جنگ کی تباہ کاریوں کا شکار ہونے والی یمنی لڑکی
رواں برس اکتوبر میں سائد احمد کی لی جانے والی تصویرہنستی مسکراتی اپنے خاندان کے ساتھ زندگی گزارتی یمنی لڑکی سائدا احمد باغلی کو ایک سال بعد لی گئی تصویر میں پہچاننا انتہائی مشکل ہے۔
ایک برس قبل لی جانے والی اس زبوں حال تصویر میں یمن میں ہونے والے انسانیت سوز بحران صاف ظاہر تھا۔
گزشتہ برس اکتوبر میں سائدہ احمد کی لی جانے والی تصویرسائدہ کے والد کے مطابق ان کی بیٹی کا وزن اب 80پاؤنڈز (36.28کلوگرام)ہے جو پچھلے اکتوبر میں صرف11کلو تھا۔
انیس سالہ لڑکی اُس وقت بات بھی کرنے کے قابل نہیں تھی،بالکل ڈھانچہ تھی جو ہفتوں کی خصوصی دیکھ بھال کے بعد اب کافی صحت مند ہوگئی ہے۔
لڑکی کے والد کا کہنا تھا کہ سائدہ کا جسم بہتر ہورہا ہے کیوں کہ وہ بہتر کھا رہی ہے لیکن ابھی بھی کھانا نگلنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سائدہ صرف دودھ، بسکٹ اور جوس ہی لے سکتی ہیں۔
Daily mail بشکریہ
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔