سال 2017 میں 13 مرتبہ پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری نے مایوس کیا

شائع 30 دسمبر 2017 09:00am

main2

پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری گذشتہ کئی برس سے زبوں حالی کا شکار ہے لیکن ہر سال اس نئی امید کے ساتھ کہ یہ سال بہتر ثابت ہوگا پورے جنون سے کام کا آغاز کیا جاتا ہے۔ تاہم کہیں نہ کہیں تو ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں جن کی وجہ سے ہماری انڈسٹری کامیاب نہیں ہوپاتی۔ اور ہمیں ان غلطیوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

آج ہم آپ کو رواں برس پاکستان انٹرٹیمنٹ انڈسٹری کی 13 ان پیشکشوں کے بارے میں جنہوں نے توقعات کے برعکس عوام کو بے حد مایوس کیا۔ آئیے ملاحظہ کیجیئے۔

تھوڑا جی لے

تھوڑا جی لے نے بری طرح ناکامی کا منہ دیکھا۔

راستہ

ساحر لودھی کی فلم راستہ بھی عوام کو اپنی جانب متوجہ نہ کرسکی حالانکہ مارننگ شوز میں اس کی تشہیر بھی خوب کی گئی تھی۔

چلے تھے ساتھ

یہ ایک ایسی فلم تھی جسے دیکھنے کے لئے ہر شخص ہی پرجوش نظر آیا لیکن جب عوام تھیئیٹر سے باہر نکلی تو انہیں بالکل مزہ نہ آیا۔

یلغار

یلغار مووی انتہائی بری ایڈیٹنگ، تسلسل کی کمی اور بری لائٹنگ کے باعث فلاپ ہوئی۔

چین آئے نہ

چین آئے نہ بھی عوام کی توجہ حاصل نہ کر پائی۔

مہرون نساء وی لب یو

یہ مووی ناقدین کی جانب سے 5 میں سے محج 2 اسٹارز حاصل کرپائی۔

ورنہ

ماہرہ خان کی مووی 'ورنہ' ریلیز سے قبل تنازعات کا شکار رہی اور ریلیز کے بعد بھی بہت کم پسند کی گئی۔

رنگ ریزا

رنگ ریزا کی گُڈ لُکِنگ کاسٹ بھی اسے کامیاب نہ بنا سکی۔

ارتھ ـ دی ڈیسٹنیشن

مشہور و معرود اداکار شان اپنی فلم کا دفاع کرتے نظر آئے لیکن ناکامی سے نہ بچا سکے۔

باغی

ہماری ڈرامہ انڈسٹری نے اتنا مایوس نہیں کیا مگر ایک دھماکے دار آغاز کے بعد اب اس کی کہانی بھی ماند پڑتی جارہی ہے۔

الف، اللہ اور انسان

اس ڈرامے کا آغاز بھی کافی شاندار رہا تاہم اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کہانی کو جتنا گھسیٹا جاسکتا ہے گھسیٹ رہے ہیں۔

دلدل

اس ڈرامے کی کہانی بھی اچانک تبدیل ہوگئی اور اب زاہد احمد کی موجودگی بھی اس کو بچاتی نظر نہیں آرہی۔

یقین کا سفر

یقین کا سفر بھی اب ختم ہوگیا اور اس کا اختتام بھی خاصے مایوس موڑ پر ہوا۔

Thanks to mangobaaz