کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز سے امریکی ہتھیار منتقل کرنے نہیں دیں گے: ایرانی فوج
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے امریکی ہتھیار منتقل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ اس وقت مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کے اسٹریٹجک کنٹرول میں ہے۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بدھ کو ایرانی شہر مشہد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے مغربی حصے پر اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نیوی جب کہ مشرقی حصے پر ایرانی بحریہ کا کنٹرول ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فورسز کے درمیان مربوط اور مشترکہ کنٹرول نے خطے میں ایران کی نگرانی اور اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ان کے مطابق اس کنٹرول سے ایران کو اتنی آمدن حاصل ہوسکتی ہے جو ملک کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدن سے دوگنا تک ہو۔
ایرانی فوجی ترجمان نے غیر ملکی طاقتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے امریکی اسلحہ منتقل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے دعویٰ کیا کہ اگر ماضی میں امریکی ہتھیار خطے میں موجود فوجی اڈوں پر رکھے گئے تھے تو ان میں سے بیشتر اب تباہ ہوچکے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران نہ تو آبنائے ہرمز سے امریکی ہتھیاروں کی گزرگاہ کی اجازت دے گا اور نہ ہی ایران کے خلاف پابندیوں کو قبول کرے گا۔ جو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہتا ہے اسے ایرانی افواج کی نگرانی میں یہاں سے گزرنا پڑے گا۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے، جن کا مقصد ایرانی میزائل پروگرام کو ختم کرنا بتایا گیا تھا۔ ان حملوں کے وقت امریکا اور ایران کے درمیان جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات بھی جاری تھے۔ ایران نے جواب میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔
2 مارچ کو جنگ کا دائرہ لبنان تک پھیل گیا تھا، جب حزب اللہ نے جنوبی لبنان سے اسرائیلی اہداف پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے۔ گروپ کا کہنا تھا کہ یہ حملے ایران کی قیادت کے خلاف کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔
4 مارچ کو ایران نے آبنائے ہرمز پر مؤثر ناکہ بندی کر دی تھی، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس اقدام کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہوئی تھی۔
8 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان 14 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں بعد ازاں پاکستان کی ثالثی سے توسیع بھی کی گئی تھی جب کہ 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔
13 اپریل کو امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی عائد کی، جس کا مقصد ایران کی معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنا تھا۔ 20 اور 21 اپریل کو مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں طے تھا تاہم امریکی صدر نے وفد کے دورے کو منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات ٹیلی فون کے ذریعے کیے جائیں گے، جبکہ ایرانی حکام نے بھی اس دور میں شرکت سے گریز کیا۔














