رینجرز نے پولیس کی تفتیش کو غیر موثر قرار دے دیا
کراچی:رینجرز نے پولیس کی تفتیش کو غیرموثرقراردیتے ہوئے تھانوں کے قیام،مقدمات کے اندراج اورعدالتوں میں چالان پیش کرنے کا اختیار مانگ لیا۔ سپریم کورٹ میں پولیس کو غیرسیاسی بنانے، شفاف بھرتیوں، محکمہ داخلہ اور پولیس میں تعیناتیوں کی مدت کو تحفظ دینے کی تجاویز پیش کردیں
سپریم کورٹ میں بدامنی عملدرآمد فیصلہ کیس میں رینجرزنے رپورٹ جمع کرادی۔آپریشن کے آغازسے اب تک 5 ہزار 96 ملزمان پولیس کے حوالے کئے۔168 ملزمان کوسزائیں ہوئیں،83 بری ہوئے جبکہ 1156 ضمات پر رہا ہوگئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیڑھ برس میں اسٹریٹ کرائم سمیت دیگرسنگین جرائم میں ملوث 1100 ملزمان غیرموثرتفتیش کے باعث رہا ہوئے۔
رینجرزنے پولیس افسران کی تعیناتیوں اوربھرتیوں کو غیرشفاف اورتربیت کے نظام کو غیرمعیاری قراردیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افسران کی تھانوں،اضلاع،ریجنل اورسینٹرل سطح پرتعیناتیوں میں تحفظ حاصل نہیں۔ گذشتہ برس 3 سے 4 سیکریٹری داخلہ تبدیل ہوئے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امن و امان کی صورت حال بہترہوئی ہے تاہم یہ تبدیلی مستقل بنیادوں پرنہیں ہے۔رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت رینجرزکے اختیارات محدود کرنے کیلئے کوشاں ہے،دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو گرفتارکرنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ رینجرز کے اختیارات محدود توسیع کی جاتی ہے جس کے باعث شہری عدم تحفظ کا شکارہیں۔
رپورٹ میں عدالت سے پولیس میں بھرتیوں کے عمل کو شفاف اور میرٹ کے مطابق بنانے، محکمہ داخلہ اور پولیس افسران کی تعیناتی کو تحفظ دینے کی تجاویز دی گئی ہیں۔رپورٹ میں رینجرز کو تھانے قائم کرنے،مقدمات کے اندراج ،عدالتوں میں چالان پیش کرنے کے اختیاراوررینجرزکو حاصل کوحاصل خصوصی اختیارات میں توسیع سالانہ بنیادوں پر کئے جانے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔