کیا آپ جانتے ہیں بیٹھ کر سونا کیوں مشکل ہوتا ہے؟
ہم میں سے بیشتر افراد چھٹیوں میں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے کے لئے سفر کرتے ہیں اور سفر کے دوران بس، ہوائی جہاز یا کار میں سوجاتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ہمیں بیٹھ کر اتنی آرام دہ نیند کیوں نہیں آتی جتنی کہ بیڈ پر لیٹ کرآتی ہے؟
اس بات کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے آپ کو نیند کے طریقوں کو سمجھنا ہوگا۔ جب انسان تکیے پر سر رکھتا ہے تو اسکا دماغ پانچ مراحل سے گزرتا ہے۔
پانچواں مرحلہ ریپڈ آئی موومنٹ سلیپ ہے۔ ریپڈ آئی موومنٹ آپ کی نیند کو صرف 25 فیصد پورا کرتا ہے۔ یہ مرحلہ انسان کے سوجانے کے 70 سے 90 منٹ کے بعد شروع ہوتا ہے۔
سوجانے کے بعد رات میں کئی بار انسانی دماغ آر ای ایم کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں دماغ ریڑھ کی ہڈی کو یہ سگنل بھیجتا ہے کہ وہ انسانی پٹھوں کو عارضی طور پر مفلوج بنا دے۔ جس کی وجہ سے آپ کے پٹّھوں کا تناؤ معمول کی حالت سے محروم ہوجاتا ہے۔
عموماً آر ای ایم کے مرحلے میں ہمارے پٹھّے عارضی طور پر مفلوج ہوجاتے ہیں۔ اس بارے میں ڈاکٹر نیل کلائن (جوکہ ایک انٹرنسٹ، سلیپ ڈس اور ڈر کے ڈاکٹر) اور امریکن سلیپ ایسوسی ایشن کے سی ای او ہیں ان کا یہ کہنا ہے کہ "پٹھوں کے عارضی طور پر مفلوج ہونے کی وجہ سے انسان حقیقت میں وہ نہیں کر رہا ہو ہوتا جوکہ وہ خواب میں دیکھ رہا ہوتا ہے، اور نہ ہی خود کو نقصان پہنچاتا ہے۔
لیکن جو لوگ آر ای ایم سلیپ ڈس اور ڈر کا شکار ہوتے ہیں وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بھی انجام دے رہے ہوتے ہیں، اور اس سے وہ اکثر خود کو یا دوسروں کو نقصان بھی پہنچادیتے ہیں"۔
اس کے علاوہ جب ہم بیٹھتے ہیں تو گردن اور کمر کو سیدھا کرکے بیٹھتے ہیں لیکن جب ہم سوجاتے ہیں تو یہ تناؤ ختم ہوجاتا ہے۔ اسی لئے بیٹھ کر سونا ہمارے لئے مشکل ہوتا ہے۔
اسی بات کو مدد نظر رکھتے ہوئے جہازوں کی کرسیوں کو خاص طور پر کشنز لگا کر تیار کیا جاتا ہے تاکہ انہیں سفر کرنے والوں کے لئےآرام دہ بنایا جاسکے۔
Thanks to mentalfloss

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔