وزارت داخلہ کو سنتھیا کیخلاف پی پی پی کی درخواست کافیصلہ کرنےکی ہدایت

اسلام آباد ہائیکورٹ نےوزارت داخلہ کوامریکی شہری سنتھیا ڈی رچی...
شائع 03 جولائ 2020 12:31pm

اسلام آباد ہائیکورٹ نےوزارت داخلہ کوامریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کیخلاف پاکستان پیپلزپارٹی(پی پی پی )کی درخواست کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنتھیا رچی کوڈی پورٹ کرنے کی درخواست پرسماعت ہوئی، پیپلز پارٹی کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی،اس سلسلے میں پیپلزپارٹی کے وکیل لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ وزارت داخلہ قانون کومدنظررکھ کردرخواست کا فیصلہ کرے اور درخواست پرفیصلے کےبعد کاپی عدالت میں جمع کرائے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے عدالت کو بتایا کہ سنتھیا ڈی رچی کا بزنس ویزہ 2مارچ کوختم ہوچکا،کورونا کی وجہ سے حکومت نے غیر ملکیوں کے ویزوں میں توسیع دے دی،سنتھیا نے ویزہ میں توسیع کی درخواست دی جوزیرالتوا ءہے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے جوائنٹ سیکرٹری داخلہ سے استفسارکیا کہ جس کا ویزہ ختم ہوجائے اس کے حوالے سے قانون کیا کہتا ہے؟ کچھ قواعد وضوابط ہوں گے؟۔

ضابطہ اخلاق سےمتعلق جوائنٹ سیکرٹری داخلہ نے لاعلمی کا اظہار کیا تو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے آپ مکمل تیارنہیں یا آپ کو معلومات ہی نہیں۔

جوائنٹ سیکرٹری داخلہ نے عدالت کے سامنے بیان دیا کہ ویزے کی 16کیٹیگریزہیں، 96 ممالک کی لسٹ ہے ان کوبزنس فرینڈلی کہتے ہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ جن کے ویزوں کی مدت ختم ہوگئی ان کی تعداد کیا ہے؟ جس پر جوائنٹ سیکرٹری داخلہ نے جواب دیا کہ ابھی معلوم نہیں ۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیسی بات کر رہے ہیں آپ کو پتہ ہی نہیں، آپ کیسے مانیٹرکرتے ہیں ؟میکنزم کیا ہے ؟کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ریاست کے پاس اس کا ڈیٹا ہی نہیں۔

جوائنٹ سیکرٹری داخلہ نے جواب دیا کہ آن لائن سسٹم ہی بتاتا ہے، اگرکوئی قانون کی خلاف ورزی کرے توایف آئی اے اس کیخلاف کارروائی کرسکتا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جو بزنس ویزے پر یہاں آیا ہے کیا وہ کوئی ملازمت کرسکتا ہے؟ویزے میں توسیع نہیں ہوئی اورآپ کے پاس قانون ہی نہیں۔

عدالت نے وزارت داخلہ کوہدایات جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ جمعے تک ملتوی کردی۔