'15 اپریل کے بعد کیا کرنا ہے فیصلہ کل ہوگا'
وفاقی وزیر اسد عمروفاقی وزیر اسد عمر کہتے ہیں 15 اپریل کے بعد کیا کرنا ہے فیصلہ کل ہوگا ۔کورونا کے دفاع میں ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے۔ پابندیوں پر 100 فیصد عمل در آمد نہیں کیا گیا لیکن بحیثیت مجموعی پاکستانی قوم نے ذمہ داری کامظاہرہ کیا۔
وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں کورونا وائرس سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ کل نیشنل کمانڈ سسٹم کا دوبارہ اجلاس ہوگا جس میں تجاویز پر غور ہوگا۔نیشنل کمانڈ سینٹر کے اجلاس کے بعد کل دوپہر کو وزیراعظم کی صدارت میں این سی سی کا اجلاس ہوگا جس میں فیصلے کیے جائیں گے کہ 15 تاریخ سے آگے کیا کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں معیشت سے جڑے معاملات، آمد و رفت کے ذرائع اور صحت سے جڑے معاملات پر غور کیا جارہا ہے اور ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے مربوط انداز میں فیصلے کیے جائیں گے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کورونا کے دفاع میں ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے، پابندیوں پر 100 فیصد عمل در آمد نہیں کیا گیا لیکن بحیثیت مجموعی پاکستانی قوم نے ذمہ داری کامظاہرہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے ہمارے ہاں نتائج بھی آئے ہیں جس دنیا میں خصوصی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں کورونا جس تیزی سے پھیلا اور اموات ہوئی ہیں اللہ کے فضل سے ہم اس خراب صورت حال کے اندر نہیں آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ کاروبار کرنے والے مالکان پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ آپ کاروبار کرنا چاہتے ہیں جو آپ کا حق ہے لیکن ذمہ داری کے ساتھ کرنا ہے۔کیونکہ جو لوگ کام کرنے آتے ہیں ان کو اجرت کے ساتھ صحت کا خیال رکھنا بھی آپ کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ٹریکنگ پر بھی اچھا کام ہورہا ہے اس حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پائلٹ پروجیکٹ کی بات کی تھی وہ تمام صوبوں میں شروع کردیا گیا ہے جس کے نتائج اگلے 2 کے اندر آئیں گے اور قرنطینہ کے حوالے سے بھی کام کررہے ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پائلٹ پروجیکٹ کے ذریعے 4 صوبوں اور اسلام آباد میں کام کررہے ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ مقامی سطح پر وبا پھیلنے کی شرح اب 50 فیصد سے بڑھ گئی جس کو روکنے کےلئے اقدامات کیے جارہے ہیں اور اس کے لیے ٹیسٹنگ بڑھانا ہوگا اور اس کا دائرہ وسیع کرنا ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک بھر میں 27 لیبارٹریاں ٹیسٹ کررہی ہیں اور اس میں مزید 7 لیبارٹریوں کا اضافہ کیا جارہا جس کے بعد یہ تعداد 34 ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹیسٹ چند سو سے شروع کیے تھے اور آج روزانہ 3 ہزار سے زائد کر چکے ہیں اور اس حکمت عملی کو آگے بڑھاتے ہوئے مہینے کے آخر تک 20 ہزار سے 25 ٹیسٹ کرنے کا ہدف بنایا ہے۔
ٹیسٹ کٹس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین این ڈی ایم اے نے آج کے این سی سی کے اجلاس میں بتایا کہ اس وقت ملک میں 6 لاکھ ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے جو 15 اپریل تک ایک ملین سے بڑھ جائے گی اور آنے والے دنوں میں ٹیسٹ کی کمی نہیں ہوگی۔












اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔