شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک

کارروائی میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر حکمت عملی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا: سیکیورٹی ذرائع
اپ ڈیٹ 21 مئ 2026 12:59pm

شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بڑا آپریشن کرتے ہوئے انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ خارجی عمر عرف جان میر عرف تور ثاقب سمیت 4 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے تحت کی گئی، جس میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر حکمت عملی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا خارجی سرغنہ عمر عرف ثاقب تور علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ تھا اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ شہریوں پر حملوں میں بھی ملوث رہا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس دہشت گرد کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی جبکہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے مطلوب تھا۔

دہشت گرد سرغنہ نے سپن وام کے علاقے بوبالی مسجد کے اطراف زیر زمین بنکر، سرنگیں اور بارودی جال بچھا رکھے تھے تاکہ سیکیورٹی فورسز کی پیش قدمی روکی جا سکے۔ تاہم فورسز نے مربوط اور مؤثر حکمت عملی اپناتے ہوئے دہشت گردوں کا محاصرہ کیا اور شدید مقابلے کے بعد انہیں ہلاک کردیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر کلیئرنس کارروائی بھی کی گئی تاکہ کسی ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرچ آپریشن مزید جاری ہے جبکہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔

دفاعی اور سیکیورٹی ماہرین نے اس کارروائی کو فتنہ الخوارج کے خلاف بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد سرغنہ کی ہلاکت سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی اور دہشت گرد نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچے گا۔

آپریشن عزم استحکام کے تحت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں مؤثر انداز میں جاری ہیں اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔