انمول پنکی کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا مزید تنگ
پولیس نے مبینہ منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا مزید تنگ کردیا۔ سٹی کورٹ کراچی میں سماعت کے دوران پولیس نے ملزمہ کے قریبی ساتھی محمد سمیر کی گرفتاری اور تفتیش کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا۔
کراچی سٹی کورٹ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں ملزمہ انمول عرف پنکی کی سہولت کاری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جہاں درخشاں اور گارڈن پولیس نے ملزمہ کے مبینہ سہولت کاروں کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے اہم پیشرفت سے عدالت کو آگاہ کیا۔
پولیس نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزم محمد سمیر کی گرفتاری اور تفتیش کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے دو مقدمات میں ملزم کی گرفتاری اور تفتیش کی اجازت دے دی۔
عدالت نے ہدایت کی کہ پولیس ملزم محمد سمیر سے سینٹرل جیل جا کر تفتیش کرے۔ پولیس کے مطابق ملزم جون 2021 میں درج چرس برآمدگی کے مقدمے میں پہلے ہی گرفتار ہو کر جیل میں قید ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی اس وقت جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میں ہے اور دورانِ تفتیش اس نے منشیات سپلائی کرنے والے رائیڈرز کے نام ظاہر کیے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ محمد سمیر ملزمہ پنکی کا رائیڈر تھا اور موٹرسائیکل کے ذریعے مختلف علاقوں میں منشیات سپلائی کرتا تھا۔ حکام کے مطابق ملزم منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے میں بھی ملوث رہا ہے۔
پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد سمیر سے مزید تفتیش انتہائی ضروری ہے، اس لیے اسے پولیس ریمانڈ پر دیا جائے۔
دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ جوڈیشل کمپلیکس میں ملزمہ پنکی کے خلاف بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے کی بھی سماعت متوقع ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمے کے مدعی شہروز کو آج سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کا دفعہ 164 کے تحت بیان قلمبند کیا جائے گا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ 7 اپریل 2026 کو بغدادی کے علاقے سے ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی تھی، جس کی جیب سے منشیات کی ایک ڈبیا برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق ڈبیا پر ’’پنکی کوئین‘‘ درج تھا جبکہ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ نامعلوم شخص منشیات کے استعمال کے باعث ہلاک ہوا۔
















