'ہمیں پتہ تھا وقت کے ساتھ اموات بڑھیں گی'
وزیر اعظم عمران خان -فائل فوٹووزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں ہمیں پتہ تھا وقت کے ساتھ اموات بڑھیں گی۔ہمیں پتہ تھا کہ لاک ڈاؤن کھولیں گے تو انفیکشن بڑھے گا۔افسوس ہے کہ میڈیا ہم پر تنقید کرتا رہا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ کورونا سے زیادہ اموات ہوں۔اپوزیشن چاہتی ہے کہ لاک ڈاؤن سے اکنامی بیٹھ جائے۔ایک لیڈر بھاگے بھاگے لندن سے واپس آئے۔کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر ماسک بھی پہنا ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کشمیر اشو کا بھی فائدہ اٹھا کر دباؤ ڈالنا تھا۔انکامقصدخودکوکرپشن سےبچاناہے۔کہتے ہیں حکومت کی پالیسی ٹھیک نہیں، کنفیوز ہے۔زیادہ اموات کوحکومت کا قصور ٹھہرا رہے ہیں۔میری ٹیم نے 3 ماہ میں صوبوں کے ساتھ، ڈاکٹرز کے ساتھ مشاورت کی۔دل سے کہتا ہوں مجھے اپنی ٹیم پر فخر ہے۔انہوں نے زبردست قسم کا تجزیہ کیا۔
وزیر اعظم نے کہا ہم بڑے خوش قسمت ہیں کہ انکی تجاویز آتی رہیں اور ہم دباؤ میں نہ آئے۔اپوزیشن کہتی رہی کہ لاک ڈاؤن کردیں۔اللہ کاشکرہے ہم دباؤ میں نہیں آئے اور ایسا لاک ڈاؤن نہیں کیا جیسا بھارت نے کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے مسئلہ مغرب، چین اور امریکا سے مختلف ہے۔25 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔لاک ڈاؤن کریں تو اسکا عذاب غریب پر آتا ہے۔ایکطرف کورونا اور دوسری طرف غربت سے بچانا ہے۔مجھے مخالفین کی تنقید برداشت کرنا پڑی۔
انہوں نے بتایا کہ آج ایک سروے چھپاہےجسےآپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔بھارتی حکومت نےایک دم ہندوستان کوبندکردیاہے۔مجھےبھی کہا جارہا تھا کہ ایسا ہی لاک ڈاؤن کریں۔ہندوستان کے 84 فیصد گھرانوں کو آمدنی میں نقصان ہوا۔34 فیصد گھرانوں کی 2 ہفتے میں امداد نہ کی گئی تو وہ گزارا نہیں کرسکیں گے۔ سروے میں کہا گیا کہ امیر طبقےکوکوئی فرق نہیں پڑا۔مجھے تنخواہ بھی مل رہی ہے، لاک ڈاؤن ہوجاتا تو مجھے کیا ہوتا۔ہمارا بھی اسی طرح کا حال ہونا تھا۔لیکن ہم نے کسٹرکشن کھول دی، کسانوں کو کام کرنے دیا۔ہم نے 120 ارب روپیہ بانٹا، اسکی وجہ سے بھی حالات وہ نہیں جو بھارت کے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہابدقسمتی سے پاکستان میں اموات بڑھیں گیں۔کورونا پہلےاوپرجاتا ہےپھر نیچےآنا شروع ہوجاتاہے۔ابھی وائرس اوپر جارہا ہے۔یہ ایک مشکل وقت ہے۔بھارت کے اسپتالوں میں لوگوں کو جگہ نہیں مل رہی۔اب بھارت بھی ادھر ہی آرہا ہے جو میں پہلے دن سے کہہ رہا تھا۔پہلے دن سے کہتا آرہا ہوں کہ حل اسمارٹ لاک ڈاؤن میں ہے۔
انہوں نے کہاآج ہم بڑے خوشقسمت ہیں کہ 10 لاکھ کی ٹائیگر فورس ہے۔ضرورت ہے کہ لوگوں کو ایس او پیز کے حوالے سے آگاہ کریں۔صاحب اقتدار کو کھانسی بھی ہوتی تھی تو باہر چلے جاتے تھے۔صاحب اقتدار کو تو لوگوں کی فکر ہی نہیں تھی۔اگر ہم ایس او پیز پر نہیں چلیں گے تو اسکے اثرات اسپتالوں پر پڑیں گے۔احتیاط نہیں کریں گے تو بزرگ اور بیمار لوگوں کو جانوں کو خطرے میں ڈالیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آفس سے سارے ملک کا جائزہ لوں گا۔اب میرے پاس ہر جگہ کی رپورٹ ہے کہ ایس او پیزپرکتناعمل ہورہاہے۔میرے پاس ہر روز رپورٹ آیا کرے گی۔انتظامیہ اور ٹائیگر فورس کے ساتھ ملکر ایکشن لیں گے۔جن صوبوں میں جن چیزوں پرعمل نہیں کیاجائےگاانہیں بند کردیا جائے گا۔ کوئی دکان،مال،فیکٹری یا محلہ بھی ہو اسے بند کردیا جائے گا۔اب تک ہم نے اتنا زور نہیں ڈالا۔پہلےتو ہم ڈیٹا جمع کررہے تھے۔اب ہم بہت سختی کریں گے۔میں یہاں سے بیٹھ کر جائزہ لوں گا اور اب سختی کریں گے۔
ہیلتھ ورکرز کےمتعلق بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہیلتھ ورکرز کےلئےاسپیشل پیکجز تیار کررہے ہیں۔ ڈاکٹرزکوکہناچاہتاہوں یہ مشکل وقت ہےآپکو وائرس لگنے کاچانس زیادہ ہے۔پاکستان میں ہونے والی اموات دنیا میں سب سے کم ہیں۔ہیلتھ ورکرز کو اس کام کو جہاد سمجھنا ہے۔ڈیٹا مینجرز تمام اسپتالوں کو دے رہے ہیں۔یہ ڈیٹا مینجرز ہمیں فیڈ بیک دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ نے کیا کیا۔شروع میں پاکستان میں 2 ٹیسٹنگ لیبارٹریز تھیں۔آج 160 لیبارٹریز ہیں۔شروع میں 500 ٹیسٹ کی کپیسٹی تھی، آج 12 لاکھ کی ہے۔شروع میں 2800 وینٹی لیٹرز تھے آج 4 ہزار 500 ہیں۔پاکستان میں بننے والے وینٹی لیٹرز کی ابھی ٹیسٹنگ ہورہی تھی۔آئی سی یوز بیڈز 600 تھے، آج 1300 ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہاافسوس ہے عوام بڑی لاپروائی کررہی ہے۔لوگ کہتے ہیں ہم نے کورونا مریض دیکھا ہی نہیں۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔