150 ممالک کو ادویات کی برآمدگی: پاکستان ڈبلیو ایچ او کی لیول 3 سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے قریب
وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے منگل کو بتایا کہ پاکستان آنے والے مہینوں میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی لیول 3 سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے قریب ہے، جس سے مقامی فارماسوٹیکل کمپنیوں کو اپنی برآمدات میں توسیع کرنے میں مدد ملے گی۔
وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ”پاکستان آنے والے مہینوں میں ڈبلیو ایچ او لیول 3 سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے، جس سے فارماسوٹیکل برآمدات کی رسائی موجودہ 51 ممالک سے بڑھ کر 150 سے زائد بین الاقوامی منڈیوں تک ہو جائے گی۔“
وفاقی وزیر نے یہ بات اسلام آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران کہی، جہاں پاکستانی اور چینی ادویات ساز کمپنیوں کے درمیان ادویات کے خام مال (اے پی آئی) کی مقامی تیاری، ویکسین کی پیداوار کے لیے باہمی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ملک میں غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے 10 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
گزشتہ سال پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے رپورٹ کیا تھا کہ کم از کم 8 مقامی کمپنیوں نے عالمی معیار کی ادویات تیار کرنے پر بین الاقوامی سطح پر معتبر شناخت حاصل کی ہے، جس میں ڈبلیو ایچ او کی پری کوالیفیکیشن اور دیگر اہم عالمی اداروں کی منظوری شامل ہے۔
ان کامیابیوں نے مقامی کمپنیوں کے لیے امریکا، یورپ اور خلیجی ممالک سمیت ریگولیٹڈ عالمی منڈیوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔ پی پی ایم اے کے سابق چیئرمین توقیر الحق کے مطابق، آئندہ ایک سے دو سالوں میں مزید 10 سے 15 کمپنیوں کو ایسی عالمی سرٹیفیکیشنز ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان کی فارماسوٹیکل برآمدات نے 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں دو دہائیوں کی بلند ترین سطح 34 فیصد نمو حاصل کی، جس سے یہ ملک کی تیزی سے بڑھنے والی برآمدی کیٹیگریز میں پانچویں نمبر پر آ گئی ہے۔ مالی سال 2025 میں بیرون ملک منڈیوں میں مقامی طور پر تیار کردہ ادویات کی فروخت بڑھ کر 45.7 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
















