قبل دکھنے والی 4 بڑی علامات، جنہیں کبھی نظر انداز نہ کریں

ان علامات کو وقت پر سنجیدگی سے لینے سے مستقبل میں دل کے امراض سے بہت حد تک بچا جا سکتا ہے۔
شائع 19 اکتوبر 2025 01:25pm

ایک تحقیق میں ماہرینِ امراضِ قلب نے دل کے دورے (ہارٹ اٹیک)، فالج (اسٹروک) اور ہارٹ فیل سے پہلے ظاہر ہونے والی چار اہم انتباہی علامات کی نشاندہی کی ہے۔

حالیہ بین الاقوامی اس تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق، تقریباً 99.6 فیصد مریضوں میں ان میں سے کم از کم ایک خطرناک علامت ضرور پائی گئی۔

ہر مریض کے لیے موزوں یونیورسل گردہ تیار، خون میچ نہ ہونے کا خدشہ ختم

یہ تحقیق امریکی اور جنوبی کوریائی ماہرین نے مشترکہ طور پر کی۔ اس میں جنوبی کوریا کے 93 لاکھ سے زائد افراد اور امریکہ کے 6 ہزار 800 سے زیادہ بالغ افراد کے صحت کے اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے دل کی بیماریوں سے منسلک چار بنیادی خطرے کے عوامل کی نشاندہی کی، جو درج ذیل ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر (بلند فشارِ خون)

کولیسٹرول کی زیادتی

خون میں شوگر کی بلند سطح

سگریٹ نوشی

تحقیق کے اہم نتائج

دل کے درد کی دوا سے دل کو خطرہ؟ تجربہ کار کارڈیولوجسٹ کا بڑا انکشاف

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی فینبرگ اسکول آف میڈیسن کے ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر فلِپ گرین لینڈ کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ دل کے دورے یا دیگر امراضِ قلب میں مبتلا ہونے سے پہلے تقریباً ہر مریض کو ایک یا زیادہ بڑے خطرے والے عوامل کا سامنا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر گرین لینڈ کے مطابق، اب توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ ان قابلِ علاج خطرات کو قابو میں رکھنے کے مؤثر طریقے تلاش کیے جائیں، نہ کہ ایسے نئے عوامل ڈھونڈے جائیں جن کا علاج مزید مشکل ہو جائے۔

نتائج کا تجزیہ

ماہرین نے بتایا کہ چونکہ تحقیق میں شامل ہر فرد کی صحت کی مکمل جانچ کی گئی تھی، اس لیے وہ بلڈ پریشر، کولیسٹرول، شوگر اور سگریٹ نوشی سے جڑے خطرناک نمونوں کو سالوں پہلے ہی شناخت کرنے میں کامیاب رہے۔

اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ جب ان معلومات کو ڈاکٹروں کے تشخیصی معیار کے مطابق پرکھا گیا، تو 90 فیصد سے زائد مریضوں میں دل کا دورہ پڑنے کے وقت کم از کم ایک خطرے کی علامت پہلے سے موجود تھی۔

AAJ News Whatsapp

تحقیق میں یہ نتیجہ بھی اخذ کیا گیا کہ یہ تمام عوامل دراصل دل کی بیماریوں کے لیے ایک پیشگی انتباہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اگر لوگ ان علامات کو وقت پر سنجیدگی سے لیں اور اپنی زندگی کے معمولات، غذا اور عادات میں بہتری لائیں تو وہ مستقبل میں دل کے امراض سے بہت حد تک بچاؤ حاصل کر سکتے ہیں۔

باتھ روم شاور میں موجود جراثیم، جو پانی کھولتے ہی آپ پر برس پڑتے ہیں

مسلسل نظرانداز کرنے سے یہ جلد یا سانس کی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
اپ ڈیٹ 05 نومبر 2025 04:31pm

جب ہم نہانے کے لیے باتھ روم کا رُخ کرتے ہیں، تو ہمارا مقصد یہی ہوتا ہے کہ دن بھر کی تھکن دور ہوجائے او ر ہم خود کو تروتازہ محسوس کریں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ جس شاور سے آپ صاف پانی کی امید رکھتے ہیں، وہی آپ کے چہرے پر شاور میں چھپے جراثیم برساتا ہے؟

رات بھر بند رہنے والا شاور اور اس کا پائپ دراصل جراثیم اور پھپھوند کی افزائش گاہ بن جاتا ہے۔ جیسے ہی آپ شاور کھولتے ہیں، تو پانی اور بھاپ کے ساتھ وہ بیکٹیریا بھی نکلتے ہیں جو شاور کے اندر نمی اور گرمی میں پھلتے پھولتے ہیں۔ اگرچہ یہ زیادہ تر بے ضرر ہوتے ہیں، مگر مسلسل نظرانداز کرنے سے یہ جلد یا سانس کی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

مہنگے گدے چھوڑیں! زمین پر سونا صحت کے لیے زیادہ مفید ہے

ہی وجہ ہے کہ ہسپتالوں میں صفائی کے انتہائی سخت اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے اور شاور ہیڈز کو باقاعدگی سے تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ خطرناک جراثیم کی افزائش کو روکا جا سکے۔

شاور میں موجود جراثیموں کی مقدار کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ آپ کس علاقے میں رہتے ہیں۔ امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ وہ علاقے جہاں شاور ہیڈز میں خطرناک ’پیتھوجینک مائکوبیکٹیریا‘ زیادہ پائے جاتے ہیں، وہاں ’نان ٹی بی مائکوبیکٹیریا‘ سے ہونے والی پھیپھڑوں کی بیماری بھی عام ہے، خاص طور پر ہوائی، فلوریڈا، جنوبی کیلیفورنیا اور نیویارک سٹی جیسے مقامات پر۔

AAJ News Whatsapp

گرم آب و ہوا اور زیادہ کلورین والا پانی بعض جراثیموں کی افزائش کے لیے زیادہ سازگار ثابت ہوتا ہے۔ وہ گھر جہاں کلورین ملا پانی سپلائی ہوتا ہے وہاں جراثیم کی تعداد نسبتاً کم ہوتی ہے، جبکہ کنویں یا غیر کلورینیٹڈ پانی استعمال کرنے والے گھروں میں مائکوبیکٹیریا کی سطح کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

دل کے درد کی دوا سے دل کو خطرہ؟ تجربہ کار کارڈیولوجسٹ کا بڑا انکشاف

جراثیم کی افزائش پر شاور کے میٹریل کا بھی بڑا اثر ہوتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پی وی سی سے بنے پائپوں میں، پی ای ایکس کے مقابلے میں سو گنا زیادہ جراثیم موجود ہوتے ہیں، کیونکہ پی وی سی زیادہ کاربن خارج کرتا ہے جو بیکٹیریا کے لیے خوراک کا کام کرتا ہے اور اس کی کھردری سطح بھی جراثیم کو چپکنے میں مدد دیتی ہے۔

شاور ہیڈ اگر اسٹیل یا تانبے جیسے دھاتی مواد سے بنے ہوں تو وہ قدرے محفوظ ہوتے ہیں۔ لیکن جدید اور ملٹی چیمبر شاور ہیڈز، جن میں پانی جمع ہونے کا رجحان ہوتا ہے، بیکٹیریا کی نشوونما کو تیز کر سکتے ہیں۔

شاور سے نکلنے والے جراثیم سے کیسے محفوظ رہیں

آپ کا شاور ہر بار کھلتے ہی لاکھوں جراثیم آپ کی سانسوں میں داخل کر سکتے ہیں۔

مگر گھبرائیے نہیں! بس یہ چند آسان باتیں یاد رکھیں

شاور کھولنے کے بعد 1 سے 2 منٹ انتظار کریں

گرم پانی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے

پانی کا درجہ حرارت 45-60°C رکھیں (اگر ممکن ہو تو تھرما میٹر استعمال کریں)

بند شاور کھولنے سے پہلے پانی اچھی طرح بہا لیں

باتھ روم کو ہوا دار اور خشک رکھیں

روزانہ یا باقاعدگی سے شاور استعمال کریں، تاکہ پانی کھڑا نہ رہے

پنجاب میں کوئلے سے کھانا بنانے پر پابندی، محفوظ طریقے سے بار بی کیو کیسے بنائیں؟

کھانے کا معیار ہی نہیں بلکہ پکانے کا طریقہ بھی صحت پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔
اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2025 02:40pm

پنجاب حکومت نے ماحولیاتی آلودگی اور صحت کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر صوبے بھر کے ریسٹورنٹس میں لکڑی اور کوئلے کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

محکمہ تحفظِ ماحولیات کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ضلعی ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پابندی پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والے ریسٹورنٹس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

صبح نہار منہ یا ناشتے کے بعد: بلڈ شوگر کب چیک کرنا چاہیے؟

نوٹیفکیشن میں تمام ریسٹورنٹ مالکان کو پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے جس کے دوران وہ اپنے کچن اور باربی کیو ایریاز میں جدید ”سکشن ہُوڈز“ نصب کریں تاکہ دھوئیں اور زہریلی گیسوں کا اخراج کم سے کم ہو۔

یہ اقدام شہریوں کی صحت اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جو سردیوں میں اسموگ کی شدت میں اضافے کا بڑا سبب بنتا ہے۔

گرلنگ کا ذائقہ یا صحت کا خطرہ؟

گوشت کو خاص طور پر کوئلے یا کھلی آگ پرگرل کرنا، نہ صرف ذائقے میں اضافہ کرتا ہے بلکہ اسے دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔ مگر حالیہ تحقیق کے مطابق، یہ ذائقہ بعض اوقات صحت کے سنگین خطرات بھی ساتھ لاتا ہے۔

امریکی کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2025 کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زیادہ درجہ حرارت یا شعلے پر گوشت پکانے سے ایسے کیمیائی مادے بنتے ہیں جو مختلف اقسام کے کینسر پیدا کر سکتے ہیں، جیسے آنت، لبلبہ، پروسٹیٹ اور ملاشی کا کینسر۔

مٹھائیوں پر لگایا جانے والا چاندی کا ورق ’نان ویجیٹیرین‘ ہے؟

یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا سے منسلک ڈاکٹر ڈینیئل کہتے ہیں، ’یہ خطرہ ایک بار گوشت کھانے سے نہیں ہوتا، بلکہ طویل عرصے تک بار بار ایسے طریقے سے گوشت پکانے سے جسم میں زہریلے مادوں کا جمع ہونا پریشانی کن ہے۔‘

گرلنگ کو محفوظ بنانے کے آسان طریقے

اچھی خبر یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق آپ کو گرل گوشت سے مکمل پرہیز کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ چند آسان تدابیر اپنا کر اسے زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

گوشت کو میرینیٹ کریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ گوشت کو مصالحے اور دہی یا لیموں جیسے اجزاء میں کم از کم 30 منٹ تک میری نیٹ کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس عمل سے کینسر پیدا کرنے والے مرکبات کی مقدار میں 90٪ تک کمی آ سکتی ہے۔

گوشت کو بار بار پلٹیں

گوشت کو یکساں طور پر پکانے اور جلنے سے بچانے کے لیے اسے وقفے وقفے سے پلٹتے رہیں، تاکہ ایک طرف کا حصہ زیادہ نہ جلے۔

براہِ راست شعلے سے گریز کریں

براہِ راست کوئلے یا گیس کی آگ پر پکانے کے بجائے ”ان ڈائریکٹ گرلنگ“ اپنائیں۔ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ گوشت کو پہلے اوون میں ہلکا سا پکا لیں، پھر آخر میں مختصر وقت کے لیے گرل کریں۔

جلے ہوئے حصے نکال دیں

گرلنگ کے دوران اگر گوشت کا کوئی حصہ جل جائے یا اس پر کالک جم جائے تو اسے فوراً کاٹ دیں۔ ایسی باقیات میں زہریلے مادے زیادہ ہوتے ہیں، جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

کم چکنائی والا گوشت استعمال کریں

چکن یا مچھلی جیسے گوشت میں چربی کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے گرل کرتے وقت شعلے پر چکنائی ٹپکنے کا امکان کم ہوتا ہے، اور زہریلا دھواں نہیں بنتا۔

درمیانی آنچ کا استعمال کریں

زیادہ تیز آگ کے بجائے اعتدال درجہ حرارت کو ترجیح دیں۔ مستقل اور درمیانی آنچ گوشت کو بہتر طریقے سے پکاتی ہے اور نقصان دہ مرکبات کی مقدار میں بھی کمی آتی ہے۔

AAJ News Whatsapp

ماہرین کا متفقہ مؤقف ہے کہ صرف کھانے کا معیار ہی نہیں بلکہ پکانے کا طریقہ بھی صحت پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ تیز آنچ یا بار بار فرائنگ سے نہ صرف گوشت کے غذائی اجزاء متاثر ہوتے ہیں بلکہ مہلک بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

دوسری جانب، ابال کر، بھاپ میں یا ہلکی آنچ پر تیار کردہ کھانے نہ صرف محفوظ بلکہ جسم کے لیے مفید بھی ثابت ہوتے ہیں۔

سردیوں کے موسم میں اسموگ کی بڑی وجوہات میں سے ایک بلند شعلے پر پکایا جانے والا کھانا بھی ہے، جس سے کاربن مونو آکسائیڈ، پی ایم 2.5ذرات اور دیگر خطرناک گیسیں پیدا ہوتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت کی تازہ کارروائی نہ صرف صحت بلکہ فضا کی صفائی کے لیے بھی اہم قدم ہے۔

کیا روزانہ اسپغول لینا محفوظ ہے؟

اسپغول کئی طبی فوائد رکھتا ہے۔
شائع 14 اکتوبر 2025 09:26am

آج کی تیز رفتار زندگی، فاسٹ فوڈ، کھانے کے اوقات میں بے ترتیبی اور ذہنی دباؤ نے معدے کی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔ گیس، قبض، بدہضمی اور پیٹ پھولنے جیسے مسائل اب عام ہوتے جا رہے ہیں۔ ان تکالیف سے نجات کے لیے لوگ صدیوں پرانے ایک قدرتی نسخے ”اسپغول“ کا سہارا لیتے ہیں۔

اسپغول ایک قدرتی فائبر ہے اور پلانٹیگو اوویٹا کے خشک بیجوں کے چھلکے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اسپغول کو پانی یا چھاچھ کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ خاص طور پر قبض کی شکایت دور کرنے میں بہت مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ ہلکا مگر اثر بھرپور ہوتا ہے۔

دل کے درد کی دوا سے دل کو خطرہ؟ تجربہ کار کارڈیولوجسٹ کا بڑا انکشاف

ماہرین کے مطابق اسپغول صرف قبض کا علاج ہی نہیں بلکہ کئی دیگر طبی فوائد بھی رکھتا ہے۔ یہ نظامِ ہضم کو بہتر بناتا ہے۔آنتوں کی صفائی کرتا ہے۔ بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کولیسٹرول کو کم کرنے میں مؤثر ہے اوروزن گھٹانے والوں کے لیے مفیدہے۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اسپغول کو روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا روزانہ اسپغول لینا واقعی محفوظ ہے؟

AAJ News Whatsapp

ماہرین صحت کے مطابق، اگر کبھی کبھار قبض کی شکایت ہو تو اسپغول لینا فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن اسے اپنا معلوم بنالینا یا روزانہ یا طویل مدت تک استعمال کرنا حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بالکل مناسب نہیں، خاص طور پر اگر اسے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر لیا جائے۔ اگر آپ طویل عرصے تک اسپغول یا کسی بھی بیرونی فائبر پر انحصار کرتے ہیں تو یہ آپ کے قدرتی نظامِ ہضم کو کمزور کر سکتا ہے۔

صبح نہار منہ یا ناشتے کے بعد: بلڈ شوگر کب چیک کرنا چاہیے؟

اس کے علاوہ، زیادہ فائبر لینے سے بعض اوقات جسم میں ضروری غذائی اجزاء کی جذب ہونے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے اور اگر اسپغول لینے کے ساتھ پانی کی مناسب مقدار نہ پی جائے تو پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) اور قبض کی شکایت مزید بڑھ سکتی ہے۔

اس کا طویل مدت تک استعمال کب کرنا چاہیے؟

اگر قبض شدید اور مستقل ہو، تو ڈاکٹر کے مشورے سے اسپغول کو طویل مدت تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے صحیح خوراک، استعمال کا طریقہ اور دورانیہ جاننا بہت ضروری ہے۔ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے طویل استعمال سے پرہیز کریں، کیونکہ اسپغول کے کچھ سائیڈ ایفیکٹس بھی ہو سکتے ہیں۔

قدرتی غذا کو ترجیح دیں

ماہرین کا مشورہ ہے کہ دائمی قبض یا ہاضمے کے دیگر مسائل کے علاج کے لیے خوراک میں بہتری لانا زیادہ مؤثر اور محفوظ طریقہ ہے۔ اپنی روزمرہ غذا میں فائبر سے بھرپور سبزیاں، پھل، اور دلیے جیسے غذائیں شامل کریں، اور وافر مقدار میں پانی پینا نہ بھولیں۔

صرف وقتی ضرورت پڑنے پر اسپغول کا استعمال کریں اور روزانہ استعمال سے قبل اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔

سبز سے بھورا ہونے کے بعد ایواکاڈو کھانا محفوظ ہے؟

اس پھل کے بھورے ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
شائع 12 اکتوبر 2025 01:58pm

بیشتر ایواکاڈو پسند کرنے والے افراد کو ایک عام مسئلے کا سامنا رہتا ہے۔ پھل کاٹنے کے کچھ ہی دیر بعد اس کی رنگت ماند پڑ جاتی ہے اور وہ سبز سے بھورے یا کالے رنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا رنگ بدلنے کے بعد بھی ایواکاڈو کھایا جا سکتا ہے یا نہیں؟

ماہرین کے مطابق، ایواکاڈو کے بھورے ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جن میں آکسیڈیشن، زیادہ پک جانا، ٹھنڈ سے نقصان، یا بیکٹیریا اور فنگس کی افزائش شامل ہیں۔

شہد کو کبھی بھی گرم کیوں نہیں کرنا چاہیے؟

اگر ایواکاڈو کاٹنے کے بعد ہوا میں رکھ دیا جائے تو اس میں انزیمیٹک براؤننگ نامی عمل شروع ہو جاتا ہے۔

اس عمل میں پھل کے اندر موجود انزائمز اور مرکبات آکسیجن کے ساتھ مل کر میلانن پیدا کرتے ہیں یہی وہ مادہ ہے جو رنگ کو بھورا کرتا ہے۔

ایسا ایواکاڈو کھانے کے لیے محفوظ ہوتا ہے، لیکن اس کا ذائقہ قدرے کڑوا یا بدمزہ ہو سکتا ہے۔

زیادہ پکنے یا خراب ہونے کی علامات

جب ایواکاڈو ضرورت سے زیادہ پک جاتا ہے تو اس کے خلیے ٹوٹنے لگتے ہیں، جس سے بیکٹیریا کی نشوونما کے لیے موزوں ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔

صبح نہار منہ یا ناشتے کے بعد: بلڈ شوگر کب چیک کرنا چاہیے؟

ایسی صورت میں پھل کے اندر بھورے یا کالے دھبے نمودار ہو جاتے ہیں، بدبو آتی ہے اور ساخت نرم یا چپچپی محسوس ہوتی ہے۔ اگر ایواکاڈو سے کھٹی یا ناگوار بو آئے، تو بہتر ہے اسے فوراً ضائع کر دیا جائے۔

ٹھنڈ سے ہونے والا نقصان

اگر ایواکاڈو کو پکنے سے پہلے بہت کم درجہ حرارت پر ذخیرہ کیا جائے تو اس پر بھورے یا سرمئی دھبے بن سکتے ہیں۔ ایسا پھل صحت کے لیے خطرناک تو نہیں ہوتا، مگر ذائقہ خراب ہو سکتا ہے۔

قدرتی خرابی اور پھپھوندی

ایواکاڈو میں نمی کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے اس میں پھپھوندی آسانی سے پیدا ہو سکتی ہے۔

اگر چھلکے پر بھی پھپھوندی نظر آئے چاہے گودا متاثر نہ ہوا ہو تو اسے ہر صورت پھینک دینا چاہیے۔

اگرایواکاڈو صرف آکسیڈیشن سے بھورا ہوا ہے تو کیا کریں؟

اگر آپ کو ایواکاڈو کی بو معمول کے مطابق لگے اور ساخت بھی درست محسوس ہو تو آپ اسے اطمینان سے کھا سکتے ہیں۔ آپ چاہیں تو بھورا حصہ الگ کر دیں یا اسے ایواکاڈو ڈِپ، اسموتھی یا میٹھے پکوان میں استعمال کر سکتے ہیں۔

AAJ News Whatsapp

زیادہ دیر تازہ رکھنے کا طریقہ

بھورا ہونے سے بچانے کے لیے ایواکاڈو کو لیموں کے رس یا زیتون کے تیل کے ساتھ مکس کر کے ایئر ٹائٹ کنٹینر میں رکھیں۔

فرج میں محفوظ رکھنے سے اس کی تازگی کچھ دن تک برقرار رہتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایواکاڈو صرف آکسیڈیشن سے بھورا ہو تو فکر کی کوئی بات نہیں ، مگر اگر رنگت کے ساتھ بو اور ساخت بھی بدل جائے، تو بہتر ہے صحت کو ترجیح دیتے ہوئے اسے استعمال نہ کریں۔