فلم "ہندی میڈیم" کامیاب ہوئی یا ناکام  نتیجہ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

شائع 22 مئ 2017 10:31am

hindi-medium

ممبئی:بھارتی فلم انڈسٹری میں گزشتہ کافی دنوں سے  فلم"ہندی میڈیم"توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، بھارت کے ساتھ پاکستانی شائقین کو بھی فلم کا بے صبری سے انتظار تھا  کیونکہ فلم میں  پہلی بار پاکستان کی باصلاحیت اداکارہ صبا ء قمر اور بھارتی سپر اسٹار عرفان خان  نے ایک ساتھ مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق فلم رواں ماہ 19 مئی کو ریلیز ہو چکی ہے  فلم کی کہانی ایک خوشحال جوڑے(صباء قمر اور عرفان خان )کے گرد گھومتی ہے جو دہلی کے علاقے  چاندنی چوک میں رہائش پزیر ہیں ،یہ دونوں اپنی بیٹی  کا ایڈمشن  انگلش میڈیم اسکول میں کروانا چاہتے ہیں لیکن ان کی زبان ہندی ہے اور   انگلش میڈیم ریگولیٹری اتھارٹی  ہندی زبان والے بچوں کو اسکول میں ایڈمشن نہیں دیتے۔

جائزہ

فلم میں  ہلکے پھلکے مزاح کے انداز میں معاشرے میں رائج  ایک کڑوی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ  کس طرح زبان  ہماری سوسائٹی کو تقسیم کرتی ہے،اور کس طرح بھارت میں   انگریزی  زبان  بولنے والے اور ہندی زبان بولنے والوں میں کلاس  کا فرق پیدا ہوجاتا ہے ،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ  آپ کتنے نامور یا دولت مند ہیں ،فلم کی کہانی بہترین ہے جبکہ مزاح بھی بہت اچھے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

کہانی

عرفان خان(راج)کا چاندنی چوک میں  کپڑوں کا اسٹور ہے جہاں اوریجنل  ڈیزائنرز کی   کاپی ملتی ہے جبکہ ان کی بیوی صباء(مٹھو)لائف اسٹائل  کو مزید بہتر کرنے کی کوششو ں میں مصروف ہیں تاکہ ان کی بیٹی" پیا" کا داخلہ ایک اچھے  اور ہائی فائی انگلش میڈیم اسکول میں ہوجائے۔

اور اسی لیے وہ اپنا طرز زندگی   تبدیل کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں   بھانگڑا کی جگہ انگریزی بیٹس اور ڈیزائنر لباس کو شامل کرتے ہیں ،انگلش زبان میں مہارت حاصل کرنے کیلئے وہ ایک ٹیچر شیام پرکاش کی مدد لیتے ہیں جو ان کی گرامر   ٹھیک کرتا ہے۔

فرسٹ پوسٹ کے مطابق  ساکت چوہدری کی زیر ہدایت بننے والی فلم"ہندی میڈیم "کو تنقید نگاروں نے 4.5اسٹار دئیے ہیں ،جبکہ فلم کو ملا جلا ردعمل حاصل ہوا ہے ،فلم  نے ریلیز کے پہلے دن 2.81کروڑ کمائے ہیں  جبکہ  ڈیجیٹل،میوزک اور سیٹلائٹ حقوق کی مد میں فلم اب تک 15 کروڑ کما چکی ہے۔

فلم کہانی کے اعتبار سے بہترین ہے جبکہ عرفان اور صباء کی اداکاری بھی لاجواب ہے،بھارتی تنقید نگاروں نے  فلم کو  ایک اچھی لیکن اوسط درجے کی فلم قرار دیا ہے۔