امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کا 2 روزہ دورہ مکمل کر کے روانہ

امریکی صدر کے دورۂ چین میں بڑے معاہدے تو نہ ہو سکے، تاہم دونوں جانب سے نرم بیانات اور سفارتی احتیاط نمایاں رہی
اپ ڈیٹ 15 مئ 2026 01:25pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کا 2 روزہ دورہ مکمل کر کے بیجنگ سے روانہ ہو گئے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اپنے دورے کے دوران امریکی صدر نے چین کے صدر شی جن پنگ سمیت اہم حکام سے ملاقاتیں کیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے دورۂ چین کے اختتام پر کہا کہ کچھ تجارتی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم یہ معاہدے اتنے بڑے نہیں تھے کہ مالیاتی منڈیوں میں واضح بہتری یا جوش پیدا کر سکیں۔

یہ دورہ امریکا اور چین، جو دنیا کی بڑی اسٹریٹجک اور معاشی طاقتیں ہیں، کے درمیان تعلقات کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا تھا۔ ٹرمپ کی کوشش تھی کہ وہ ایسے ٹھوس نتائج حاصل کریں جو اندرونِ ملک ان کی سیاسی پوزیشن کو بہتر بنا سکیں، خاص طور پر آئندہ اہم وسط مدتی انتخابات سے قبل۔

چین نے اس موقع پر امریکا کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان کے معاملے کو غلط طریقے سے ہینڈل کرنے سے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ چینی حکام نے خطے میں کشیدگی سے بچنے پر زور دیا۔

اسی دوران چین کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا آغاز نہیں ہونا چاہیے تھا، اور اس معاملے میں بھی سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

صدر ٹرمپ کا یہ دورہ 2017 کے بعد چین کا پہلا دورہ تھا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سیاسی تعلقات کو بہتر بنانے کی امیدیں وابستہ تھیں، تاہم دورے کے اختتام پر کسی بڑے یا واضح معاہدے کا اعلان سامنے نہیں آ سکا۔