Aaj TV News

BR100 4,328 Decreased By ▼ -18 (-0.41%)
BR30 21,976 Decreased By ▼ -107 (-0.48%)
KSE100 41,701 Decreased By ▼ -105 (-0.25%)
KSE30 17,606 Decreased By ▼ -53 (-0.3%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 309,015 798
DEATHS 6,444 7

یکا یک یہ کیا ہوگیا؟ دو برس سے ایک دوسرے کو چور، ڈاکو کہنے والے اچانک دوست کیسے بن بیٹھے؟ سندھ کی صوبائی حکمران پیپلز پارٹی، کراچی کے بچے چکے بلدیاتی اداروں کی (بقول میئرصاحب) بے اختیار حکمران ایم کیو ایم اور دو برس سے حزب اختلاف کی طرح پاکستان کی حکومت چلانے والی تحریک انصاف کراچی کے مسائل کے حل کیلئے ایک ہوگئے! یا الہی یہ ماجرا کیا ہے؟

وفاق کی جانب سے پہلے کراچی کے نالوں کی صفائی کیلئے فوج بھیجنے اور پھر شہر کا کنٹرول سمبھالنے کے بازگزشت سے پیپلز پارٹی گھبرائی ہوئی دکھائی دی، وزرا بیان تو دیتے رہے کہ فوج کو خوش آمدید کہتے ہیں، این ڈی ایم اے صرف 3 نالے صاف کررہی ہے باقی کا تو صوبائی حکومت کا ہی ہے مگرمیئر کراچی نے دعوٰی کیا کہ فوج انکے شور مچانے پر بھیجی گئی ہے۔ لیکن تحریک انصاف کے رہنما سمجھے کہ اب وہ بھی وزیر اعلٰی بنیں گے پھر کسی نا کسی کو میئر شپ بھی مل جائے گی لہذا تعلیم کے کاروبار سے وابسطہ افراد سمیت سیاست میں بہت سی نووارد شخصیات کو بھی مئیر کی کرسی کے خواب آنے لگے لیکن سب کی آنکھ لگتا ہے جلد ہی کھل گئی۔

کراچی میں سپریم کورٹ کی سماعت کےدوران چیف جسٹس آف پاکستان کے ریماکس کے بعد بہت سے لوگوں کو پریشانی ہوئی، نا جانے کیوں وزیر اعلٰی سندھ اچانک اسلام آباد گئے؟ اور وہاں ناجانے کس سے یا کس کس سےملے؟ بلاول بھٹو نے ہنگامی پریس کانفرنس میں دعوٰی کیا کہ سندھ کے دارالحکومت (کراچی) پر قبضے کیلئے عدالتی کور کی کوشش کی جارہی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی دیا کہ وہ جانتے ہیں عدالت عوام اور جمہوریت کے ساتھ ہے۔ کیا پیغام دینا مقصود تھا یا عدالت سے متعلق اپنی معلومات عوام سے شئیر کرنی تھیں؟

بلاول کو یہ شکوہ بھی ہے کہ وفاق سندھ کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت پیسے نہیں دے رہا لیکن ملک و قوم کی خاطر قانون سازی میں پیپلز پارٹی ی بھرپور شریک بھی ہے اور عمران خان حکومت کی ساتھی بھی۔ اور اب کراچی کی خاطر اس کے مسائل یا وسائل کی خاطر یہ کرشمہ ہوگیا کہ تینوں جماعتیں ایک پیج پر آگئیں لیکن ابھی یہ معلوم نہیں یہ پیج ہے کس کتاب کا؟ اور کیا یہ کتاب کا آخری صفحہ ہے یا پھر کہانی میں پھر ٹوئسٹ آئے گا؟

دو روز سے نہ حلیم عادل شیخ نے پیپلز پارٹی کے خلاف منہ سے آگ اگلی ہے اور نہ سعید غنی نے انکے الزامات کا ترکی با ترکی جواب دیا ہے، خرم شیر زمان کی لفطی توپیں بھی خاموش ہیں اور فردوس شمیم نقوی بھی آج کل سیاس سے زیادہ توجہ تعمیرات کے کاروبار پر دے رہے ہیں، میئر وسیم اختر بھی کوئی کڑوی بات یا بے اختیار ہونے کا شکوہ نہیں کررہے ہیں ناصر شاہ کو دھیمے لہجے میں ہی صحیح مگر ماضی میں نالہ صفائی پر خرچ ہونے والی رقوم کا ذکر کرنا پڑے۔

سب کو اشارہ مل گیا ہے کہ کراچی کے کنٹرول خود سمبھالنے کے سوا بھی مسئلہ کا حل ہے، ویسے بھی "تین تگاڑا۔۔۔ کام بگاڑا"، لہذا معاملے کو چوتھے فریق کے سپرد کردینا زیادہ بہتر ہوگا، چوتھا فریق کوئی بھی ان تینوں کو یہ برداشت نہیں، چلین ایسے ہی صحیح۔۔۔۔ اللہ آپ لوگوں کو ہی توفیق دے کہ آپ ایسے ہی ایک رہیں اور کراچی کو بدحالی سے نکالیں، اس یتیم شہر کو میئر افغانی والا نا صحیح نعمت اللہ خان اور مصطفٰی کمال دور کا کراچی ہی بنادیں۔

کاشف فاروقی

درج بالا تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہوسکتی ہے، آج نیوز اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔