تلخ سوالوں کا سامنا نہ کر سکے، عثمان بزدار ٹیم سمیت اچانک غائب
سینئر صحافی کامران خان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار طے شدہ انٹرویو کی ریکارڈنگ سے کچھ دیر قبل ٹیم سمیت غائب ہو گئے اور پھر ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔
سینئر تجزیہ کار نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں بتایا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی خواہش پر ان کا انٹرویو کرنے جا رہے تھے کہ ریکارڈنگ سے کچھ دیر پہلے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اپنی ٹیم سمیت اچانک غائب ہوگئے۔
سینئر تجزیہ کار کے مطابق عثمان بزدار کے اسٹاف آفیسرز کی جانب سے پروگرام سے قبل ان موضوعات سے متعلق بھی پوچھا گیا جن پر انٹرویو ہونا تھا حتیٰ کہ ان کے اصرار پر وہ سوالات بھی بتا دیے گئے جو انٹرویو میں پوچھے جانے تھے، لیکن اس سب کے باوجود وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ٹیم سمیت ایسے غائب ہوئے کہ ڈھونڈے نا ملے۔
سینئر تجزیہ کار نے ان سوالات سے متعلق بھی بتایا جو وزیر اعلیٰ پنجاب برداشت نہ کر سکے۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے پروگرام کی ریکارڈنگ سے قبل یوں اچانک غائب ہو جانے پر معروف صحافیوں کے مزاح سے بھرے ٹوئیٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے۔
سینئر اینکر پرسن منصور علی خان نے ٹوئیٹ کیا کہ ’’دیکھیں اگر آٹا، چینی اور پٹرول غائب ہو سکتے ہیں تو بزدار صاحب کا غائب ہونا کوئی بڑی بات نہیں‘‘
اسی طرح وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے فوکل پرسن (ڈیجیٹل میڈیا) اظہر کو ٹیگ کرتے ہوئے رضا احمد رومی نے ٹوئیٹ کیا ’’ کیوں بھائی کیا ہوا؟ تیاری نہیں کروائی آپ لوگوں نے؟‘‘
اینکر پرسن اجمل جامی نے لکھا کہ ’’وہ لاء اینڈ آرڈر کی ہنگامی میٹنگ کی پریس ریلیز تو جاری کر دیں پلیز۔ خبر چلوانی ہے۔‘‘

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔