شریا گھوشال نے "چکنی چنبیلی" جیسے گانے گانے سے کیوں انکار کیا
فائل فوٹوانڈیا کی معروف گلوکارہ شریا گھوشال نے ہی رتیک روشن کی فلم 'اگنی پتھ' کا مقبول گیت'چکنی چنبیلی' گایا تھا جس میں قطرینہ کیف اپنے فن کے جلوے بكھیرتی نظر آئی تھیں۔
لیکن اس گانے کے بعد گھوشال نے طے کیا کہ وہ اب ایسے گانوں سے دور رہیں گی۔
بی بی سی کے ساتھ خصوصی بات چیت میں شریا گھوشال نے کہا کہ ’چکنی چنبیلی‘ ان کے لیے ایک میوزیکل تجربہ تھا جو پھوہڑپن کے آخری کنارے پر تھا۔
انھوں نے بتایا کہ اس نغمے کے دو مصرعوں پر انھیں اعتراض تھا اور فلم کے پروڈویسر کرن جوہر نے بھی ان سے اتفاق کیا تھا اور پھر اسے گانے سے خارج کر دیا گیا۔

وہ آگے کہتی ہے کہ ' ہمارا ملک ابھی بھی ترقی کر رہا ہے اور خواتین سے منسلک بہت سے مسائل ہیں۔ عزت و احترام جیسے بنیادی حقوق بالکل نہ کے برابر ہیں۔ میرے گائے ہوئے گیت 16 سال سے کم عمر کے چھوٹے بچے بھی سنتے ہیں، اگر ایسے گانوں کم میں نے آواز دی تو وہ بھی یہ نغمے گائیں گے۔ پھر ان کو خواتین کو ’ابجیکٹی فائی‘ کرنا درست لگے گا۔ کہیں نہ کہیں یہ بچوں کے ذہن میں نقش ہو جائے گا۔ میں بطور فنکار ایک ذمہ داری محسوس کرتی ہوں لہذا ایسے گانوں سے دور رہتی ہوں۔‘
شريا گھوشال نے اپنے کیریئر میں صرف دو ایسے گانے گائے ہیں۔ 'چکنی چنبیلی' اور ’ڈرٹی پکچر‘ فلم کا گیت ' او لا لا او لا لا'، ان گانوں کو وہ مزاحیہ سمجھتی ہیں۔

انڈيا میں اب میوزک انڈسٹری فلم انڈسٹری پر منحصر ہے تاہم شریا اسے بہت افسوس ناک بات قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ساری کوشش اور محنت ایک ہی انڈسٹری پر لگا دیں گے تو دوسری انڈسٹری کی ترقی کس طرح ہو گی؟
شريا گھوشال جلد ہی ’دھڑکنیں آزاد ہیں‘ سے بطور پروڈيوسر فلمی صنعت میں قدم رکھنے والی ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ لوگ موسیقاروں اور گلوکاروں کو بھی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن انھیں وہ موقع نہیں مل پاتا ہے۔ انھیں یقین ہے کہ ان کے اس قدم سے دوسرے لوگوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوں گی۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔