مرزا غالب کی ایک سو سینتالیسویں برسی منائی جا رہی ہے

شائع 15 فروری 2016 05:35pm

ghalib

کراچی:آج مرزا اسداللہ خان غالب کی ایک سو سینتالیسویں برسی منائی جارہی ہے۔عظیم شاعر نے غزل کو نئے جہانوں سے روشناس کرایا۔

گیارہ سال کی عمر میں پہلا شعر کہنے والے اسد اللہ کو شاید خود بھی معلوم نہ تھا کہ جو دیا انہوں نے جلایا ہے وہ اردو زبان کو رہتی دنیا تک روشن کرتا رہے گا۔لفظوں سے کھیلنا غالب کا کمال ہے، ابتدائی دور میں اساتذہ اور شعراء نے غالب کی شاعری پرتنقید کی کہ ان کی شاعری رنگوں سے عاری اور مشکل شاعری ہے اور مرزا صرف اپنے لیے لکھتے ہیں۔

وقت گزرا اور دنیا نے تسلیم کیا اور کہا کہ غالب آفاقی شاعر ہے اور ان کی شاعری کائنات کی شاعری ہے۔مرزا نے شعر کو انسانی نفسیات اور کائنات کے اسرار و رموز بیان کرنے کا بھی ذریعہ بنایا۔غالب کے ہاں شوخی بھی ہے اور لطافت بھی۔ان کے اشعار نہ صرف فلسفی کائنات و زندگی کا احاطہ کرتے ہیں، بلکہ ان کے ہاں غم اور دکھ بھی نمایاں ہے۔

آج ڈیڑھ سو سال گزرنے کے بعد بھی غالب کی شاعری پہلے کی طرح ترہ تازہ ہے ۔ کسی نے صحیح کہاہے غالب کی شاعری آج کی شاعری ہے ، یعنی غالب ہر دور کا شاعر ہے۔