گرمیوں میں بار بار نہانا کتنا نقصان دہ ہے؟

جلد کی نمی برقرار رکھنا اس کی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے۔
شائع 21 مئ 2026 11:29am

شدید گرمی اور درجہ حرارت میں اضافہ ہوتے ہی یہ سوال اکثر ہر انسان کے ذہن میں آتا ہے کہ دن میں کتنی بار نہانا چاہیے۔ شدید لو اور گرمی کی وجہ سے لوگ خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بار بار باتھ روم کا رخ کرتے ہیں، لیکن ضرورت سے زیادہ غسل لینا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق انسانی جلد ایک بہت ہی نازک نظام کی طرح کام کرتی ہے جس کی نمی برقرار رکھنا صحت مند جلد کے لیے بے حد ضروری ہے۔

ایویڈنس بیسڈ کمپلیمنٹری اینڈ الٹرنیٹیو میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گرمیوں میں ضرورت سے زیادہ نہانے سے جلد پر موجود قدرتی تیل کا توازن بگڑ جاتا ہے جس سے جلد خشک ہو جاتی ہے۔

گرمی کے موسم میں بار بار نہانے کی سب سے بڑی وجہ پسینہ اور جسم کی بو ہوتی ہے۔ پسینے کی وجہ سے جلد کی تہوں میں جراثیم اور مٹی جمع ہو جاتی ہے جس سے خارش، ریشز اور مختلف اقسام کی انفیکشنز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے گرمیوں میں صفائی کا خیال رکھنا تو ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ نہانے کی تعداد میں ایک توازن ہونا بھی لازمی ہے۔

ماہرین جلد کا کہنا ہے کہ گرمیاں جلد کے لیے بہت سخت ثابت ہو سکتی ہیں، اسی لیے ہمیں اپنی صفائی اور اسکن کیئر کی عادات بشمول نہانے کے معمول کو موسم کے حساب سے بدلنا چاہیے۔

ڈاکٹرزکے مطابق عام حالات میں دن میں ایک یا دو بار نہانا ہی سب سے بہترین معمول ہے۔ جو لوگ زیادہ تر گھر یا دفتری کمروں کے اندر رہتے ہیں اور دھوپ یا مٹی میں باہر نہیں نکلتے، ان کے لیے دن میں صرف ایک بار نہانا کافی ہے۔

اس کے برعکس جو لوگ باہر کا سفر کرتے ہیں، دھوپ میں کام کرتے ہیں یا روزانہ ورزش کرتے ہیں، انہیں پسینے اور جسم کی بو کو قابو میں رکھنے کے لیے دن میں دو بار نہانا چاہیے۔

ضرورت سے زیادہ نہانے سے جلد میں شدید خشکی اور خارش ہو سکتی ہے جس کے علاج کے لیے پھر مختلف مرہم اور کریمیں استعمال کرنی پڑتی ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ دن میں دو بار نہا رہے ہیں تو پانی کے درجہ حرارت کا لازمی خیال رکھیں۔ اگر باہر گرمی زیادہ ہے اور آپ کے باتھ روم کے نلکے سے بھی گرم پانی آ رہا ہے تو ایک ہی بار نہانے سے جلد کی نمی تیزی سے ختم ہو جائے گی۔

اگر پانی ٹھنڈا یا نارمل ہو تو دن میں دو بار نہانا جسم کو ٹھنڈا رکھنے، بو کم کرنے اور فنگل انفیکشن سے بچانے کے لیے بہترین ہے۔ اس کے علاوہ شدید گرمی میں تیز کیمیکل والے صابن کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے اور دن میں کم از کم ایک بار صابن کے بغیر صرف سادہ پانی سے نہانا چاہیے۔

گرمیوں میں نہانے کے لیے صبح کا وقت سب سے بہترین مانا جاتا ہے کیونکہ یہ آپ کو دن بھر کے لیے تروتازہ کر دیتا ہے، جبکہ شام کو نہانے سے دن بھر کا پسینہ اور آلودگی صاف ہو جاتی ہے۔

اسی طرح ورزش کے فوراً بعد نہانا بھی فنگل انفیکشن سے بچنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ کچھ لوگوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بار نہانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جیسے کہ باہر دھوپ میں مزدوری کرنے والے، زیادہ ورزش کرنے والے یا حبس والے علاقوں میں رہنے والے افراد۔

طبی ماہرین کے مطابق، درج ذیل طریقے اپنا کر آپ گرمیوں میں اپنی جلد کی حفاظت کر سکتے ہیں

نیم گرم یا ٹھنڈے پانی کا استعمال کریں تاکہ جلد کا پی ایچ برقرار رہے اور زیادہ گرم پانی سے گریز کریں۔

صابن کا محدود استعمال کریں اور صرف پسینے والے حصوں پر لگائیں، کیونکہ وہی انفیکشن کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔

غسل کے بعد موئسچرائز کریں تاکہ جلد کی رکاوٹ برقرار رہے اور خشک نہ ہو۔

غسل کے بعد ہوا دار کپڑے پہنیں تاکہ جلد سانس لے سکے اور پانی جلد خشک ہو جائے۔

یہ طریقے نہ صرف گرمی میں تازگی فراہم کرتے ہیں بلکہ جلد کی صحت کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔

اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ کی جلد خشک ہو کر اتر رہی ہے، اس پر سفید نشان پڑ رہے ہیں، خارش یا سرخی ہو رہی ہے، یا نہانے کے بعد جلد میں کھنچاؤ محسوس ہو رہا ہے، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ ضرورت سے زیادہ نہا رہے ہیں۔

ایسی صورت میں فوراً نہانے کی تعداد کم کر دیں کیونکہ گرمیوں میں جلد کی حفاظت اور صفائی کے درمیان توازن رکھنا ہی سب سے اہم ہے۔