جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ کے ویڈیولنک بیان کا معاملہ: فیصلہ کل ہوگا
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ- فائل فوٹوجسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ ویڈیولنک کے ذریعے بیان دے سکیں گی یا نہیں فیصلہ کل سنایا جائے گا۔ صدارتی ریفرنس کےخلاف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سپریم کورٹ میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔
انہوں نے کہا ان کی اہلیہ ایف بی آرکوکچھ نہیں بتائیں گی۔انہیں خدشہ ہے اکاؤنٹ بتایا توحکومت اس میں پیسے ڈال کرنیا ریفرنس نہ بنا دے۔
صدارتی ریفرنس کےخلاف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی درخواست پرجسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے سماعت کی۔
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ بھی کمرہ عدالت میں پہنچےاورکہا وہ جج نہیں،درخواست گزارکےطورپرپیش ہوئے ہیں۔ انکی اہلیہ ویڈیولنک کے ذریعے اپنا موقف پیش کرنا چاہتی ہیں۔انصاف ہوتا نظر آنا چاہیئے۔ حکومتی وکیل نےکہاتھاکہ ایف بی آروالے جج صاحب سے ڈرتے ہیں۔ایف بی آر نے فیصلہ حق میں دیا توپھریہی کہا جائے گا۔اگروہ جج بننے کے اہل نہیں توآج ہی گھربھیج دیا جائے۔
جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ آپ دلائل وکیل کے ذریعے دیتے تو بہتر ہوتا۔عدالت مالی معاملات پر جوابدہ ہے،ہرجج قابل احتساب ہے۔ہم ججزاپنی نجی اور پبلک لائف پرجوابدہ ہیں۔آپ کی اہلیہ کی پیشکش بڑی پیشرفت ہے۔وہ جواب دیتی ہیں تو ساراعمل شفاف ہو جائے گا۔
وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ ایک مرتبہ جوڈیشل کونسل کارروائی شروع کردے توآرٹیکل 211 کے تحت اسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔آرٹیکل 209 کے تحت مواد آنے پرکونسل کے پاس ازخودکارروائی کا اختیاربھی ہے۔
جسٹس مقبول باقرنے استفسار کیا کہ آپ شوکاز نوٹس پرانحصارکیوں کررہے ہیں؟اس صورت میں ریفرنس کی ساکھ کیا ہوگی؟کونسل کے پاس ازخود کارروائی کا اختیار ہے تو کیا سابق چیف جسٹس افتخارچوہدری کیس کا فیصلہ ختم ہو گیا۔یہ دلیل بڑی خطرناک ہے۔
فروغ نسیم نے بتایا کہ افتخار چوہدری کیس میں شوکازنوٹس جاری نہیں کیا گیا۔
ججزنے استفسار کیا کہ شوکازنوٹس کے بعد کیا صدرریفرنس واپس لے سکتے ہیں؟کیا کونسل کہہ سکتی ہے کہ وہ صدرکی بات نہیں مانتی۔کیا کونسل صدارتی ریفرنس کو بغیرانکوائری ختم کرسکتی ہے؟
فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کیس میں درخواست گزار کی استدعا کے باوجود مقدمہ واپس نہیں لینے دیا گیا۔صدرریفرنس دائر ہونے کے بعد واپس نہیں لے سکتے۔
جسٹس عمرعطا بندیال نےریمارکس دیے کہ کونسل آئینی باڈی ہے،کہہ سکتی ہے کہ ریفرنس بے بنیاد ہے۔ کونسل جج کےخلاف کارروائی کےلئے مزید شواہد مانگ سکتی۔
فروغ نسیم نے کہا کہ ڈسپلنری باڈی صدرنہیں بلکہ جوڈیشل کونسل ہے۔
جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ اس دلیل کے مطابق ریفرنس تصویرسے ختم ہوگیا۔اگرکسی چیز کی بنیاد غلط ہو تو کوئی ڈھانچہ کیسے برقراررہ سکتا ہے۔صدرکے ہاتھوں جوڈیشل کونسل قیدی نہیں بن سکتی۔
جسٹس مقبول باقرنے کہا یہ ایشو عدلیہ کی آزادی کا ہے۔اس ملک کی تاریخ اچھی نہیں رہی۔انتظامیہ کی جانب سے عدلیہ میں مداخلت ہوتی رہی ہے۔اپنی کوشش نہیں کریں گے تو تاریخ میں تباہ ہو جائیں گے۔
جسٹس عمرعطا بندیال نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگرعدالت اجازت دیتی ہے کہ اہلیہ ویڈیولنک پراپنا بیان ریکارڈ کرائیں تو بیان کا دورانیہ کیا ہوگا؟
عدالت نے سماعت 18 جون تک ملتوی کردی۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔