چینی انکوائری کمیشن کیس: شہزاد اکبر کو تفویض اختیارات غیر قانونی قرار
اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کےلئے معاون خصوصی شہزاد اکبر کو تفویض کردہ اختیارات غیرقانونی قرار دے دیے۔شوگر ملزکی درخواست پر حکم امتناع بھی ختم ،کمیشن رپورٹ پر وفاقی حکومت کی کارروائی کے دوران حکومتی عہدیداروں کو بیان بازی سے روک دیا گیا۔
عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس پرمختصر فیصلہ پڑھ کرسنایا۔
فیصلے میں عدالت نے تمام متعلقہ اداروں کوچینی انکوائری رپورٹ پر کارروائی کی اجازت دیتے ہوئے شوگرملز مالکان کے خلاف کارروائی سے روکنے کا حکم ختم کر دیا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیشن کی تشکیل اور اس کی رپورٹ اختیارات سے تجاوز نہیں ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کا شہزاد اکبر کو اپنے اختیارات تفویض کرنا خلاف قانون ہے۔قانون کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس قومی احتساب آرڈیننس کے تحت نیب کو ریفرنس بھیجنے کا اختیار ہے۔
عدالت نے کمیشن رپورٹ پر وفاقی حکومت کی کارروائی کے دوران حکومتی عہدیداروں کو بیان بازی سے روک دیا۔
عدالت کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ مجوزہ کارروائی کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرنے میں بااختیارہوگی ۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔