ہنٹا وائرس کہاں سے شروع ہوا اور کہاں تک پھیل چکا ہے؟
دنیا بھر میں ہنٹا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی صحت کے اداروں اور حکومتوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ جنوبی امریکا سے روانہ ہونے والے ایک سیاحتی جہاز میں وائرس کے متعدد کیسز سامنے آنے کے بعد کئی ممالک ہائی الرٹ ہو گئے ہیں، جبکہ متاثرہ مسافروں کو مختلف ملکوں میں منتقل کر کے قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے۔
تین اموات اور کئی مشتبہ کیسز کے بعد یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ آیا یہ وائرس مزید ممالک تک پھیل سکتا ہے یا نہیں۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، یورپی حکام اور مختلف ممالک کی طبی ٹیمیں اب یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ہنٹا وائرس آخر کہاں سے شروع ہوا اور دنیا کے کن حصوں تک پہنچ چکا ہے۔
وائرس سے اب تک کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مختلف ملکوں میں درجنوں مسافروں کو قرنطینہ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت، یورپی ممالک اور امریکہ سمیت کئی حکومتیں اس پراسرار وبا کے پھیلاؤ کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے صورتِ حال کی نگرانی کرتے ہوئے واضح کیا کہ عام شہریوں کے لیے فوری خطرہ کم ہے، تاہم متاثرہ افراد کے قریبی رابطوں کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہدایات جاری کی ہیں کہ جہاز پر موجود تمام افراد کو کم از کم 42 دن تک مانیٹر کیا جائے کیونکہ وائرس کی علامات تاخیر سے بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
تحقیقات کا مرکز اس وقت ارجنٹینا بن چکا ہے کیونکہ جہاز نے یکم اپریل کو جنوبی ارجنٹینا کے شہر اوشوائیا سے سفر شروع کیا تھا۔ یہ علاقہ پیٹاگونیا کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے ”گیٹ وے ٹو انٹارکٹیکا“ بھی کہا جاتا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے والے پہلے افراد ایک ڈچ جوڑا تھا، جو بعد میں ہلاک ہو گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس جوڑے نے اوشوائیا کے قریب ایک لینڈ فل سائٹ کا دورہ کیا تھا جہاں وہ نایاب پرندے کی تلاش میں گئے تھے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں موجود چوہوں کے فضلے یا آلودہ ماحول کے ذریعے وائرس منتقل ہوا ہو۔
تاہم ارجنٹائن کے مقامی حکام نے اس امکان کو فوری طور پر مسترد نہیں کیا لیکن کہا ہے کہ اس علاقے میں 1996 کے بعد ہنٹا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث وائرس پھیلانے والے روڈنٹس نئی جگہوں پر منتقل ہو سکتے ہیں۔
روڈنٹس دراصل اپنے آگے کے دانتوں سے کترنے والے چھوٹے جانور ہیں جیسے چوہے، گلہریاں اور دوسرے چھوٹے جانور، اس لیے علاقے کا مکمل معائنہ ضروری ہے۔ ارجنٹائن کی حکومت نے ماہرین کو متاثرہ مقام پر بھیج دیا ہے جہاں چوہوں کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
چلی بھی تحقیقات کے دائرے میں شامل ہے کیونکہ ”اینڈیز اسٹرین“ نامی ہنٹا وائرس جنوبی چلی کے کئی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ متاثرہ ڈچ جوڑا کئی ماہ تک چلی اور ارجنٹینا کے مختلف علاقوں میں سفر کرتا رہا تھا۔ چلی کی حکومت نے تصدیق کی تھی کہ یہ افراد ملک میں موجود رہے تھے، تاہم حکام کے مطابق ان کا سفر وائرس کے انکیوبیشن پیریڈ سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لیے ابتدائی طور پر چلی کو ذریعہ قرار نہیں دیا جا رہا۔
یوراگوئے کا نام بھی سامنے آیا کیونکہ یہ جوڑا وہاں بھی کچھ عرصہ مقیم رہا تھا، لیکن یوراگوئے کی وزارتِ صحت نے کہا کہ مریضوں میں علامات ملک چھوڑنے کے بعد ظاہر ہوئیں، اس لیے وہاں مقامی سطح پر پھیلاؤ کا خطرہ موجود نہیں۔
اس جہاز کے مسافر اب دنیا کے مختلف حصوں میں پہنچ چکے ہیں۔ امریکا نے اپنے شہریوں کو خصوصی پرواز کے ذریعے ”نیبراسکا“ منتقل کیا جہاں انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق ایک امریکی شہری کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن اس میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
فرانس میں صورتِ حال زیادہ تشویشناک ہوگئی جہاں واپس آنے والی ایک فرانسیسی خاتون میں دورانِ پرواز علامات ظاہر ہوئیں اور بعد میں اس کی حالت بگڑ گئی۔ فرانسیسی حکومت نے تمام متاثرہ مسافروں کو آئسولیشن میں منتقل کر دیا ہے۔
برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مسافروں کو ابتدائی طبی نگرانی کے بعد چھ ہفتوں کے لیے سیلف آئسولیشن میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی دوران برطانوی فوجی طبی ماہرین کو ٹرسٹن دا کونہا بھیجا گیا جہاں ایک مشتبہ مریض پہلے ہی اتر چکا تھا۔
نیدرلینڈز میں 26 افراد کو واپس لا کر گھروں میں قرنطینہ کیا گیا جبکہ جرمنی نے اپنے شہریوں کو خصوصی طبی نگرانی میں فریکفرٹ منتقل کیا۔
جنوبی افریقہ، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک میں بھی متعدد افراد اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں جہاز کا ایک ڈاکٹر اور عملے کے افراد شامل ہیں۔
آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، بھارت، پرتگال، یونان، بیلجیئم، فلپائن، یوکرین اور دیگر ممالک نے بھی اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی طبی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ وائرس کے ممکنہ عالمی پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ بحران اس لیے بھی خطرناک سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ’اینڈیز اسٹرین‘ ہنٹا وائرس کی وہ قسم ہے جو انسان سے انسان میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ ہنٹا وائرس کی زیادہ تر اقسام صرف متاثرہ روڈینٹس یعنی چوہوں وغیرہ کے ذریعے پھیلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور مختلف حکومتیں غیرمعمولی احتیاطی اقدامات کر رہی ہیں۔
اس واقعے نے نہ صرف عالمی صحت کے نظام کو چوکنّا کر دیا ہے بلکہ جنوبی امریکا کی سیاحت، خاص طور پر اوشوائیا اور پیٹاگونیا جیسے علاقوں کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں اس تحقیق پر مرکوز ہیں کہ آخر یہ وائرس پہلی بار کہاں سے جہاز تک پہنچا اور کیا اسے مزید ممالک میں پھیلنے سے روکا جا سکے گا یا نہیں۔
















