دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی فہرست جاری: پاکستانی شہری اب کتنے ممالک کا ویزا فری سفر کر سکیں گے؟
عالمی ادارے ’ہینلی پاسپورٹ انڈیکس‘ نے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی تازہ درجہ بندی جاری کر دی ہے جس کے مطابق سنگاپور کا پاسپورٹ ایک بار پھر دنیا میں پہلے نمبر پر براجمان ہے۔
رپورٹ کے مطابق سنگاپور کے شہری بغیر ویزا 192 ممالک کا سفر کر سکتے ہیں جو کہ عالمی سطح پر کسی بھی ملک کو حاصل ہونے والی سب سے زیادہ رسائی ہے۔
سنگاپور کے بعد دوسرے نمبر پر جاپان، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات مشترکہ طور پر موجود ہیں، جن کے شہری دنیا کے 187 ممالک میں بغیر کسی ویزے کے داخل ہو سکتے ہیں۔
اس فہرست میں ناروے اور سوئٹزرلینڈ بھی نمایاں ہیں جن کے پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو 185 ممالک تک ویزا فری رسائی حاصل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی ممالک مجموعی طور پر پاسپورٹ کی طاقت کے لحاظ سے دنیا میں سرفہرست ہیں اور یورپی یونین کے ممالک کا اوسط ویزا فری سفر 183 ممالک بنتا ہے جو کہ ملائیشیا اور برطانیہ کے برابر ہے۔
ماہرین کے مطابق پاسپورٹ کی طاقت کسی ملک کی معاشی استحکام اور بین الاقوامی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔
دوسری جانب کمزور ترین پاسپورٹس کی فہرست میں افغانستان سب سے آخری نمبر پر موجود ہے، جہاں کے شہری صرف 23 ممالک کا سفر بغیر ویزا کر سکتے ہیں۔
شام اس فہرست میں دوسرے اور عراق تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ پاکستانی پاسپورٹ 98ویں نمبر پر دنیا کے چوتھے کمزور ترین پاسپورٹ کے طور پر موجود ہے۔
فہرست کے مطابق اس رینکنگ پر پاکستانی شہریوں کو صرف 31 ممالک تک ویزا فری رسائی حاصل ہوگی۔
عالمی ادارے کی رپورٹ میں ان وجوہات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جن کی بنا پر کچھ ممالک کے پاسپورٹ کمزور تصور کیے جاتے ہیں۔
ان عوامل میں سیاسی عدم استحکام، ملک کے اندر جاری تنازعات اور شہریوں میں ہجرت کے بڑھتے ہوئے رجحانات جیسے مسائل شامل ہیں۔
یہ فہرست واضح کرتی ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان سفر کرنے کی آزادی میں کتنا بڑا فرق موجود ہے اور کس طرح مضبوط معیشتیں اپنے شہریوں کے لیے عالمی سفر کو آسان بناتی ہیں۔
پاکستانیوں کو ویزا فری داخلے کی سہولت فراہم کرنے والے ممالک میں بارباڈوس، ڈومینیکا، گیمبیا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو، ہیٹی اور سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز شامل ہیں، جہاں قیام کی مدت ایک ماہ سے چھ ماہ تک ہوتی ہے۔
آن ارائیول ویزہ یعنی پہنچنے پر ویزہ حاصل کرنے کے لیے مالدیپ، قطر، نیپال، روانڈا، کمبوڈیا، مڈغاسکر اور موزمبیق جیسی جگہیں داخلے کی اجازت دیتی ہیں، جس کے لیے عام طور پر واپسی کے ٹکٹ اور رہائش کے ثبوت سمیت بنیادی دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے۔
متعدد ممالک نے الیکٹرانک ٹریول سسٹم بھی متعارف کرائے ہیں جن کی بدولت آن لائن درخواستوں کے ذریعے تیزی سے منظوری ممکن ہو گئی ہے۔ ان ممالک میں کینیا، سیشلز، سری لنکا اور آذربائیجان شامل ہیں جہاں ویزہ یا سفری اجازت نامے عام طور پر چند گھنٹوں سے لے کر چند دنوں میں تیار ہو جاتے ہیں۔
لیکن یاد رہے، آسان رسائی کے باوجود مسافروں کے لیے داخلے کی معیاری شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے، جن میں کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، واپسی کے سفر کا ثبوت، کافی فنڈز اور رہائش کی تصدیق شامل ہے۔
بعض خطوں بالخصوص افریقہ اور کیریبین کے لیے صحت سے متعلق دستاویزات جیسے کہ پولیو یا یلو فیور (زرد بخار) کی ویکسینیشن کے سرٹیفکیٹ بھی درکار ہو سکتے ہیں۔
















