Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 287,300 626
DEATHS 6,153 14

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے ججز اور عدلیہ کیخلاف آغاافتخارالدین مرزا کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فرد جرم عائد کردی ،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ دنیا بھرمیں رابطے ہیں پھرکہتے ہیں کہ غلطی سرزد ہوگئی،اگرآپ کو معاف کردیا توپورے ملک کا سسٹم فیل ہوجائے گا۔

چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے ججز اورعدلیہ کیخلاف آغا افتخارالدین مرزا توہین آمیزویڈیو ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

آغا افتحارالدین مرزا نے کہاکہ مجھے معاف کردیں، آئندہ ایسا نہیں کروں گا،بحیثیت مسلمان معافی چاہتا ہوں کیونکہ اللہ کی عدالت میں بھی پیش ہونا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بولنے سے پہلے سوچنا چاہیئےتھا جبکہ جسٹس مظہرعالم نے کہاکہ انسان کوسمجھ بھی غلطی کرنے کے بعد آتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگرآپ کو معاف کردیا توپورے ملک کا سسٹم فیل ہوجائے گا ،عدالت اوراس کے ججزکے ساتھ مذاق نہیں کرسکتے، دنیا بھرمیں رابطے ہیں پھرکہتے ہیں کہ غلطی سرزد ہوگئی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس معاملے پرتوہین عدالت کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کا بیان حلفی عدالت میں جمع کروایا گیا کیا آپ نے پڑھا جس پر اٹارنی جنرل نے نہ ملنے کا مؤقف پیش کیا ۔ بعدازاں عدالت نے فرد جرم عائد کرتے ہوئے ایک ہفتے میں جواب داخل کرانے کاحکم دے دیا اورکیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔