Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

پشاور کے مقامی عدالت میں قتل ہونے والے طاہراحمدنسیم پشاور رنگ روڈ حیات آباد سے ملحقہ علاقہ اچینی بالا کا رہائشی تھا۔ والد کا نام محمد مقبول شاہ تھا اور یہ کم عمری میں امریکہ شفٹ ہوگیا تھا۔

1992 میں اس نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا اور کہا کہ میں اس صدی کا مجدد ہوں اور نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ شخص ہر وقت سوشل میڈیا پر بہت ایکٹیو تھا اور نوجوانوں کیساتھ مناظرے کرتا تھا۔ یوٹیوب پر اس بندے کے بہت سارے ویڈیوز موجود ہیں جو کہ اس کی غلیظ ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

اپنے ایک ویڈیو میں ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ میں امریکہ میں ٹیکسی چلا رہا ہوں۔ حالانکہ وہ ہر وقت سوشل میڈیا پر مصروف رہتا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کو باقاعدہ فنڈنگ ہوتی ہوگی اسلئے بیوی بچوں سمیت امریکہ میں مقیم تھا۔

پاکستان آنے کے بعد یہاں کے مقامی علماء کیساتھ کئی مناظرے کر چکا ہے اور آج سے آٹھ سال پہلے ایک بڑے مجمعے میں توبہ تائب بھی ہوچکا تھا، باقاعدہ کلمہ پڑھ چکا تھا اور حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا برملہ اظہار کیا تھا۔

اسلئے اسکی اپنے رشتہ داروں میں ایک لڑکی سے رشتہ ہوگیا۔ لیکن شادی کے بعد اپنی بیوی سے کہا کہ مجھ پر ایمان لے آؤ میں (نعوذباللہ) نبی ہوں۔ اسکی بیوی نے دیگر رشتہ داروں کو مطلع کیا اور اسکے خیالات سے آگاہ کیا۔

یہ بندہ فیس بک اور واٹس ایپ پر نوجوانوں کو گمراہ کرتا تھا اور 2018 میں تھانہ سربند میں ایک مدرسہ کے طالب علم نے اسکے خلاف باقاعدہ ایف۔آئی۔آر درج کروائی۔ جسکے ساتھ رنگ روڈ پر واقع Hyper Mall میں اسکی ملاقات ہوئی تھی اور یہ دونوں فیس بک فرینڈز تھے۔

اس بندے کیخلاف تحفظ ختم بنوت کے صوبائی امیر مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے باقاعدہ فتوی جاری کیا تھا۔

الغرض یہ بندہ اپنے کفریہ عقائد سے باز نہیں آرہا تھا اور باقاعدہ اسکا پرچار کر رہا تھا۔ واضح رہے کہ کہ اچینی اور سفید ڈھیری میں قادیانیت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس بندے نے بہت سارے نوجوانوں کے عقائد خراب کئے ہیں۔